تمل ناڈو کانگریس کے سربراہ کے ایس الاگیری نے پیر کو آر ایس ایس کا موازنہ داعش کیا ہے ۔ ایس الاگیری نے کہا کہ داعش کی طرح آر ایس ایس بھی اپنے نظریات کی مخالفت کرنے والوں سے نفرت کرتا ہے۔
نئی دہلی (آئی این ایس انڈیا )
اداکاری سے سیاست کے میدان میں قدم رکھنے والے معروف اداکارکمل ہاسن کے ایک بیان پر تمل ناڈو میں سیاست ابال پر ہے ۔ تمل ناڈو کانگریس کے سربراہ کے ایس الاگیری نے پیر کو آر ایس ایس کا موازنہ داعش کیا ہے ۔ ایس الاگیری نے کہا کہ داعش کی طرح آر ایس ایس بھی اپنے نظریات کی مخالفت کرنے والوں سے نفرت کرتا ہے۔ وہ کمل ہاسن کے گوڈسے اور ہندو دہشت گردی کے بیان پر اپنا موقف پیش کررہے تھے ۔اس کے ساتھ ہی ایس الا گیری نے کہا کہ میں کمل ہاسن کے بیان کی حمایت کرتا ہوں۔ میں نے ان کے بیان سے سوفیصدی نہیں ؛بلکہ ایک ہزار فیصدی متفق ہوں۔انہوں نے کہا کہ جیسے ہندو مذہب میں آر ایس ایس ہے، ویسے ملعون جہادی تنظیم داعش ہے ۔ آر ایس ایس، جن سنگھ اور ہندو مہاسبھا کا واضح موقف ہے کہ جو اس کے نظریات کی مخالف اور تنقید کرے،اسے سرے سے ختم کر دو۔ وہیں، دوسری طرف تامل ناڈو حکومت میں وزیر اورانادرمک لیڈر کیٹی راجندر بالاجی نے کہا ہے کہ ہندو دہشت گردی پر دیے گئے بیان کے لئے کمل ہاسن کی زبان کاٹ لی جانی چاہئے۔ انہوں نے اقلیتوں کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے ایسا بیان دیا ہے۔ راجندر بالاجی نے مزید کہا کہ کسی ایک شخص کی حرکت کے لئے پوری کمیونٹی کو قصور وار نہیں کہا جا سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کو اس معاملے میں نوٹس لینا چاہئے اور اداکار کے خلاف ایکشن لیناچاہئے۔ اس کے ساتھ ہی راجندر بالاجی نے مطالبہ کیا کہ کمل ہاسن کی پارٹی پربھی پابندی لگائی جائے۔راجندر بالاجی اس سے پہلے بھی اپنے بیانات سے چرچا میں رہ چکے ہیں۔ کچھ دنوں پہلے انہوں نے کہا تھا کہ:’ مودی اس کے ملک اور ہمارے ’باپ ‘ہیں۔ واضح ہو کہ تمل ناڈو کے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کمل ہاسن نے کہا تھا کہ یہاں پر مسلمان موجود ہیں، میں اس لیے ایسا نہیں بول رہا ہوں؛ لیکن آزاد بھارت میں پہلا دہشت گرد ہندو ہی تھا، اور اس کا نام ’ ناتھورام گوڈسے‘ تھا۔کمل ہاسن نے کہا تھا کہ اس کی شروعات اس وقت ہوئی تھی، جب ناتھو رام گوڈسے نے بابائے قوم مہاتما گاندھی کا بے رحمی سے قتل کیا تھا ۔کمل ہاسن ’اری واکو ریچا‘ میں ہونے والے ضمنی انتخابات کے لئے تشہیر کر رہے تھے۔بابائے قوم مہاتما گاندھی کی گولی مار کر قتل کرنے والے ناتھورام گوڈسے پر بھی تنازعہ ہوتا رہا ہے۔ ملک کے کچھ حصوں میں ناتھورام کا مندر بھی ہے، جہاں اس کی پوجا کی جاتی ہے۔ وہیں کانگریس صدر راہل گاندھی آر ایس ایس اور بی جے پی کو گوڈسے کے نظریات والا بتاتے رہے ہیں۔ اس معاملے پر آر ایس ایس کی طرف سے ان پر ہتک عزت کا کیس بھی کیا جا چکا ہے۔






