فطری صلاحیتوں کا ارتقا و لحاظ ضروری

فطری صلاحیتوں کا ارتقا و لحاظ ضروری

محمد شعیب ندوی

متعلم علی گڑھ مسلم یونیورسٹی علی گڑھ

  “فطرۃ اللہ التی فطر الناس علیھا لا تبدیل لخلق اللہ ذلک الدین القیم”

اللہ تعالیٰ کی وہ فطرت جس پر اس نے لوگوں کو پیدا کیا ہے، اللہ تعالیٰ کے بنائے کو بدلنا نہیں، یہی سیدھا دین ہے

فطرت کے معنی پیدائش کے ہے ہر فرد بلا تفریق مذہب و ملت اسلام اور توحید پر پیدا ہوتا ہے اس لئے توحید ان کی جبلت میں شامل ہوتی ہے لیکن بعد میں ماحول و دیگر عوارض فطرت کی اس آواز کو بند کردیتے ہیں اور انسان فطرت سے بغاوت کر کے کفر پر باقی رہتا ہے

حدیث میں اسی کو بیان کیا گیا ہے کہ”کل مولود یولد علی الفطرۃ الخ” (صحیح بخاری) ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، لیکن پھر اس کے والدین اس کو یہودی، عیسائی اور مجوسی وغیرہ بنا دیتے ہیں _

شاہ ولی اللہ صاحب فرماتے ہیں کہ ہر انسان کے اندر دو قوتیں قوت بہیمیہ اور قوت ملکوتی فطری طور پر ہوتی ہے یعنی اچھے اور برے کام پر آمادہ کرنے والی قوت ہوتی ہے انسان جس طرح کے افعال انجام دیتا ہے اسی طرح کی قوت تقویت پہنچتی رہتی ہے چنانچہ انسان اگر عمل صالح کرے گا تو اس کے اندر کی قوت ملکوتیہ کو تقویت ملے گی اور انسان کو اعمال صالحہ کی انجام دہی میں لطف و خوشی ہوگی

اگر عمل شنیع انجام دے گا اس کے اندر کی قوت بہیمیہ پرون چڑھے گی اور وہ حیوانی صفات سے متصف ہو کر معاشرہ کے لئے ناسور بن جائے گا

      اللہ تعالی نے مختلف النوع اور مختلف مزاج کے حامل افراد پیدا کئے ہیں ان کے اندر فطری طور پر مختلف صلاحیتیں ودیعت فرمائ ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ انسان اکتسابی طور پر اپنے مزاج کو تبدیل کر لیتا ہے لیکن فطری جھلک اس میں کافی حد تک باقی رہتی ہے اور اس کا کہی نہ کہی اثر دکھائی دینے لگتا ہے بہر حال انہی صلاحیتوں کی بنا پر دائرہ عمل الگ الگ ہے انسان کو اس کا مکمل لحاظ کرتے ہوئے سفر حیات طے کرنا چاہیے چنانچہ اسلام میں مرد و عورت دونوں دینی وانساني اعتبار سے یکساں ہے البتہ تقسیم کار اور دائرہ عمل دونوں کا الگ لگ ہے عورت کے ذمہ نسل انسانی کی تربیت اور مرد کے ذمہ عمل انسانی کا انتظام ہے اسی طرح علماء و حکماء کے میدان کار ہےحکمراں طبقہ کا کام تنظیم انسانی ہے تو اہل علم کا تعلیم انسانی ہے اگر حاکم عالم ہو تو دونوں کام بخوبی انجام دے سکتا ہے البتہ فطری طور پر دونوں صلاحیتوں کا امتزاج عنقاہے مثال کے طور پر اورنگ زیب عالمگیر رحمۃ اللہ ہے جنھوں نے بھت ہی منظم و مستحکم طریقہ سے نظام حکومت چلانے کے ساتھ گراںمایہ علمی سرمایہ بھی ورثہ میں چھوڑا ہے البتہ وہ علم مزاج شخص تھے اگر وہ پوری یکسوئی کے ساتھ اس طرف توجہ مرکوز کرتے تو اپنے والد کے تاج محل کے بالمقابل علم محل تعمیر کر دیتے اور جدید علوم وفنون کو اپنا کر علمی دنیا میں اتنا بیش قیمت کام کر جاتے جو آیندہ صدیوں میں علماء کے لئے مشعل راہ بن جا تا

یہ ذاتی رائے ہےاس کا مقصد کسی پر اعتراض یا کسی کی تحقیر قطعاً نہیں ہے صرف فطری صلاحیتوں کے دائرہ عمل اوران کا استعمال کر کے انسان ترقی کے اعلی سے اعلی معیار پر پہنچ سکتا ہے یہ بتلانا ہے

    ہر شخص کو فطری صلاحیت و استعداد کو پروان چڑھاتے رہنا چاہیے اور اپنے آپ کو صفات محمودہ سے آراستہ و پیراستہ کرتے رہنا چاہیے اس کے لیے مداومت عمل مجالس اولیاء ذکر الہی سے اپنے آپ کو تقویت دیتی رہنی چاہیے اور صفات رذیلہ سے اجتناب کرنا چاہیے صالح انسان ہی صالح معاشرہ کی تشکیل و تعمیر کر سکتا ہے

فاسد انسان معاشرہ و سماج کے امن و امان کو غارت کر دیتا ہے

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *