خود مکتفی امت بننے کی کوشش کریں (۲)

شمع فروزاں: مولانا خالد سیف اللہ رحمانی 

۳۔ سب سے اہم مسئلہ تعلیم کا ہے، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سرکاری ادارے کم ہوتے جا رہے ہیں، گورنمنٹ خود ان سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہے، عملاََ عوام کی زیادہ تر تعلیمی ضرورت پرائیویٹ اداروں کے ذریعہ پوری ہو رہی ہے، عیسائی مشنریز کا اس سلسلہ میں بڑا اہم رول رہا ہے، سنگھ پریوار کی ذیلی تنظیموں نے شاید بعد کو اس میں قدم رکھا؛ لیکن اب ان کے اداروں کی بھی بہتات ہے اور انہیں حکومت کی پشت پناہی بھی حاصل ہے، مسلمانوں میں بھی اللہ کا شکر ہے کہ بابری مسجد کی شہادت (۱۹۹۲) کے بعد سے اس کی طرف توجہ بڑھی ہے اور اب مسلمانوں کے پرائمری سطح سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک کے بہت سے ادارے ملک کے مختلف علاقوں میں قائم ہوئے ہیں؛ اگرچہ جنوبی ہند کو اس سلسلہ میں اولیت حاصل ہے؛ لیکن ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی مسلم تعلیمی ادارے قائم کئے گئے ہیں؛ مگر اب بھی اس کی طرف بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے، یہ بھی ضروری ہے کہ تعلیمی معیار کو اونچا اٹھایا جائے، طلبہ کی ایسی کوچنگ کرائی جائے کہ وہ پیشہ وارانہ کورسوں میں گورنمنٹ سیٹ حاصل کر سکیں، تعلیمی ماہرین کا کوئی گروپ ملک کے مختلف علاقوں کا جائزہ لے، مسلمانوں کی آبادی اور ان کی معاشی حالت کو سامنے رکھنے ہوئے مشورہ دے کہ کن کن شہروں میں کس قسم کے تعلیمی اداروں کی سخت ضرورت ہے اور وہاں اس کے مقبولیت کے کیا امکانات ہیں؟ پھر جو لوگ صاحب ثروت ہیں اور وہ کاروبار میں پیسہ لگانا چاہتے ہیں، وہ ان علاقوں میں ماہرین کے مشورہ اور علاقہ کی ضروریات کے مطابق تعلیمی ادارے قائم کریں اور اس میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھیں کہ جو غریب عوام ہیں، ان کے بچوں کی فیس میں رعایت برتنے کی کوشش کی جائے۔

تعلیمی اداروں میں چھٹی کلاس سے لے کر بارہویں کلاس یا ڈگری تک لڑکیوں کے لئے مستقل تعلیمی ادارے قائم کئے جائیں؛ تاکہ بہتر اخلاقی ماحول میں بچیوں کی تعلیم ہو سکے، تعلیمی ادارے لڑکوں کے ہوں یا لڑکیوں کے، ان میں اس بات کی کوشش کی جائے کہ بیسک اسلامی تعلیم بھی مہیا ہو جائے، تعلیمی اوقات میں اس کے لئے وقت نکالا جائے، یا تعلیمی اوقات کے بعد ایک گھنٹی اس کے لئے رکھی جائے، یا ہفتہ کے دن نصف یوم یا اتوار کو صبح ۱۰؍ تا ۴؍ بجے ہفتہ وار کلاس رکھی جائے، ہو سکتا ہے کہ ہر جگہ لڑکیوں کے لئے مستقل اور علیحدہ تعلیم کا نظم قائم کرنا مشکل ہو تو ایسا کیا جائے کہ دو شفٹ میں تعلیم ہو، ایک شفٹ لڑکوں کے لئے اور ایک شفٹ لڑکیوں کے لئے، اگر عمارت میں کئی منزلیں ہوں تو لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ منزلیں مخصوص کی جائیں، اور راستے بھی الگ رکھے جائیں، اگر یہ بھی ممکن نہ ہو تو آخری درجہ یہ ہے کہ کلاس روم میں لڑکوں اور لڑکیوں کے درمیان پلائی ووڈ کی چھ سات فٹ اونچی عارضی دیوار کھڑی کی جائے، کلاس میں آنے کے لئے الگ الگ راستے رکھے جائیں اور بیت الخلاء وغیرہ کے حصے تو الگ رکھے ہی جاتے ہیں، اس طرح ہم بچیوں کے لئے تعلیم کا محفوظ نظام قائم کر سکتے ہیں، اور لڑکیاں حجاب اور شریعت سے ہم آہنگ ڈریس کوڈ میں تعلیم حاصل کر سکتی ہیں، ہمارا مقصد تو اصل میں ملت کے بچوں اور بچیوں کی تعلیم ہو؛ لیکن برادران وطن بھی اپنے بچوں کو ہمارے اداروں میں داخل کرنا چاہیں تو ہم کو چاہئے کہ ان کا استقبال کریں۔

روزانہ پینتالیس منٹ یا ہفتہ میں ایک دن چھ گھنٹے کا وقت کم نہیں ہے، اگر ہم ایک بہتر نصاب کے ذریعہ بچوں کی تعلیم کا انتظام کریں تو ہم اس میں قرآن مجید ناظرہ، دو پارے حفظ ، روز مرہ کی زندگی سے متعلق چالیس حدیثیں، ضروری دعائیں تو پڑھا ہی سکتے ہیں، ان کے علاوہ سیرت، صحابہ کی زندگی، اسلامی تاریخ، ہندوستان کے مسلم دور کی تاریخ اور اسلام کے بارے میں پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کے جوابات وغیرہ بھی تعلیم میں شامل رکھ سکتے ہیں، اور اس طرح جو بچے اسکولوں سے پڑھ کر نکلیں گے وہ ان شاء اللہ فکروعمل دونوں جہتوں سے اچھے مسلمان اور قوم ووطن کے لئے مفید انسان ثابت ہوں گے۔

۴۔ اللہ کا شکر ہے کہ علماء کی کوششوں سے ملک کے چپہ چپہ میں دینی مدارس قائم ہیں، ان کے پاس عمارتیں بھی ہیں، طلبہ وطالبات کی ضروریات کے لئے ضروری وسائل بھی مہیا ہیں اور ابتداء سے لے کر انتہاء تک اسلامی علوم کی اعلیٰ تعلیم دی جاتی ہے، ان ہی کے ذریعہ امت کی تمام دینی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں؛ لیکن ادھر محسوس کیا جا رہا ہے کہ علماء وعوام کے درمیان ایک فاصلہ پیدا ہوتا جا رہا ہے، اس کے اور بھی اسباب ہو سکتے ہیں؛ لیکن بنیادی سبب زبان کا فرق ہے، مدارس میں طلبہ عربی فارسی کی تعلیم حاصل کرتے ہیں اور عربی آمیز فارسی آمیز اردو بولتےاور لکھتے ہیں، جس کو آج سے پچاس ساٹھ سال پہلے بہت پسند کیا جاتا تھا، عوام بھی اسے پڑھتے اور سردھنتے تھے، جدید تعلیم یافتہ حضرات کو بھی اس کی مٹھاس اور خوبصورتی متأثر کرتی تھی۔

