کشن گنج میں ڈاکٹر محمد جاوید کو خود نہیں تھی جیت کی امید ۔اختر الایمان کی شکست پر عوام وخواص سبھی میں حیرانگی

کشن گنج لوک سبھا سیٹ سے الیکشن لڑنے کیلئے گذشتہ چار سالوں سے ایم آئی ایم امیدوار اختر الایمان میدان میں تھے ، ہر سطح پر انہوں نے محنت کی ۔چار سالوں کے دوران تقریبا سبھی علاقہ اور پنچایت تک انہوں نے پہونچنے کی کوشش کی
کشن گنج (ملت ٹائمز)
کشن گنج لوک سبھا سیٹ سے الیکشن لڑنے کیلئے گذشتہ چار سالوں سے ایم آئی ایم امیدوار اختر الایمان میدان میں تھے ، ہر سطح پر انہوں نے محنت کی ۔چار سالوں کے دوران تقریبا سبھی علاقہ اور پنچایت تک انہوں نے پہونچنے کی کوشش کی ۔ مختلف خیال ،مسلک ،ذات اور برداری کے لوگوں سے رابطہ ہموار کیا ۔ اخیر کے دنوں میں انہوں نے مہم اور تیز کردی ۔ مجلس کے سربراہ اسد الدین اویسی نے بھی انتخابی مہم میں حصہ لیا اور متعدد جلسوں کو خطاب کیا ۔ رضاکارانہ طور پر ملک بھر سے لوگوں نے کشن گنج جاکر مہم چلائی ،سوشل میڈیا پربھی منظم انداز میں انتخابی مہم چلائی گئی ۔ملک بھر کے نامور دانشوران ،علماءاور قائدین اختر لایمان کی کامیابی کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا دوسری طرف کانگریس ہائی کمان نے بھی کشن گنج کی سیٹ پر خصوصی توجہ نہیں دی ۔کسی بھی اہم لیڈر نے وہاں انتخابی مہم میں حصہ نہیں لیا ۔ کانگریسی لیڈروں کا مانناتھاکہ کشن گنج کی سیٹ کانگریس نہیں نکال پائے گی ۔ تمام تر سروے میں یہی بتایاگیا کہ اختر الایمان کی کامیابی یقینی ہے ۔ دوسرے نمبر پر جے ڈی یو امیدوار محمود اشرف ہوں گے لیکن 23مئی کو نتیجہ آنے کے بعد سبھی حیران وششد رہ گئے ہیں۔ اختر الایمان تیسرے نمبر پر پہونچ گئے ۔ کانگریس امیدوار ڈاکٹر محمد جاوید تیسر نمبر سے پہلے نمبر پر پہونچ گئے ،دوسرے نمبر پر محمود اشرف آگئے ۔
کانگریس امیدوادر ڈاکٹر محمد جاوید نے تین لاکھ ساٹھ ہزار ووٹ حاصل کیا ۔ محمود اشرف کو تین لاکھ ووٹ ملا جبکہ اختر لایمان نے دو لاکھ 96 ہزار ووٹ حاصل کیا ۔یہاں بقیہ 13 امیدواروں کو بھی 6 ہزار سے 15 ہزار کے درمیان ووٹ ملا ۔ نوٹا بٹن کا بھی 15 ہزار رائے دہندگان نے استعمال کیا ۔ کاﺅنٹ ہال میں موجود لوگوں نے بتایاکہ ڈاکٹر محمد جاوید کو اپنی جیت کی امید نہیں تھی ۔ کاﺅنٹ شروع ہونے کے کافی دیر بعد وہ وہاں پہونچے تھے ،ان کے ساتھ آدمی بھی دو تین تھے ۔ شروع میں دس راﺅنڈ تک وہ دوسرے نمبر پر تھے تو خود ان کا احساس تھاکہ اس سے آگے ہم نہیں بڑھ پائیں گے لیکن جبکہ وہ پہلے نمبر پر آگئے تب انہیں احساس ہوا کہ ہماری پوزیشن اچھی ہے اور ہم جیت درج کرسکتے ہیں ۔چناں چہ ان کی پہلی پوزیشن برقرار رہی اور جیت حاصل کی ۔
اختر الایمان کی شکست کے بعد پورے ملک کے مسلمانوں میں مایوسی اور شرمندگی ہے ۔ سب کو اختر الایمان کی جیت کی امید تھی لیکن کشن گنج کے عوام نے کانگریس کے حق میں اپنا فیصلہ سنادیا ۔ لیکن کشن گنج میں یہ کیسے ہوا ،کس طرح اختر الایمان کی لہر کانگریس میں تبدیل ہوگئی اس کا صحیح جواب کسی بھی تجزیہ نگار کے پاس نہیں ہے ۔ سبھی حیران اور ششد رہیں ۔ قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ بہار کی 40 لوک سبھا سیٹ میں صرف ایک سیٹ پر مہاگٹھبندھن کو کامیابی ملی ہے اور وہ کشن گنج کی سیٹ ہے ۔
بہار کا نتیجہ مجموعی طور پر شک کے دائرے میں ہے ،کچھ لوگ ای و ی ایم ہیک کرنے کا الزام عائد کررہے ہیں تو کچھ لوگوں کا مانناہے کہ دلتوں ،یادو اور آدی واسیوں نے مہاگٹھبندھن کے بجائے یکطرفہ طور پر مودی کو ووٹ دیا ہے ۔

SHARE