زکوٰۃ اسلام کا بنیادی رکن

مولانا انیس الرحمن قاسمی 

(قومی نائب صدرآل انڈیاملی کونسل و چیئرمین ابوالکلام ریسرچ فاؤنڈیشن) 

مال و دولت کاحقیقی مالک اللہ جل شانہ ہیں،انسان توصرف اس مال کا محافظ اور خرانچی ہے،وہ مالک کی اجازت اورحکم سے اس مال میں تصرف کااختیاررکھتاہے؛اسی لیے اللہ جل شانہ نے غریبوں، مسکینوں اور ضرورت مندوں میں مال کوخرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرمایا ہے،

اے ایمان والو! خرچ کرو ستھری چیزیں اپنی کمائی میں سے اوراس چیز میں سے کہ جو ہم نے پیدا کیا تمہارے واسطے زمین سے اور قصد نہ کرو گندی چیز کا، اس میں سے کہ اس کو خرچ کرو،حالاں کہ تم اس کو بھی نہ لوگے، مگر یہ کہ چشم پوشی کرجاؤ اورجان لوکہ اللہ بے پرواہے،خوبیوں والا۔(سورہ بقرہ:267)

اسلام کے بنیادی ارکان میں نماز کے بعد مال کی زکوٰۃ دینا ہے،اس سے کئی طرح کے فائدے حاصل ہوتے ہیں، زکوٰۃ نکالنے سے مال گھٹتا نہیں ہے؛بلکہ اللہ مال میں برکت بھی دیتاہے اورثواب بھی عطاکرتاہے؛اس لیے شریعت کے مطابق زکوٰۃ وصدقات دینے میں مال کے کم ہونے،یا فقر میں مبتلا ہونے کا خوف واندیشہ نہیں کرنا چاہیے۔حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ جب کوئی اپنے مال(اور اللہ تعالیٰ صرف پاک مال ہی پسندکرتاہے)سے کچھ صدقہ کرتاہے تواللہ تعالیٰ اس کو اپنے دائیں ہاتھ میں لیتا ہے اور اگروہ کھجورہوتاہے تواللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں بڑھتارہتاہے اوراتنابڑھ جاتاہے کہ پہاڑکے برابر ہوجاتا ہے، جس طرح تم میں سے کوئی اپنے بچھڑے، یابکری کے بچہ کی پرورش کرتاہے۔

حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاکہ:

”ایک آدمی کھلے میدان میں جارہاتھاکہ اس نے بادل سے ایک آوازسنی کہ فلاں کے باغ کوسینچ دو،چنانچہ بادل اپنی جگہ سے ہٹااورسب پانی ایک قطعہ اراضی میں انڈیل آیا،وہاں ایک تالاب یاگہرائی تھی،جہاں ساراپانی بھر گیا، اس نے اس پانی کی طرف چلناشروع کیا تودیکھاکہ ایک آدمی کھڑا ہوا، اس پانی سے اپنے کھیت سینچ رہا ہے،اس نے پوچھاکہ اللہ کے بندے تمہارا نام کیا ہے،اس نے وہی نام بتایا،جواس نے بادل سے سنا تھا،اس نے پوچھاکہ اللہ کے بندے!تم نے ہمارانام کیوں پوچھا؟ اس نے کہاکہ میں نے اس بادل سے جس کایہ پانی ہے، اس نام کے ساتھ ایک آوازسنی کہ فلاں کے باغ کو سینچ آؤ،اب تم مجھے بتاؤکہ اس کھیت میں کیاکرتے ہو؟ اس نے کہاکہ جبکہ تم پوچھ ہی رہے توسنو،میں اس کی پیداوارکاایک تہائی حصہ صدقہ کردیتاہوں اورایک تہائی سے اپنی اوراپنے اہل وعیال کی پرورش کرتا ہوں اور ایک تہائی دوبارہ اسی میں لگادیتاہوں“

 اللہ جل شانہ نے زکوٰۃ و صدقات نکالنے میں اپنے فضل ومغفرت کا وعدہ کیاہے،فضل و مال میں اضافہ کو کہتے ہیں، جیساکہ مذکورہ حدیث میں دنیا اور آخرت دونوں جگہ اس مال میں اور اس کے ثواب میں اضافہ کی بشارت دی گئی ہے اور جس طرح مال میں اضافہ مطلوب ہے، اسی طرح؛ بلکہ اس سے بڑھ کرانسان کو اپنی مغفرت اوربخشش کی ضرورت ہے؛ اس لیے صدقہ و زکوٰۃ دے کراپنی مغرفت وبخشش کاسامان کرناچاہیے اور شیطانی وساوس میں نہیں پڑنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

