مملکتِ سعودی عرب کا شاہراہ فیل

مملکتِ سعودی عرب کا شاہراہ فیل

محمد انعام الحق قاسمی
ابنائے قدیم فضلائے دار العلوم ، مملکت سعودی عرب ، ریاض
الباحہ میں واقع شاہراہ فیل کے آثار
طیب و طاہر سرزمین ِمملکت سعودی عرب بہت سارے تاریخی یادگاروں سے مالا مال ہے جن کا وقوع رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ولادتِ باسعادت کے سال یا اُس سے قریب تر ہوا۔ یہ دعوتِ اسلامیہ کا ایک بہترین شاہد ہے۔ اس سرزمین نے تاریخ کا ایک بہت ہی معرکۃ الآراء واقعہ کا مشاہدہ کیا ہے وہ ابرہہ اشرم کا کعبہ مشرفہ کے ڈھانے کی ناپاک کوشش کرناہے۔ ان اہم نشانیوں میں سے ایک سب سے اہم شاہراہ فیل ہے ، وہ سڑک جس کے ذریعے ہجرت سے پہلے پہلی صدی میں ابرہہ اشرم اپنی دیوہیکل فوج کے ساتھ گذرا تھا تاکہ خانہ کعبہ کو منہدم کردے۔ قدیم زمانے میں جزیرہ نما عرب میں یہ سڑک اسلام سے پہلے کے ایک دور کی سب سے اہم باقیات میں سے ایک ہے۔ اس کی تاریخ عام الفیل سے مربوط ہے ، کیونکہ ابرہ اشرم اپنے ہاتھیوں کے ساتھ اسی شاہراہ سے گذرا تھا جبکہ وہ خانہ کعبہ کو مسمار کرنے مکہ مکرمہ آرہاتھا۔
جغرافیائی محل وقوع
شاہراہ فیل الباحہ علاقے کے شمال مشرق میں 24 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ الباحہ اور شاہراہ فیل کے درمیان کا فاصلہ تقریباً 70 کلومیٹر کاہے۔ شاہراہ فیل کی چوڑائی 4 میٹرہے۔ پہاڑی علاقوں سے اس شاہراہ کا منظر واضح طور پر دیکھا جاسکتاہے۔السراۃ نامی پہاڑ اس طرح اسکے بیچ میں آجاتاہے جو سڑک کا راستہ تقریبا سیدھے انداز میں منتخب کرنے کی درستگی کی عکاسی کرتا ہے۔
شاہراہِ فیل:
مملکتِ سعودی عرب میں شاہراہِ فیل ایک بہت ہی اہم آثار قدیمہ میں شمار کیاجاتاہے، جو خاص طور پر البقوم کے علاقے میں واقع ہے۔شاہراہ فیل الباحہ علاقے ، تربہ صوبہ اور ابوراکہ کے درمیان سے نکلتاہوا الخیالہ گاؤں سے گذرتاہے۔ یہ سڑک اپنی قوت و متانت کی ایک زندہ شاہکارہے ، کیونکہ اسے پتھروں سے ہموار کیا گیاہے۔ یہ شاہراہ ایک طویل مسافت پر پھیلاہواہے تاکہ اس پر ہاتھیوں کا جھنڈ ، گھوڑے اور جنگی جانور بآسانی سخت چٹانوں پر گذر سکیں۔ یہ سڑک الباحہ علاقے کے مشرقی حصے سے عبور کرتی ہوئی حجاز کی طرف جاتی ہے ۔یہ شاہراہ مکمل طور پر صحرائی علاقی میں ناپید ہوجاتاہے۔ اور پھر دیار غامد (حالیاً) حرۃ البقوم کے مشرق میں واضح پر نمودار ہوجاتاہے۔
اس سڑک کی سب سے امتیازی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ اس کو درمیانی حد سے بالکل ٹھیک طریقے سے ہموار کیا گیا ہے ، اور اس سڑک کے بیچ میں لمبے چوکھٹ نما چپٹے پتھروں کا استعمال کیاگیاہے جس کا مقصد یہ ہے کہ سیلاب یاتیز دھارپانی بآسانی بہہ نکلے اور اس سے سڑک متاثر نہ ہو۔ اس سڑک پر ، راتوں میں آرام کے لئے اسٹیشنوں کے نشانات موجود ہیں ، جو اصل میں پتھر کے ڈھیروں سے بنے ہوئے ہیں ، جو نہایت آسان طریقے سے تعمیر کیے گئے ہیں اور شکل و سائزمیں مختلف ہیں۔
شاہراہ ِ فیل کے اہم مقامات:
اس سڑک کو ایک فنکارانہ انداز میں ہموار کیا گیا تھا جو آج کے دور میں پچھلے برسوں سے تھوڑا سا فرق کے ساتھ اب بھی ویسا ہی ہے۔ڈرائنگ ، تحریروں کی کثرت اور پرانے زمانے کے نمبرات و نقوش اس سڑک کوبہت ہی نمایاں بنادیتے ہیں۔ ہاتھی کی شکلیں بھی بڑی فنکاری کے ساتھ منقوش ہیں۔اپنے شاندار شکل و ڈیزائن کی وجہ سے جو بھی اس پر چلتاہے اسکی طرف مائل ہوجاتاہے۔ اس شاہراہ پر سنگ میل نصب کئے گئے ہیں جو اس کے فاصلوں کی وضاحت کرتے ہیں ، جو سڑک کے اطراف میں دکھائی دیتی ہے۔ سڑک کو ایک خاص قسم کے پتھر سے یکساں طور پر ہموار کیا گیا تھا۔ دونوں طرف پتھریلی رکاوٹیں بچھائی گئی تھیں۔ سڑک ایک ایسے مختلف انداز میں بنائی گئی تھی جو وادیوں کے راہداریوں میں پلاسٹر سے مشابہت رکھتی تھی ، جو سڑک سے نالوں اور وادیوں کا پانی نکال پھینکتی تھی۔

قابل ذکر بات یہ ہےکہ اس شاہراہ کے خدوخال چند صدیوں کے درمیان قدرتی عوامل کی وجہ سے ناپید ہوگئے۔ سڑک کے کچھ حصے گھنے درختوں میں ڈھکے ہوئے ہیں ، سڑک کے کنارے مختلف فاصلوں پر تباہ شدہ عمارتیں ہیں۔ راستے میں سفر کرنے والے کارواں کے لئے آرامگاہ جو پہاڑوں کی چٹانوں سے بنے ہوئے تھے۔
اصحاب فیل کا واقعہ:
حبشہ کا ایک نصرانی ابرہہ اشرم نے یمن پر قبضہ کرلیا۔ عربوں کومکہ مکرمہ کے بیت اللہ الحرام کے حج سے روکنے کیلئے صنعاء ، یمن میں ایک بہت بڑا چرچ تعمیر کیا۔ اور لوگوں کو آرڈر دیاکہ اسکا حج کریں۔ لیکن کوئی شخص بھی اس کنیسہ کے حج کیلئے نہیں گیا۔ جس کی وجہ سے ابرہ اشرم بہت غصہ میں آگیا اور اس نے اپنے لشکر جرار جس میں ہاتھی، گھوڑے اور اونٹ شامل تھے لیکر بیت اللہ الحرام کو منہدم کرنے کیلئے نکل پڑا۔جب قریش کو اس کا علم ہوا تو راسے میں کچھ چھڑپیں بھی ہوئیں جس میں ابرہہ کامیاب ہوگیا ۔ اسطرح مکہ مکرمہ کے قریب پہنچ گیا۔
جونہی مکہ میں داخل ہوا تو اسکے فوجی اونٹوں کے ریوڑ ہنکالے گئے جن میں 200 اونٹ مکہ کے سردار عبد المطلب کے تھے۔عبد المطلب ابرہہ کے پاس گئے اپنے اونٹوں کا مطالبہ کیا تو ابرہہ کو بڑا تعجب ہوا کہ عبد المطلب سے یہ توقع نہ تھی بلکہ عبد المطلب کو تو ہمیں خانہ کعبہ کو منہدم کرنے سےروکنے کی بات کرنی تھی ۔ لیکن عبد المطلب نے ابرہہ کو جواب دیا کہ ان اونٹوں کا میں مالک ہوں اور خانہ کعبہ کا جو رب ہےوہ اسکی حفاظت کرے گا۔
ابرہہ نے مکہ میں داخل ہونے کی تیاری کی اور اپنی فوج سے کہا کہ وہ بڑے ہاتھی کو کعبہ کی طرف روانہ کردیں تاکہ اسے منہدم کردے اور یہاں تک کہ چھوٹے ہاتھی بھی اس کے پیچھے ہو گئے ، لیکن ہاتھی راستے میں بیٹھ گیا ، باربار مارنے پیٹنے کے باوجود آگے نہیں جاتاتھا اور جب یمن کی طرف واپس جانے کی ہدایت کی جاتی تو ہاتھی بھاگنے لگتا ، تو ابرہہ اپنی فوج کو واپس لینے پر مجبور ہوگیا، اور ان کی واپسی کے دوران خدا نے ابابیل پرندے بھیجے یہ پرندے چھوٹے سائز کے ہوتے ہیں اور ہر پرندے کی چونچ میں تین پتھر اور ان ہر پاؤں میں ایک ایک پتھر تھے اور وہ ان پتھروں کو ہاتھیوں اور فوجیوں پر مارتے تھے۔ اور جو زخمی ہوئے وہ ہلاک ہوگئے ، اور خدا نے غضبناک حالت میں کافروں کو جواب دیا اور ربِ کعبہ نے ان کافروں سے اس کی حفاظت کی۔
قال تعالى” الم تر كيف فعل ربك بأصحاب الفيل (1) الم يجعل كيدهم في تضليل (2) وأرسل عليهم طيرا أبابيل(3) ترميهم بحجارة من سجيل (4) فجعلهم كعصف مأكول(5) الفيل
اللہ تعالیٰ نے فرمایا ، ” کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے ہاتھی والوں سے کیا برتاؤ کی (1) کیا اس نے ان کی تدبیر کوبے کار نہیں بنا دیا تھا (2) اور اس نے ان پر غول کے غول پرندے بھیجے (3) جہاں پر پتھر کنکر کی قسم کے پھینکتے تھے (4) پھر انہیں کھائے ہوئے بھس کی طرح کر ڈالا (5) الفیل۔
امسال 2021 ء کے حج کے موقع پر ایک سعودی شہری عثمان الشاہین نے شاہراہ فیل کو 25 دنوں میں 675 کیلو مٹر کی مسافت اپنے خاص اونٹ کے ذریعے طے کرکے مکہ مکرمہ حج کیلئے پہنچے ہیں اور اسکے بہت سارے بقایا اور معالم اپنے کیمرے میں ریکارڈ کیاہے۔ اور کچھ ویڈیوس بھی اس شاہراہ فیل کے بارے میں YouTube پر اپلوڈ کئے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔::۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *