یوگی مودی میں ٹکراؤ یا انتخاب کی تیاری 

یوگی مودی میں ٹکراؤ یا انتخاب کی تیاری 

ڈاکٹر مظفر حسین غزالی 

کووڈ کی دوسری لہر میں حکومت کی لاپرواہی، نااہلی، نکمے پن، بے حسی اور مغربی بنگال کی ہار نے یوگی، مودی اور بی جے پی کی مقبولیت کو کم کیا ہے ۔ بی جے پی نے اپنی حکومت، نریندر مودی کی شبیہ سدھارنے اور عوام کا دھیان بھٹکانے کے لئے کئی قدم اٹھائے ۔ ابتدا میں ملک کو مثبت کا درس دیا گیا ۔ حالات سے گھبرانے کے بجائے سوچ کو مثبت رکھنے پر زور دیا گیا ۔ اس کے بعد دلکش دیپ جیسے خوبصورت، پر امن علاقے کو تباہ و برباد کرنے کی سازش سامنے آئی ۔ یہ مدا کئی دن تک میڈیا کی سرخیوں میں بنا رہا ۔ لیکن حکومت سے عوام کی ناراضگی بدستور قائم رہی، خود بی جے پی لکش دیپ کے کارکنان نے سماج کو بانٹنے والے حکومت کے فیصلوں کی کھل کر مخالفت کی ۔ پھر اترپردیش کے ماحول کو فرقہ وارانہ بنیاد پر گرمانے کی کوشش کی گئی ۔ بارہ بنکی میں انتظامیہ نے سو سال پرانی مسجد کو شہید کر دیا ۔ جبکہ الہ آباد ہائی کورٹ نے اپنے ایک حکم نامہ میں مسجد کو نہ گرائے جانے کی ہدایت دی تھی ۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ اناؤ میں سبزی فروش فیصل کو کورونا کرفیو پر عمل کرانے کے بہانے پولس نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا ۔ مگر بی جے پی سماج کو بانٹنے میں کامیاب نہیں ہوئی ۔ اسے اترپردیش کے پنچایت الیکشن میں ایک تہائی سیٹیں بھی نہیں مل سکیں ۔ اس کے بعد شروع ہوا ڈیمیج کنٹرول کا ہائی وولٹیج ڈرامہ ۔

واضح رہے کہ اترپردیش میں کووڈ کی دوسری لہر کے دوران جس طرح انسانی جانوں کی ناقدری ہوئی اس نے ریاستی حکومت کے سارے دعووں کی قلعی کھول دی ۔ گنگا میں بہتی اور اس کے کنارے ریت میں دفن لاشوں نے دنیا کے سامنے ملک کا سر شرم سے جھکا دیا ۔ عام آدمی کی طرف توجہ دینا تو دور خود بی جے یو کے ارکان پارلیمنٹ و اسمبلی اور ان کے اہل خانہ کو وقت پر طبی مدد نہیں مل سکی ۔ جس کی وجہ سے کئی ممبران اسمبلی کو اپنی جان گنوانی پڑی ۔ پارٹی اراکین تک لوگوں کی مدد نہیں کر پائے ۔ وزیراعلیٰ کے قریب یوں کے علاوہ کوئی کسی کی سننے والا نہیں تھا ۔ نتیجہ کے طور پر یوگی ادتیہ ناتھ کو اپنے طریقہ کار کے لئے عوام کے ساتھ اپنے وزراء، ممبران پارلیمنٹ اور اسمبلی کی ناراضگی بھی جھیلنی پڑی ۔ کئی وزراء و ممبران اسمبلی نے وزیراعلیٰ یوگی کو خط لکھ کر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ۔ ایسے میں بی جے پی کو 2022 کے یوپی الیکشن میں ناکامی کا ڈر ستانے لگا ۔