شیطان وعدہ دیتاہے تم کو تنگ دستی کا اورحکم کرتاہے بے حیائی کا اور اللہ وعدہ دیتا ہے تم کو اپنی بخشش اور فضل کا اور اللہ بہت کشائش والا ہے، سب کچھ جانتا ہے۔ (ترجمہ،سورہ بقرہ:268)

 صدقہ و زکوٰۃ اللہ کی رضاکے لیے غرباومساکین کواس طرح دیا جائے، جس میں انسانی ہمدردی ہو اور دینے کے بعد صدقہ لینے والے پر اپنے احسان اور بڑائی کاخیال دل میں نہ آنے دے، نہ لینے والے کے سامنے کسی طرح کا احسان ظاہر کرے؛ ورنہ اس سے صدقہ و زکوٰۃ کا ثواب دنیا وآخرت دونوں جگہ برباد ہوجائے گا۔

اے ایمان والو! مت ضائع کرو اپنی خیرات احسان رکھ کر اور ایذا دے کر، اس شخص کی طرح جو خرچ کرتا ہے ا پنا مال، لوگوں کے دکھانے کو او ریقین نہیں رکھتا ہے اللہ پر اور قیامت کے دن پر۔ (ترجمہ آیت،سورہ بقرہ:264)

بلکہ فقرااور مساکین کا اپنے مال میں حق سمجھ کر ان کودینا چاہیے؛اس لیے مالداروں کے اوپر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ناداروں کو خود تلاش کرکے ان کا حق ان کو دیں۔

زکوۃلینے والے افرادخاص طورپر آٹھ قسم کے ہیں،جو اپنی ناداری کی وجہ سے مال کے محتاج ہوتے ہیں، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

یہ صدقات تو دراصل! (۱)فقیروں (۳) اور مسکینوں (۳)اور صدقات کے وصولی پر مامور افراد (۴) اور مؤلفہ قلوب کے لیے ہے(۵)اور (غلاموں کو) آزاد کرنے میں مدد کرنے (۶) اورقرض داروں کو (۷) اور راہ خدا میں (۸) اور  مسافروں کے لیے ہے،یہ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اوراللہ سب کچھ جاننے والا دانا و بینا ہے۔

لہٰذا زکوٰۃ، یاصدقات واجبہ نہ تو کسی مالدار کو دیاجاسکتاہے اور نہ ایسے مانگنے والے کو جوبظاہر طاقتور اور مضبوط ہے اور وہ نادار نہیں ہے، نہ ہی مسافر ہے،یا مذکورہ آٹھ اقسام میں سے نہیں ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:

صدقہ مالداراورطاقتورکمانے والے کے لیے جائزنہیں ہے۔

زکوٰۃ بنیادی طورپر صاحب نصاب کے اوپر فرض ہے اوراس کی تقسیم اجتماعی نظام کے تحت ہونی چاہیے؛اس لیے مسلمانوں کو اپنی زکوٰۃ نکال کر غریبوں تک پہنچانا اوراجتماعی طورپر بیت المال کے ذریعہ زکوٰۃ تقسیم کرنی چاہیے؛تاکہ ناداروں کی صحیح طور پر کفالت ہوسکے اور شریعت نے جواجتماعیت کاحکم دیا ہے،اس کی بھی تعمیل ہوجائے؛کیوں کہ جس طرح نماز باجماعت کی تاکید ہے،اسی طرح زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کا بھی حکم ہے،زکوٰۃ نکالنے والوں کو پابندی کے ساتھ نہ صرف یہ کہ زکوٰۃ دینی چاہیے؛بلکہ زکوٰۃ کے اجتماعی نظام کی بھی فکرکرنی چاہیے اور ایسا ماحول بناناچاہیے،جس سے نہ صرف مقامی ضرورت مندوں کی ضرورت پوری ہو؛بلکہ مدارس، یتیم خانے، وقتی حادثات میں راحت رسانی کے کام، مریضوں اور مصیبت زدہ لوگوں کی بھی امداد ہوسکے اور کوشش اس بات کی ہو کہ جو لوگ اپنی حاجت کے لیے مانگتے پھرتے ہیں،اگر وہ واقعی ضرورت مند ہیں تو ان کی مقامی سطح پرمدد کرنی چاہیے؛تاکہ وہ دوسری جگہ اپنی حاجت کے لیے مانگتے پھرتے نظر نہ آئیں۔

کچھ لوگ ایسے ہیں جو زکوٰۃ کے بارے میں بہت غفلت برتتے ہیں اور مال سے غیر معمولی محبت اور بخل میں مبتلاہوتے ہیں ایسے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرناچاہیے؛ اس لیے کہ ایک دن آئے گا کہ ان کے مال اور سونا چاندی جہنم کی آگ میں دہکائے جائیں گے اور اس سے ان لوگوں کی پیشانی، پیٹھ اور پہلو کو داغا جائے گا اور کہاجائے گا کہ یہی وہ خزانہ ہے،جسے تم نے اپنے لیے جمع کیاتھا۔اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

دردناک سزا کی خوش خبری دوان لوگوں کو جو سونے اورچاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور انہیں خدا کی راہ میں خرچ نہیں کرتے،ایک دن آئے گاکہ اسی سونے چاندی پرجہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اورپہلوؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا،یہ ہے وہ خزانہ جوتم نے اپنے لیے جمع کیاتھا، سواب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کامزہ چکھو۔ (ترجمہ آیت،سورہ التوبۃ:34۔35)

مطلب یہ کہ جولوگ مال ودولت پرسانپ بن کر بیٹھ جاتے ہیں اور ناداروں پرخرچ نہیں کرتے،یہی مال قیامت کے دن ان کے لیے عذاب بنے گا اوراسی مال کے ذریعہ انہیں داغا جائے گا۔

سونے،چاندی،روپے،پیسے اورمال تجارت کی زکوٰۃسال گزرنے پرفرض ہوتی ہے، جس کا نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی، یاساڑھے سات تولہ سوناہے،یاان دونوں میں سے کسی ایک کے بقدرمالیت موجودہواوراس پرسال گزرجائے توزکوۃفرض ہوگی، اس کی ادائیگی کے لیے دن ورات کی کوئی قید نہیں ہے،جب چاہے ادا کردے،یہ چالیسواں حصہ؛یعنی ڈھائی فیصدنکالناواجب ہوتاہے،زکوٰۃکی ادائیگی شریعت کے مطابق ہواوراللہ کی نافرمانی سے بچنے کی کوشش کی جائے۔

زکوٰۃ ہی کی طرح کھیت کے غلہ پرعُشرہے؛یعنی ایسی کھیت کے غلوں میں جوآسمانی بارش سے سیراب ہوتی ہے، ان میں دسواں حصہ اورجونجی،یاسرکاری پانی سے سیراب ہوتی ہیں، ان کے غلوں کابیسواں حصہ غریبوں کے لیے نکالنافرض ہے،اسی طرح تجارتی مویشیوں میں بھی،چاہے وہ پالے جاتے ہوں، یاخرید وفروخت کیے جاتے ہوں،زکوٰۃ نکالناضروری ہے، کھیتوں کے غلہ میں توہرفصل میں زکوٰۃ اداکی جائے گی؛البتہ زکوٰۃ جوتجارت یاسونے چاندی وروپے میں فرض ہوتی ہے،وہ پورے سال کے گذرجانے پرایک بارواجب ہوتی ہے۔

زکوٰۃ اورعشر ہی کی طرح صدقۃ الفطر نکالنا بھی صاحب نصاب پرواجب ہے،اس کاوجوب رمضان کے ختم ہونے کے بعد عید کی صبح میں ہوتا ہے۔حدیث میں آتاہے کہ صدقہ فطر عیدگاہ جانے سے قبل ادا کیا جائے،پھر عیدگاہ،یا مسجد جایاجائے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جانب سے جو فرمان جاری کیا جاتا تھا،اس کے بارے میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عیدالفطر کی نماز سے پہلے صدقۃ الفطر نکالنے کا حکم دیتے تھے۔

حضور صلی اللہ علیہ وسلم کاعمل بھی یہی تھا کہ عیدگاہ،یا مسجد میں عیدالفطر کی نماز کے لیے نکلنے سے پہلے صدقہ فطر ادا کرتے،پھرجاتے اوریہ مستحب ہے۔دنیامیں ہمیشہ انسانوں کی ایک قسم ایسی رہی ہے، جو غربت وفقرکی شکار ہوکردانے دانے کومحتاج رہی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ربانی ہدایت سے اس ناہمواری کو دور کیا اورصحابہ کرام کامزاج ایسابنایاکہ دنیا اور دولت کی محبت ان کے دل سے نکل گئی اوروہ غریبوں ومحتاجوں میں بے دریغ مال خرچ کرتے تھے۔

رمضان کے اس مبارک ماہ ضرورت مندوں پرخرچ کرنے کاثواب بہت بڑھ جاتاہے۔اس لیے تمام ضرورت مندوں کودیں،مسلمانوں کے ساتھ غیرمسلموں کوبھی عطیات وصدقات نافلہ سے مددکریں، ان شاء اللہ اس کاثواب غیرمعمولی ملے گا۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com