اب اردو میڈیم اسکول تو قریب الختم ہیں ہی، ہندی میڈیم اسکول بھی غیر مقبول ہیں، برادران وطن میں بھی ہندی میڈیم کا رجحان بہت کم ہوگیا ہے، انگلش میڈیم سے پڑھنا پڑھانا بچوں اور ان کے سرپرستوں کے لے ایک قابل فخر بات ہو گئی ہے؛ اس لئے معاشی پہلو سے ہٹ کر دینی پہلو سے بھی علماء کے لئے انگریزی زبان اور ضروری حد تک عصری علوم کی تعلیم بہت ضروری ہے؛ تاکہ وہ امت کی نئی نسل سے ان کی مانوس زبان میں خطاب کر سکیں اور جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ان کے سوالات کے جواب دے سکیں؛ ورنہ آہستہ آہستہ مدارس آثارِ قدیمہ بن جائیں گے اور مدارس کے فضلاء امت کی نظر میں قابل احترام تو رہیں گے؛ مگر قیادت کے مقام سے محروم ہو جائیں گے، ملک میں تعلیمی نظام کو جس تیزی سے بدلا جا رہا ہے اور جس طرح تمام اداروں کو حکومت کی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مدارس کے لئے اپنے مزاج اور فیصلہ کے مطابق اس تبدیلی کو قبول کرنا بہت اہم ہوگیا ہے، اللہ کا شکر ہے کہ ملک کے نمائندہ دینی مدارس کے ذمہ داران بھی اب اس حقیقت کو محسوس کر رہے ہیں، ضرورت ہے کہ اب اس کو عملی جامہ پہنایا جائے ، بڑے مدارس اس میں پہل کریں، اور کوئی نظام مرتب کر کے جاری کریں۔

۵۔ عوام کو انصاف دلانے اور سماج کو ظلم سے بچانے کے لئے تین اہم ادارے کام کرتے ہیں: ایک عوام کے منتخب نمائندوں کا ایوان، یعنی پارلیامنٹ اور اسمبلی، دوسرے: پولیس، جو حکومت کے تحت کام کرتی ہے، تیسرے: عدالت ، جس کی ایک آزادانہ حیثیت ہوتی ہے، ان میں سے پہلا ادارہ تو کھلے طور پر جانبداری، اقلیت دشمنی اور ظالموں کی پشت پناہی پر کمر بستہ ہے، وہ چاہتا ہے کہ ملک میں نہ اپوزیشن رہے اور نہ اقلیتیں، ان کا نعرہ کانگریس مُکت بھارت، کمیونسٹ مُکت بھارت اور مسلمان مُکت بھارت ہے ، وہ بہت تیزی سے اس مقصد کی طرف آگے بڑھ رہے ہیں اور ملک کے چپے چپے میں نفرت کی آگ سلگا رہے ہیں، پولیس کھلے طور پر غیر جانبداری کر رہی ہے، ان کی نفرت وفرقہ واریت پر مبنی باتیں اور حرکتیں تصویروں کے ساتھ سوشل میڈیا پر آرہی ہیں؛ لیکن حکومت جانتے بوجھتے اپنی آنکھوں کو بند کئے ہوئی ہے، اور اپنے آپ کو بہرا اور گونگا بنائے ہوئی ہے۔

ان حالات میں مسلمانوں، دلتوں اور اقلیتوں کے لئے صرف ایک ہی پناہ رہ گئی ہے، اور وہ ہے عدالت؛ اگرچہ عدالت کے بعض فیصلوں نے بھی مسلمانوں کو مایوس کیا ہے، جس کی سب سے بڑی مثال بابری مسجد سے متعلق فیصلہ ہے، جس میں عدالت نے مسلم فریق کے پیش کئے ہوئے تمام نکات کو تسلیم کیا؛ مگر اس کے باوجود فیصلہ ہمارے خلاف کیا گیا؛ لیکن بہر حال پھر بھی عدالت ہی امید کی کرن ہے، اس سمت میں ہمیں تین جہتوں سے کوشش کرنی چاہئے، اول یہ کہ ملت کے ذہین بچوں کو قانون کے شعبہ میں داخل کرایا جائے اور کریمنل لا کے ساتھ ساتھ سیول لا کو بھی خصوصی اہتمام کے ساتھ پڑھایا جائے، دوسرے: مسلمانوں میں قانونی بیداری پیدا کی جائے اور انہیں بتایا جائے کہ ظلم وزیادتی کے واقعات پر کس طرح پولیس سے رجوع کیا جائے؟ کیسے ایف آئی آر درج کرائی جائے؟ اور سمجھا جائے کہ پولیس نے صحیح طور پر کیس بُک کیا ہے یا نہیں؟ پولیس اگر گرفتار کرنا چاہے تو اس کے ضوابط کیا ہیں؟ کیسے ان کا سامنا کیا جائے؟ وغیرہ، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ جتنا جھوٹ پولیس کا شعبہ بولتا ہے اور رشوت میں غرق ہے، شاید ہی کسی اور شعبہ میں اس قدر جھوٹ اور رشوت کا چلن ہو، اور اگر مسلمان یا دلت ملزم ہو تو پولیس ان کے ساتھ ایسا بے دردانہ رویہ اختیار کرتی ہے جس کی اجازت قانون مجرموں کے لئے بھی نہیں دیتا، ایسے واقعات بھی سامنے آرہے ہیں کہ بعض مسلمان نوجوانوں پر جھوٹا الزام لگایا گیا، ابھی اس کا کوئی ثبوت فراہم نہیں ہوا نہ اس کی تحقیق کی گئی؛ مگر تنگ نظر وکلاء نے اس کا مقدمہ لڑنے سے انکار کر دیا، ان حالات میں یہ بات بے حد ضروری ہے کہ مسلمان قانونی کارروائی کے سلسلے میں خود مکتفی ہوں، ان کے پاس باصلاحیت وکلاء موجود ہو، جو اُن کے مقدمات لڑے۔

دوسرے: ججز کے انتخاب کے سلسلے میں جو امتحانات ہوتے ہیں، مسلمان وکلاء ان میں شرکت کے لئے تیاری کریں، ان کے لئے کوچنگ رکھی جائے، ان کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ اس عہدہ کے لئے ہونے والے مقابلہ میں شریک ہوں؛ تاکہ عدالتوں میں مسلمان ججز بھی آسکیں، اس وقت صورت حال یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹوں میں مسلمان ججوں کی مقدار بہت ہی کم رہ گئی ہے، اس میں تعصب کا بھی دخل ہے اور اپنی غفلت اور بے توجہی کا بھی ، اس پر بہت توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

بہت سے غریب اور کم پڑھے لکھے مسلمان وہ ہیں، جن پر فرقہ پرستوں کی طرف سے زیادتی ہوتی ہے، ظلم ہوتا ہے، ان کے خلاف غلط مقدمات درج کئے جاتے ہیں اور وہ ظلم کی چکی میں پستے رہتے ہیں، ان کو یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہیں کس جرم میں حوالات میں یا جیل میں بند کر دیا گیا ہے اور ان کے پاس اتنے پیسے بھی نہیں ہوتے کہ وہ کسی مناسب وکیل کو اپنی طرف سے کھڑا کر سکیں؛ اس لئے بغیر کسی مضبوط ثبوت کے سالہا سال وہ قید کی زندگی گزارتے ہیں، ان کے بال بچے کسمپرسی کی حالت میں رہتے ہیں، اس کا حل یہ ہے کہ ملک کے بڑے شہروں میں ملی تنظیمیں مشترکہ طور پر لیگل سیل قائم کریں اور ایسے مظلوم مسلمانوں کو قانونی مدد اور قانونی مشورہ فراہم کریں، اس وقت اس سلسلہ میں جمعیۃ علماء ہند کی کوششیں قابل تحسین ہیں، سینکڑوں بے قصور نوجوانوں کو انھوں نے جیل کی کوٹھریوں سے آزاد کرایا ہے اور بہت سے فرقہ پرست مقررین کی زبان کو لگام دینے کی کوشش کی ہے، ان کوششوں کی قدردانی ہونی چاہئے؛ لیکن ایک تنظیم کی کوشش اتنے بڑے ملک میں کافی نہیں ہو سکتی، اگر تمام تنظیمیں اس میں اپنا حصہ ادا کریں تب ہی مسئلہ حل ہو سکے گا، اور یہ بھی ضروری ہے کہ مدد صرف اپنی تنظیم کے لوگوں تک محدود نہ ہو؛ بلکہ تنظیمی اور مسلکی وابستگی سے اوپر اٹھ کر پوری ملت اسلامیہ کے لئے ہو۔ (جاری)

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com