آر ایس ایس نے بی جے پی کو مشورہ دیا کہ ریاستی انتخابات میں نریندرمودی کو چہرہ نہ بنایا جائے ۔ اس سے مودی جی کی شبیہ خراب ہوتی ہے ۔ عوام وزیراعظم کو صوبائی لیڈران کے برابر آنکنے لگتے ہیں ۔ اب ایسا کیا ہوا کہ سنگھ کو اس طرح کا مشورہ دینا پڑا جبکہ سات سالوں کے دوران ملک کا ہر چھوٹا بڑا الیکشن مودی جی کے چہرے پر لڑا گیا ہے ۔ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق سات سال میں 202 دن انتخابی ریلیوں کو خطاب کرنے میں لگائے ہیں ۔ دراصل آر ایس ایس نریندرمودی کی کم ہوتی مقبولیت کو لے کر پریشان ہے ۔ اسے لگتا ہے کہ اگر اسی طرح گراف گرتا گیا تو بی جے پی کے لئے 2024 کا الیکشن جیتنا مشکل ہو جائے گا ۔ دوسری طرف سنگھ نے یوپی کو لے کر بھی تشویش ظاہر کی تھی ۔ جس کے بعد بی جے پی تنظیمی امور کے سکریٹری بی ایل سنتوش اور یوپی کے نگراں راھاموہن سنگھ نے یوپی کا دورہ کرکے پارٹی کے تمام ممبران اسمبلی اور وزراء سے الگ الگ ملاقات کی ۔ لیکن یوگی ادتیہ ناتھ نے انہیں کوئی توجہ نہیں دی ۔ راھا موہن سنگھ نے میٹنگ کے دوران پارٹی کارکنان کا زمینی سطح پر رابطہ کمزور ہونے پر تشویش ظاہر کی ۔ انہوں نے یوپی کی گورنر آنندی بین پٹیل کو ملاقات کرکے بند لفافہ سونپا ۔ میڈیا کی مانیں تو اس میں یوگی کی کارکردگی سے غیر مطمئن 250 ممبران اسمبلی کے دستخط والا خط تھا ۔ اسی کے بعد یہ قیاس لگایا جانے لگا کہ یوگی ادتیہ ناتھ کی جگہ کسی اور کو یوپی کا وزیر اعلیٰ بنایا جا سکتا ہے ۔

میڈیا سے سوشل میڈیا تک یوگی اور مودی کے درمیان اختلافات کو لے کر بحث چھڑ گئی ۔ ٹکراؤ کی وجہ نریندرمودی کے قریبی سابق آئی اے ایس اروند شرما کو یوپی حکومت میں کوئی اہم ذمہ داری نہ دینا بتایا گیا ۔ یہ خبریں بھی آئیں کہ مرکزی قیادت نے یوگی ادتیہ ناتھ کی کارکردگی پر نظر رکھنے کے لئے اے کے شرما کو اترپردیش بھیجا ہے ۔ مگر یوگی شرما کو کوئی اہم ذمہ داری دینے کو تیار نہیں تھے ۔ مودی یوگی کا ٹکراؤ کئی ہفتہ تک میڈیا اور عوام میں موضوع بحث بنا رہا ۔ آخر یوگی ادتیہ ناتھ کو دہلی طلب کر عوام اور یوگی سے اختلاف رکھنے والوں کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی گئی کہ مرکز ہر بات سے واقف ہے اور غلطی کے لئے بازپرس کر سکتا ہے ۔ یوگی دہلی آکر امت شاہ، مودی اور جے پی نڈا سے الگ الگ ملے ۔ ملاقات کے دوران کیا باتیں ہوئیں یہ کوئی نہیں جانتا البتہ اس کے بعد نریندرمودی، امت شاہ، جے پی نڈا نے یوپی کے حالات اور وہاں ہونے والے انتخابات پر میٹنگ میں غور وخوض کیا ۔

