لوک سبھا کا یہ نتیجہ آنے کے بعد ایس پی سربراہ اکھلیش یادو ، بی ایس پی سربراہ مایاوتی ، آر جے ڈی لیڈر تیجسودی یادو سمیت اس طرح کے تمام علاقائی لیڈروں کی سیاست میں خطرے پڑ گئی ہے اور اب مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور ان کے ساتھ نہیں رہ گیاہے ۔ ان کی ذات اور برداری کے لوگ بھی بی جے پی میں شفٹ ہوگئے ہیں
نئی دہلی (ملت ٹائمز)
عام انتخابات 2019 کے نتائج نے واضح کردیاہے کہ بہار اتر پردیش سمیت متعدد ریاستوں میں ذات کے نام پر ووٹنگ نہیں ہوئی ہے ۔ خاص طور پر یادو ،دلت ،آدی واسی اور دیگر چھوٹی ذاتی کے لوگوں نے یکطرفہ طور پر بی جے پی کو ووٹ دیاہے ۔ سماج وادی پارٹی ، بہوجن سماج وادی پارٹی ۔ راشٹریہ لوک دل ، راشٹریہ جنتادل ، راشٹریہ لوک سمتا جیسی پارٹیوں کو ان کی ہی برداری کے لوگوں نے مسترد کرتے ہوئے ووٹ نہیں دیاہے ۔ بہار اور اتر پردیش کے نتائج کا جائزہ بتاتاہے کہ دونوں صوبوں میں علاقائی اور کانگریس پارٹیوں کے امیدواروں کو صرف مسلمانوں نے ووٹ دیا ہے بقیہ کسی بھی برداری اور ذات کا ووٹ نہیں ملا۔ یہی وجہ ہے کہ جہاں مسلمان تنہا فیصلہ کن پوزیشن میں تھے وہاں مذکورہ پارٹیوں کے امیدوار جیتنے میں کامیاب رہے بقیہ جگہ صفایا ہوگیا ۔
بہار کی 40 لوک سبھا سیٹوں میں سے صرف کشن گنج میں کانگریس نے جیت حاصل کی بقیہ 39 سیٹوں پر این ڈی اے نے قبضہ کرلیا ۔ ارریا ،کٹیہار،پورنیہ اور سیوان میں بھی مہا گٹہھبندن کے امیدوار نہیں جیت پائے جہاں 40 سے 46 فیصد کے درمیان مسلما ن ہیں جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ایک بھی غیر مسلم کا ووٹ ان جگہوں پر بی جے پی کے علاوہ کسی اور کو نہیں گیا ۔ اتر پردیش میں بھی ایس پی بی ایس پی کو جن 15 سیٹوں پر کامیابی ملی ہے اس کی واحد وجہ ان جگہوں پر مسلمانوں کی بھاری اکثریت اور ان کا اتحاد ہے۔
لوک سبھا کا یہ نتیجہ آنے کے بعد ایس پی سربراہ اکھلیش یادو ، بی ایس پی سربراہ مایاوتی ، آر جے ڈی لیڈر تیجسودی یادو سمیت اس طرح کے تمام علاقائی لیڈروں کی سیاست میں خطرے پڑ گئی ہے اور اب مسلمانوں کے علاوہ کوئی اور ان کے ساتھ نہیں رہ گیاہے ۔ ان کی ذات اور برداری کے لوگ بھی بی جے پی میں شفٹ ہوگئے ہیں تاہم مسلمان اب تک ان کے ساتھ برقرار ہیں ۔






