جذباتی انتشار : جرائم کی ایک بڑی وجہ

علیزے نجف

ظلم و ستم اور حیوانیت و بربریت کو انسانی معاشرے میں کبھی بھی اچھی نگاہ سے نہیں دیکھا گیا جو جرائم انسانی اخلاقیات کے منافی ہیں اس کو مذہب سے جوڑ کر دیکھنے کی کوشش کرنا درحقیقت جہالت کی بیّن دلیل ہے گذشتہ کئی دنوں سے آفتاب امین پونہ والا اور شردھا والکر موضوع بحث بنے ہوئے ہیں، آفتاب اور شردھا ممبئی کے رہنے والے تھے ان کی ملاقات ایک ڈیٹنگ ایپ کے ذریعے ہوئی تھی پھر رفتہ رفتہ ان کا یہ تعلق محبت نامی رشتے میں تبدیل ہو گیا جب ان دونوں کے خاندان والوں نے ان کے رشتے کی مخالفت کی تو وہ بھاگ کر دہلی آ گئے اور کرائے کے فلیٹ میں رہنے لگے شردھا کے بارے میں یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ وہ گھریلو تنازعات کی وجہ سے ذہنی الجھن کا شکار تھی اسی اثنا میں آفتاب کی طرف سے ملنے والے جذباتی سہارے نے اسے اس کی طرف راغب کر دیا وہ ایک آزادانہ زندگی گزارنے کی خواہشمند تھی آفتاب بھی اس پہلو سے اس کا ہم خیال تھا یہی وجہ ہے کہ اس نے اس تعلق کو گہرا کرنے کے لئے سو کالڈ لیو ان ریلیشن شپ کے لئے بھی رضامندی ظاہر کر دی اور شادی جیسے مقدس معاہدے کے بغیر وہ ساتھ رہنے لگے۔

ممبئی باشندہ شردھا والکر آفتاب کے ساتھ دہلی کے مہرولی واقع ایک فلیٹ میں لیو-اِن میں رہ رہی تھی۔ مشکل اس وقت شروع ہوئی جب شردھا کی طرف سے شادی کا مطالبہ شروع ہوا ابتدا میں آفتاب کسی نہ کسی طرح اسے ٹالتا رہا یہاں تک کہ مطالبہ کے شدت اختیار کرنے کے بعد اس نے اس بہیمانہ جرم کا ارتکاب کیا اس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے الزام یہ ہے کہ آفتاب نے 18 مئی کو شردھا کا گلا دبا کر قتل کر دیا تھا۔ پھر لاش کے 35 ٹکڑے کیے اور چہرے کو جلا دیا تاکہ شناخت نہ کی جا سکے اور مختلف کیمکل اور بلیچنگ کے ذریعے اس نے خون کے دھبوں دھو کر قتل کے سارے نشانات کو مٹا دیا اور لاش کو ٹکڑوں کو خوب دھویا اس نے ٹکڑوں کو رکھنے کے لیے ایک فریج کی بھی خریداری کی تھی۔اس فریج میں لاش کے ٹکڑوں کو رکھا اور روزانہ رات میں لاش کے کچھ ٹکڑوں کو مہرولی واقع جنگل میں پھینکنے جاتا تھا۔ اس نے ایسا تقریباً 20 دنوں تک کیا۔‎ یہ واردات انجام دینے کے بعد اس نے آن لائن کھانا آرڈر کیا اور نیٹ فلیکس پہ فلمیں دیکھیں شراب بھی پی تاکہ کسی بھی طرح اپنے آپ کو مطمئن ثابت کر سکے یہاں تک کہ اس نے لوگوں کو دھوکے میں رکھنے کے لئے شردھا کا سوشل میڈیا اکاؤنٹ اور بینک اکاؤنٹ بھی استعمال کیا تاکہ لوگ شردھا کی غیر موجودگی کو محسوس نہ کر سکیں لیکن سچ کہتے ہیں سچ کو چھپایا تو جا سکتا ہے لیکن مٹایا نہیں جا سکتا ایسا ہی کچھ اس کیس میں بھی ہوا جب شردھا کی قریبی دوست نے بار بار کوشش کے باوجود شردھا سے رابطہ کر پانے میں ناکام رہی تو اس نے اس کی اطلاع اس کے والد کو دی والد نے پولیس کو اطلاع دی اس کے بعد یہ پورا غیر انسانی واقعہ طشت از بام ہوا۔ ابتدا میں آفتاب اپنے جرم سے انکاری رہا لیکن لگاتار پوچھ تاچھ کے بعد اس نے اپنے جرم کا اعتراف کر لیا اور قتل کی وجہ یہ بتائی کہ شردھا اسے شادی کرنے پہ مجبور کر رہی تھی مجبوراً اسے یہ قدم اٹھانا پڑا۔