ماہرین کا ماننا ہے کہ یوگی ادتیہ ناتھ کو آر ایس ایس کی حمایت حاصل ہے ۔ وہ سنگھ کے وسیع منصوبہ کا حصہ ہیں ۔ آر ایس ایس کو ان جیسے کٹر ہندو وادی گیروا کپڑے پہنے والے شخص کی ضرورت ہے ۔ سنگھ کی سفارش پر ہی یوگی کو یوپی کا وزیراعلیٰ بنایا گیا تھا ۔ جبکہ کیشو پرساد موریہ یوپی بی جے پی کے صدر تھے اور 2017 کا الیکشن ان کی اگوائی میں لڑا گیا تھا ۔ وزیراعلیٰ کے لئے کیشو پرساد اور منوج سنہا کا نام لیا جا رہا تھا لیکن اچانک یوگی کو وزیراعلیٰ بنا دیا گیا ۔ اس لئے بی جے پی یوگی ادتیہ ناتھ کو ہٹانے کا جوکھم نہیں لے گی ۔ یوپی اسمبلی کا چناؤ بھی یوگی کی رہنمائی میں لڑا جائے گا ۔ 2017 کا انتخاب غیر جاٹو دلت اور غیر یادو پچھڑے کی سوشل انجینئرنگ کے فارمولے پر لڑا گیا تھا ۔ یوگی کی وجہ سے یہ سمیکرن اب باقی نہیں ہے ۔ اس لئے اگلا الیکشن فرقہ وارانہ پولرائزیشن کی بنیاد پر ہونے کا امکان ہے ۔ اس کے لئے بی جے پی کو یوگی کی ضرورت ہے ۔ یوگی اور مودی کے بیچ مصنوعی تناؤ سے بی جے پی کووڈ سے پیدا ہوئے حالات کی طرف سے دھیان ہٹانے میں کسی حد تک کامیاب ہوئی ہے ۔

کتنا عجیب ہے کہ یوپی کے چناؤ کو لے کر غور وفکر ہو رہا ہے ۔ میٹنگ ہو رہی ہے لیکن بی جے پی نے کورونا سے نبٹنے کے لئے جو محنت کرنی چاہئے تھی وہ نہیں کی ۔ کوئی میٹنگ نہیں کی ابھی کووڈ سے پوری طرح نجات نہیں ملی ہے ۔ لیکن الیکشن کی تیاری شروع ہو گئی ہے ۔ پارٹی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بی جے پی رام مندر کو مرکز میں رکھ کر یوپی اسمبلی انتخابات کی تشہیر کا خاکہ تیار کرے گی ۔ انتخابی مہم دو مرحلے میں چلائی جائے گی ۔ پہلے مرحلے میں حکومت اپنے اچھے کاموں جسے کووڈ کے دوران پارٹی کی طرف سے کئے گئے فلاحی کام، غریبوں کے لئے راشن، مفت کورونا ویکسین کی فراہمی وغیرہ پر فوکس ہوگا ۔ لیکن جیسے ہی انتخاب نذدیک آئے گا عوام کا دھیان رام مندر، ہندوتوا وغیرہ ان مدوں کی طرف لے جایا جائے گا جن سے وہ جزبات طور پر جڑے ہوں گے ۔ رام مندر کو اپنی کارکردگی بتا کر اسے بھونانے کی کوشش کی جائے گی ۔ جذباتی مدوں سے لوگوں کو جوڑنے کے لئے آنے والے دنوں میں بی جے پی اپنے کارکنوں کو زمین پر اتارنے کے لئے ایودھیا تو صرف جھانکی ہے، کانشی متھرا باقی ہے نام سے مہم چلا سکتی ہے ۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یوگی مودی کے درمیان کا ٹکراؤ محض دکھاوا ہے ۔ لوگوں کا دھیان بھٹکانے کی کوشش ہے یا یوں کہیں کہ یہ انتخابی حکمت عملی کا حصہ ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عوام پنچایت چناؤ کی طرح اسمبلی انتخاب میں بھی اپنی ناراضگی کا اظہار کریں گے یا پھر بی جے پی کے پروپیگنڈہ میں بہہ کر اپنے دکھوں اور کووڈ کی وجہ سے چھوڑ کر جانے والے اپنے عزیزوں کو بھول جائیں گے ۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *