ہندوستانی افواج کے پاس گولہ بارود کی کوالیٹی انتہائی گھٹیا ۔ سرکارکی بے توجہی سے دفاعی نظام خطرے میں

فوج نے اپنی فکر کا اظہار ڈیفنس پروڈکشن کے سکریٹری اجے کمار کے سامنے کیا ہے۔ فوج کی شکایت سننے کے بعد سکریٹری اجے کمار نے فوج سے سبھی ہتھیار اور گولہ بارود کے مسائل سے متعلق کاغذات جمع کرنے کو کہا ہے
نئی دہلی (ایم این این )
پی ایم مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی فوج کی بہادری کے نام پر لوک سبھا انتخاب لڑ رہی ہے۔ لیکن اس نے سیاست کے علاوہ فوج میں بہتری کے لیے کوئی خاص قدم نہیں اٹھایا ہے۔ اس کی تازہ مثال ایک رپورٹ سے سامنے آئی ہے۔ انگریزی اخبار ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ کی رپورٹ کے مطابق فوج نے وزارت دفاع کو جانکاری دی ہے کہ گھٹیا کوالیٹی کے گولہ بارود کی وجہ سے ہونے والے حادثات میں فوجیوں کی جانیں جا رہی ہیں، لگاتار فوجی زخمی ہو رہے ہیں اور مشینری کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 105 ایم ایم ہندوستانی فیلڈ گنس، 105 ایم ایم لائٹ فیلڈ گنس، 130 ایم ایم ایم اے 1 بندوق، 40 ایم ایم ایل-70 ائیر ڈیفنس بندوق کے ساتھ لگاتار حادثے ہو رہے ہیں۔ یہی نہیں ٹی-72، ٹی-90 اور ارجن بیٹل ٹینکس کی مین گنس کے ساتھ بھی مسئلہ آرہا ہے۔ بتا دیں کہ او ایف بی کے تحت 41 کارخانے ہیں جو 12 لاکھ سے زیادہ جوانوں ولی فوج کو خاص طور سے گولہ بارود کی فراہمی کرتے ہیں۔
بتایا جا رہا ہے کہ فوج نے اپنی فکر کا اظہار ڈیفنس پروڈکشن کے سکریٹری اجے کمار کے سامنے کیا ہے۔ فوج کی شکایت سننے کے بعد سکریٹری اجے کمار نے فوج سے سبھی ہتھیار اور گولہ بارود کے مسائل سے متعلق کاغذات جمع کرنے کو کہا ہے۔
بتا دیں کہ او اے ایف بی کے 41 کارخانوں کا سالانہ کاروبار تقریباً 19 ہزار کروڑ روپے کا ہے۔ مانا جا رہا ہے کہ او ایف بی کے پروڈکشن کے معیار میں گراوٹ کا اثر ملک کی جنگی صلاحیت پر پڑے گا۔ وہیں ان الزامات کے بعد او ایف بی کا کہنا ہے کہ وہ فیکٹری کے کوالٹی کنٹرول ڈپارٹمنٹ کے ذریعہ سخت تجزیہ کے بعد ہی فوج کو سپلائی کرتا ہے۔ ساتھ ہی او ایف بی نے کہا ہے کہ فوج کس طرح گولہ بارود کا رکھ رکھاو کرتی ہے، اس کی جانکاری اس کے پاس نہیں ہے۔
اس سے پہلے بھی فوج کے ایک جوان نے جوانوں کو دیئے جانے والے کھانے پر سوال اٹھایا تھا۔ جنو ری2017 میں تیج بہادر یادو نے یہ الزام عائد کیا تھا ”ہمیں ناشتہ میں بغیر کسی سبزی یا اچار کے ساتھ صرف ایک پراٹھا اور چائے ملتی ہے۔ ہم طویل ڈیوٹی کرتے ہیں اور گھنٹوں تک کھڑے رہتے ہیں۔ دوپہر کے کھانے میں ہمیں روٹی کے ساتھ ایک ایسی دال ملتی ہے جس میں صرف ہلدی اور نمک ہوتا ہے۔ تیج بہادر نے تب اپنی باتوں میں کھانے کی کوالٹی پر سوال اٹھایا تھا، ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا تھا کہ ایسا کھانا کھا کر ہم ملک کی سرحد کی سیکورٹی کیسے کریں گے؟“