یوگی آدتیہ ناتھ: آگے کنواں پیچھے کھائی

پانچ ریاستوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات پر پوری دنیا کی نظریں ہیں۔ بالخصوص اترپردیش کے الیکشن کو بڑی توجہ سے دیکھا جا رہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اترپردیش ایک ایسی ریاست ہے جو دہلی کی حکومت بناتی اور بگاڑتی ہے۔ یعنی جس نے یو پی کو فتح کر لیا وہ فاتح دہلی ہو گیا۔ مرکزی حکومت اس کے زیر نگیں آگئی۔ پورے ملک پر اس کا قبضہ ہو گیا۔ یوپی اسمبلی انتخابات کو 2024 کے پارلیمانی انتخابات کا سیمی فائنل سمجھا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نہ صرف یہ کہ پوری بی جے پی بلکہ پوری حکومت یو پی کے قلعے کو بچانے میں مصروف ہے۔

ads

لیکن یوپی کے اس الیکشن میں بی جے پی اعلیٰ کمان نے ایک بہت بڑا داؤ کھیلا ہے۔ عام طور پر جب بھی کوئی داؤ لگایا جاتا ہے تو اس کے پس پردہ کوئی بڑی کامیابی حاصل کرنا ہوتی ہے۔ مذکورہ داؤ بھی بی جے پی اعلیٰ کمان اور بالخصوص وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کے لیے ایک بڑے مقصد کے لیے لگایا گیا ہے۔ جب بھی کوئی چیز داؤ پر رکھی جاتی ہے تو اس چیز کو بھی بچانے کی کوشش کی جاتی ہے اور اس ہتھیار سے اصل مقصد بھی حاصل کیا جاتا ہے۔ لیکن مودی اور شاہ کی جوڑی نے جو کچھ داؤ پر لگایا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ بڑی کامیابی تو حاصل کر لی جائے اور جو چیز داؤ پر لگائی گئی ہے اسے گنوا دیا جائے۔

اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ مودی شاہ کی جوڑی نہیں چاہتی کہ یوگی آدتیہ ناتھ دوبارہ وزیر اعلیٰ کے منصب پر فائز ہوں۔ وہ تو پہلے بھی نہیں چاہتے تھے۔ لیکن آر ایس ایس کے دباؤ میں انھیں قبول کرنا پڑا تھا۔ سچ بات یہ ہے کہ دونوں رہنماؤں نے پورے پانچ سال انھیں دل سے منظور نہیں کیا۔ اور اب جبکہ انتخابات ہو رہے ہیں تو انھیں یوگی کو کنارے لگانے کا ایک سنہرا موقع ہاتھ آگیا ہے۔ اس لیے زور ڈال کر ان کو انتخابی میدان میں جھونک دیا گیا ہے۔

دراصل یوگی آدتیہ ناتھ کافی بڑے بڑے خواب دیکھنے لگے تھے۔ انہی میں سے ایک خواب مودی کی جگہ لینا بھی ہے۔ وہ ملک کا وزیر اعظم بننا چاہتے ہیں۔ اور یہ بات مودی اور شاہ سے پوشیدہ نہیں ہے۔ کیونکہ بہرحال یہ دونوں جتنے بڑے سیاسی کھلاڑی ہیں یوگی نہیں ہیں۔ یوگی کا جو کچھ جلوہ ہے گورکھپور کے مٹھ یا مندر کی وجہ سے ہے۔ انھوں نے جانے کیا گھٹی پلائی تھی کہ مہنت اوید ناتھ نے ان کو اپنا جانشین بنا دیا۔ گورکھپور کا مندر بہت بڑا ہے۔ اس سے ہندووں کے ایک بڑے طبقے کی عقیدت وابستہ ہے۔ اسی لیے اس حلقے میں یوگی کو عقیدت کی نظروں سے دیکھا جاتا ہے۔ ان کا ایم پی بننا بھی اسی مندر کا مرہون منت تھا۔ ورنہ ان کا قد اتنا بڑا نہیں تھا۔ ہندووں کے ایک حلقے میں ان کی مقبولیت کی ایک وجہ ان کا ”مسلم دشمن” ہونا بھی ہے۔ انھیں مسلمان ایک آنکھ نہیں بھاتے۔ البتہ اپنی سیاسی مجبوریوں کی وجہ سے انھوں نے گورکھپور میں کچھ مسلمانوں کو مندر میں اہم عہدے دے رکھے ہیں۔

لیکن انھوں نے اپنے دل میں ہندوستان کا وزیر اعظم بننے کی تمنائیں پالنا شروع کر دیا۔ یعنی مودی اور شاہ سے پنگہ لے لیا۔ جو لوگ ان دونوں کو جانتے ہیں وہ بتاتے ہیں کہ ان کے سامنے ان کا کوئی بھی سیاسی حریف ٹک نہیں سکتا۔ امت شاہ تو موجودہ سیاست کے چانکیہ سمجھے جا رہے ہیں۔ ایسے میں یوگی کہاں ٹھہر سکتے ہیں۔ لہٰذا مودی اور شاہ نے انھیں ان کی مرضی کے برخلاف انتخابی میدان میں دھکیل دیا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ بی جے پی لیڈروں کے ایک بڑے طبقے کی خواہش ہے کہ یوگی ہار جائیں۔

یوگی نے کبھی اسمبلی الیکشن نہیں لڑا۔ وہ پانچ بار ممبر آف پارلیمنٹ رہے ہیں۔ جب انھیں یوپی کا وزیر اعلیٰ بنایا گیا تو اس وقت بھی وہ اسمبلی کے رکن نہیں تھے۔ انھوں نے الیکشن بھی نہیں لڑا۔ انھیں ڈر تھا کہ کہیں وہ ہار نہ جائیں۔ لہٰذا انھوں نے لیجس لیٹیو کونسل کے رکن بننے کو ترجیح دی یعنی ایم ایل اے نہیں بلکہ ایم ایل سی بنے۔ اس بار بھی ان کی خواہش تھی کہ انھیں ایم ایل سی بنایا جائے۔

لیکن پارٹی کی ہدایت کے مطابق انھیں انتخابی میدان میں کودنا پڑا۔ پہلے یہ قیاس آرائی کی جا رہی تھی کہ وہ متھرا سے لڑسکتے ہیں۔ کسی بھاجپائی لیڈر نے متھرا میں یہ خواب بھی دیکھا تھا کہ کرشن جی نے یہ خواہش ظاہر کی ہے کہ یوگی جی متھرا سے لڑیں۔ لیکن پھر شاید کسی نے ایودھیا میں خواب دیکھا کہ رام جی چاہتے ہیں کہ یوگی جی وہاں سے لڑیں۔ لیکن ان دونوں حلقوں میں یوگی کے لیے جیتنا آسان نہیں تھا۔ اس لیے ایسا تاثر دیا گیا کہ اگر یوگی اپنے گڑھ سے لڑیں تو ان کی کامیابی یقینی ہے۔ لہٰذا انھیں گورکھپور صدر سے امیدوار بنا دیا گیا۔

سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ گورکھپور تو اور مشکل ہے۔ وہاں سے پانچ بار سے رادھا موہن اگروال کامیاب ہوتے آرہے ہیں۔ اب ان کی سیٹ چھن کر یوگی کو دے دی گئی ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے کیا گیا کہ رادھا موہن پارٹی سے بلکہ یوگی سے ناراض ہو جائیں اور اندر اندر ان کے خلاف اپنی چالیں چلیں تاکہ یوگی کی راہ مشکل ہو جائے۔ مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ رادھا موہن اندر ہی اندر کچھ کر رہے ہیں جس کا اثر یقیناً پڑے گا۔ اس سے پہلے اگروال اپنے لوگوں سے یہ کہہ کر اپنی بیچارگی ظاہر کر چکے تھے کہ کیا کریں یوپی میں ٹھاکر راج چل رہا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یوگی راج میں برہمنوں میں بڑی ناراضگی پیدا ہو گئی ہے۔ ٹھاکروں کو زیادہ اہمیت مل گئی ہے۔ جس کی وجہ سے برہمن یوگی سے ناراض ہیں۔ ادھر اگروال کی وجہ سے بنیا برادری یوگی سے ناراض ہے۔ بی جے پی کے کئی بڑے مقامی لیڈر سماجوادی میں شامل ہو چکے ہیں۔ جس کی وجہ سے بی جے پی کا ایک بہت بڑاحلقہ اس سے دور جا چکا ہے۔ دریں اثنا بھیم آرمی سینا کے لیڈر چندر شیکھر نے یوگی کے خلاف الیکشن لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔ جس کی وجہ سے وہ دلت ووٹ جو مایاوتی کو نہ دے کر بی جے پی کو ووٹ دیتا تھا اس بار یوگی کے خلاف ووٹ کرے گا۔ اس طرح چندر شیکھر نے دلتوں کو یوگی سے چھین لیا۔ اسی طرح یادو اور مسلمان تو پہلے سے ہی یوگی سے ناراض ہیں۔ یوگی نے جس طرح مسلمانوں کے ساتھ انتہائی غلط سلوک کیا ہے اس کے پیش نظر مسلمانوں کا ایک ووٹ بھی یوگی کو نہیں ملے گا۔

بتایا جاتا ہے کہ یہ سارا حساب کتاب لگا کر ہی یوگی کو گورکھپور صدر سے امیدوار بنایا گیا ہے۔ تاکہ ان کے پر کترے جائیں اور ان کے دل میں وزیر اعظم بننے کا جو خواب انگڑائیاں لے رہا ہے وہ اپنی موت آپ مر جائے۔ اس طرح اگر وہ ہار جاتے ہیں تو ایک تو وزیر اعظم بننے کا ان کا خواب چکناچور ہو جائے گا اور دوسرے وہ وزیر اعلیٰ بھی نہیں بنائے جائیں گے کہ جو شخص اپنی ہی سیٹ نہ جیت سکے اس کے ہاتھ میں پوری ریاست کی باگ ڈور کیسے دی جائے۔ لہٰذا یوگی جی بہت کشمکش میں ہیں۔ آگے کنواں پیچھے کھائی۔ جائیں تو جائیں کہاں۔ پارٹی نے انھیں بری طرح پھنسا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے چہرے کی رونق غائب ہو گئی ہے اور ان کا جوش و خروش ٹھنڈا پڑ گیا ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com