اس واقعے پہ بات کرتے ہوئے سب سے پہلے یہ سوچ ذہن میں آتی ہے کہ ایک انسان اس طرح کی غیر انسانی حرکت کیسے کر سکتا ہے اور وہ کس طرح خود اپنی ہی محبت کو اپنے ہاتھوں اس بےدردی سے قتل کر سکتا ہے اور شردھا والکر جیسی لڑکیاں کیوں بآسانی ایسے لوگوں کے فریب میں آ جاتی ہیں اور صحیح اور غلط کی تمیز بھلا کر خود اپنے ہی اوپر ظلم کا سبب بن جاتی ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ شردھا والکر کے والدین کے آپسی تعلقات کشیدہ تھے گھر میں ناخوشگواری اور بے سکونی کا سا ماحول تھا جس کی وجہ سے شردھا اور اس کا چھوٹا بھائی دونوں ہی نالاں رہتے تھے والدین جب اپنے بچوں کو جذباتی سہارا نہیں دیتے تو ایسے بچے نفسیاتی طور پہ انتہائی کمزور ہو جاتے ہیں وہ لاشعوری طور ان چہروں کی تلاش میں رہتے ہیں جو ان کو جذباتی سہارا دے سکیں جو ان کی کیفیت کو سمجھتے ہوئے ہر صورت ان کا ساتھ نبھانے کا وعدہ بھی کریں۔ جذباتی تعلق ہر انسان کی فطری خواہش ہوتی ہے ماں باپ کی صورت میں قدرت نے اس خواہش اور ضرورت کی تکمیل کا اہتمام کیا ہے۔ شردھا کے والدین نے وقت رہتے اس ضرورت کو نہیں سمجھ سکے اس جذباتی شکستگی کے عالم میں شردھا کے لئے آفتاب کی دوستی کسی خوشگوار جھونکے کے مانند تھی کہتے ہیں شردھا ٹام بوائے کی طرح زیادہ تر جینس اور ٹی شرٹ میں ہی رہتی تھی لیکن آفتاب سے تعلق بنانے کے بعد اس کے اندر واضح تبدیلی نظر آئی وہ لڑکیوں کے لباس پہننے لگی اور میک اپ وغیرہ بھی کرنے لگی اس سے یہ بات بخوبی محسوس کی جا سکتی ہے کہ شردھا کے لئے آفتاب ان تمام کمیوں کا ازالہ تھا جو اس کے خاندانی چپقلش کی وجہ سے اس کے حصے میں آئی تھی۔ آفتاب نے اس کی نسوانیت کو بھی بیدار کر دیا تھا اس عمر میں جذباتی رو کا بہاؤ اتنا تیز ہوتا ہے کہ اسے قابو میں کرنے کے لئے شعوری کوشش کی ضرورت ہوتی ہے والدین کا سپورٹ ناگزیر ہوتا ہے۔

اگر ہم اس طرح کے واقعات میں کمی لانا چاہتے ہیں تو ہمیں سب سے پہلے اپنے گھر کا ماحول بہتر بنانا ہوگا بچوں کی جسمانی نشوونما کے ساتھ ساتھ ذہنی و نفسیاتی نشوونما پہ بھی توجہ دینی ہو گی اکثر والدین اپنی انا اور برتری کے زعم میں گھر کے سکون کو جہنم زار بنا دیتے ہیں اس کی قیمت اولاد چکاتی ہے اور پھر وہ محبت کو باہر کی دنیا میں تلاشتے ہیں باہر کی دنیا جہاں پہ کسی کے کردار کی کوئی ضمانت نہیں ہوتی جہاں پہ بھیڑئیے بےمہار گھومتے ہیں۔

اب آتے ہیں دوسرے پہلو کی طرف کہ کوئی انسان ایسی حیوانیت کیسے کر سکتا ہے کیرالہ کے کوزی کوڈ شہر میں واقع انسٹی ٹیوٹ آف مینٹل ہیلتھ اینڈ نیورو سائنسز (آئی ایم ایچ این ایس) کے زیر اہتمام “سیریل کلنگ میں شخصیت کی خصوصیات کا کردار” کے موضوع پر ایک ویبینار میں ماہرین نے شردھا کے قتل کے ملزم کی نفسیاتی حالت کا تجزیہ کیا۔ ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے قدرتی آفات سے متعلق ذہنی صحت کے ماہر اور قومی دماغی صحت پروگرام کے مشیر نریش پروہت نے کہا کہ جرم یہ ظاہر کرتا ہے کہ ملزم نے نتائج کے بارے میں سوچے بغیر غصے میں آکر اپنی گرل فرینڈ کو مار ڈالا۔‎ مسٹر پروہت نے 35 ٹکڑوں کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ اس نے گرفتاری سے بچنے کے لیے شردھا کے جسم کے کئی ٹکڑے کر دیئے تھے۔‎ انہوں نے کہا کہ سیریل کلنگ میں وہ شخص غصے میں اپنے دماغ پر قابو نہیں رکھ پاتا اور جو کرنا ہوتا ہے وہ کرتا ہے۔ جن لوگوں میں سائیکوپیتھی کی علامات ظاہر ہوتی ہیں، وہ زیادہ تر ایسا کچھ کرنے کے بعد خوشی محسوس کرتے ہیں

انہوں نے کہا کہ تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ آفتاب امریکی کرائم شو ‘ڈیکسٹر’ سے متاثر تھا۔ یہ شو ایک ایسے شخص کی کہانی بیان کرتا ہے جو دوہری زندگی گزارتا ہے۔ ایسی دستاویزی فلمیں انسان کی ذہنی صحت کو خراب کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‎ ہم جو کچھ دیکھتے اور سنتے ہیں ہمارے نفسیاتی اعصاب پہ اس کے اثرات مرتب ہوتے رہتے ہیں۔ شعوری اور لاشعوری طور پہ وہ عملی سطح پہ بھی اس کا مظاہرہ کرتے ہیں شخصیت کی خصوصیات جیسے غصہ، شدید جارحانہ مسائل، ہمدردی کی کمی اور تکبر اس طرح کے رپورٹ شدہ جرائم میں بڑا کردار ادا کرتے ہیں۔‎ ان علامات والے شخص میں پہلے سے ہی جرم کرنے کا رجحان ہوتا ہے اور جب وہ ایسی فلم دیکھتا ہے تو اس کا جرم کرنے کا رجحان مضبوط ہو جاتا ہے۔ غصہ اور جارحانہ فطرت ایک نفسیاتی مریض میں دیکھی جاتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سائیکوپیتھی ڈس آرڈر میں مبتلا شخص کسی کی پروا نہیں کرتا۔‎

’’سائیکو پیتھک جب کوئی فلم یا ویب سیریز دیکھتے ہیں تو ان کی پہلی ترجیح یہ ہوتی ہے کہ وہ ان میں کچھ تشدد دیکھیں اور جرائم کے نئے طریقے سیکھیں تاکہ وہ کسی بھی جرم کو اچھی طرح انجام دے سکیں۔‘‘‎ انہوں نے کہا کہ سائیکوپیتھی ڈس آرڈر میں مبتلا شخص کو پیرانائیڈ اور شیزائڈ ڈس آرڈر بھی ہو سکتا ہے۔ لوگ ان بیماریوں سے پاگل ہونے لگتے ہیں۔ انسان کوئی خطرناک کام کرنے سے پہلے سوچتا بھی نہیں۔

ماہر نفسیات مسٹر پروہت کے اس تجزیاتی خاکے سے یہ بات بھی سمجھی جا سکتی ہے کہ ہمارے معاشرے میں بیشتر جرائم کے پیچھے نفسیاتی بیماریاں ہیں اور اس کا تناسب وقت کے ساتھ بڑھتا ہی جا رہا ہے اس لئے ایک طرف ہم آفتاب اور آفتاب جیسے مجرمین کی عبرتناک سزا کا مطالبہ کرتے ہیں دوسری طرف ہم چاہتے ہیں کہ حکومت اور انتظامیہ ان عوامل کے سد باب پہ غور کرے جو اس طرح کے مکروہ جرائم کی وجہ بن رہے ہیں۔ لیو ان ریلیشن شپ کو کسی بھی مہذب معاشرے میں قانونی تحفظ فراہم کرنا لوگوں میں اخلاقی انتشار پیدا کرنے کی وجہ بن سکتا ہے۔ اس ریلیشن شپ کے ذریعے پیدا ہونے والے بچوں کے مستقبل پہ ایک سوالیہ نشان ہوتا ہے ایسے ماں باپ قانونی طور پہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ رہنے کے پابند نہیں ہوتے اس لئے بچوں کے اندر عدم تحفظ کے احساس کے پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ایسے ہی بچے آگے چل کر جذباتی ناآسودگی کی وجہ سے آفتاب جیسے لوگوں کا بآسانی شکار بن سکتے ہیں ۔ اس مسئلے کو مذہب سے جوڑنے کے بجائے انسانیت سے جوڑا جائے تو اس کا حل نکالنے کے لئے سب کو سنجیدہ کیا جا سکتا ہے۔ ایسے جرائم مذہب سے پہلے انسانیت کا مسئلہ ہوتے ہیں ہر مذہب کے ماننے والے انسان ہیں اس لئے یہ متفقہ طور پہ ہر کسی کا مسئلہ ہونا چاہئے اس کے لئے باقاعدہ تنظیمیں بنائی جائیں اور اس کے سد باب کے لئے مستحکم حکمت عملی اختیار کی جائے ان جرائم کی سزا تمام ہی طبقے کے انسانوں کے لئے ایک ہی ہونی چاہئے کسی کے لئے بھی کوئی راہ فرار نہ ہو اگر کوئی خاندان اور طبقہ چاہتا ہے کہ ایسے جرائم ان کے ساتھ کبھی نہ ہوں تو انھیں اپنے اپنوں کے خلاف بھی کھڑے ہونے کی ہمت کرنی ہوگی تبھی ان کے معاشرتی تحفظ کو یقینی بنایا جا سکتا ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com