شہادت بابری مسجداور جدید ہندوستان میں فرقہ پرستی کچھ اندیشے، کچھ آنسو، کچھ سوال اور کچھ باتیں

محمد علم اللہ، نئی دہلی

کسی نے درست کہا ہے زندہ قوموں کو اپنے اوپر ہوئے مظالم کو یاد رکھنا پڑتا ہے۔ ورنہ تاریخ میں ظلم کی یہی حقیقتیں کسی اور طریقے سے درج کر دی جاتی ہیں۔ شکار کو اپنی کہانی کہتے رہنا ہے ورنہ شکاری اپنا ورژن ہی تاریخ میں درج کروا لے گا۔ پرسوں بابری مسجد کی شہادت کا دن ہوگا اور ہماری نسل جس نے ہر بدلتے دن کے ساتھ اس کی سیاست کی آڑ میں خاک و خون کی ندیاں بہتے دیکھی ہیں، بچوں کو یتیم ہوتے اور عورتوں کو بیوہ ہوتے دیکھا ہے، اسے ہر آنے والے دن کے ساتھ خوف ستانے لگتا ہے کہ کہیں پھر کوئی انہونی نہ ہوجائے۔

دل کو بہت منایا کہ اس موضوع پرنہ لکھا جائے، سب کچھ تو لکھا جا چکا ہے اور کچھ بھی نیا نہیں ہے، مگر دل کی میں نے سنی کب ہے سو زخمی دل اور فگار انگلیوں کے ساتھ یہ لکھنے بیٹھ گیا۔ کہتے ہیں رام جنم بھومی اور بابری مسجد کا معاملہ برسوں سےٹھنڈا پڑاتھا۔ بیشترلوگ اس تنازع کو بھول سے گئے تھے،معاملہ عدالت میں زیرغورتھا۔ یکم فروری 1986ء کو فیض آباد کے ضلع جج مسٹر کے ایم پانڈے کی جانب سے رام جنم بھومی کےصدردروازے پر لگے تالے کو کھولنے کا حکم دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی اس موضوع پر مبنی فرقہ وارانہ فسادات کا دروازہ کھل گیا۔ اس حکم کے تحت وہاں پر ہندوؤں کو لگاتارپوجا ارچنا کرنے کا موقع مل گیا۔ اس سے ہندو ذہنیت کو پرتشدد ہونے کا بھی موقع مل گیا۔ نتیجتاً انھوں نے مذکورہ ڈھانچے کے مقام پر ایک عالی شان رام مندر بنانے کا عزم کرلیا۔پھر کیا تھا ایک ہی نعرہ چاروں طرف گونجنے لگا—’’سوگندھ رام کی کھاتےہیں، مندر وہیں بنائیں گے!‘‘ ہندوؤں کے اس ارادے سے مسلمانوں نے بھی ردِ عمل کا رویہ اختیار کیا ۔14؍فروری 1986ءکو مسلمانوں نے مخالفت میں ’یوم سیاہ‘ منایا۔ اس دن ملک میں کئی مقامات پر فسادات ہوئے اور سماج میں کشیدگی کاماحول بن گیا۔

26جنوری 1987ءکو جب جنتادَل کے لیڈر شہاب الدین کی قیادت میں بابری مسجد ایکشن کمیٹی نے یوم جمہوریہ کا بائیکاٹ کیا۔ اس کا فائدہ اٹھا کر اکثریتی فرقے کےلیڈروں نے اپنے لوگوں میں انتشار ونفرت کے بیج کوٹ کوٹ کر بھر دیےجو کسی بھی وقت کسی بھی قسم کاذراسا بہانہ پاکر اپنی شکل دکھانے کے لیے بےقراربنے ہوئے تھے۔

سنہ 1987ءمیں میرٹھ میں بھیانک فسادات اسی کے نتائج بد تھے۔وہاں پر فسادات کا آغاز 15؍اپریل سے ہو گیا تھا۔اگرچہ میرٹھ میں فسادات وقتاً فوقتاً ہوتے آئے ہیں،لیکن اس سال میں فسادات کی مخصوص خصوصیت تھی۔ ایسے بھیانک اور مذموم فسادات میں مرنے والوں کی تعدادسرکاری اعدادوشمار کے مطابق 100بتائی گئی ہے۔ لیکن اس میں جان ومال کے نقصان کا اندازہ لگانادشوار تھا۔ جب کے صرف مئی کے فسادات میں مرنے والوں کی تعداد 70 اور درجنوں دکانوں، بسوں و گھروں کے نذرآتش کیے جانے کی خبریں تھیں۔

28؍دسمبر1989ءکو بدایوں میں ایسا فساد بھڑکاجس نے برسوں سے محبت اور بھائی چارے کی ڈورکو پل بھر میں ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔30تاریخ کے اخبارات لکھتے ہیں کہ فرقہ وارانہ جنگل کی آگ کا دھواں 60گھنٹوں بعد بھی شہر کے اوپر چھایا ہوا ہے۔حالات بتا رہے ہیں کہ یہ دھواں چھٹنے میں ابھی کافی وقت لگ جائے گا۔اخبارنویس ارون پوری لکھتے ہیں:

 ’’ملک آزاد ہونے سے لے کر گزشتہ جمعرات تک بدایوں شہر کے لوگ آپس میں جس ہم آہنگی کے ساتھ رہتے رہے، اس کی مثال پورے ملک میں دی جاتی رہی ہے۔لیکن زبان کی بنیاد پر بھڑکےاس فساد نے اب لوگوں کے درمیان جو دیوار کھڑی کردی ہے، اس کی مثال شاید ہی کہیں ملے۔کل تقریباً 7گھنٹے تک اس سلگتے شہر میں گھومنے کے بعد اخبارنویس نے یہ محسوس کیا کہ شاعروں کے اس شہر کے لوگ صرف ہندواور مسلمان رہ گئے ہیں۔حالت یہ ہے کہ لوگ وہ سب کچھ بھول گئے ہیں جو 28؍سمبر سے پہلے تھا۔شہر میں لوگوں کے مکانات ودکانیں نہیں، بلکہ ان کےجذبات و احساسات جلے ہیں، جو اب تک ان کے انسان ہونے کا ثبوت تھے۔‘‘(نو بھارت ٹائمز ا اکتوبر 1989)

25؍اکتوبر سے 18؍نومبر تک بھاگلپور میں بھیانک فسادات ہوئے جس کے سدِ باب کے لیے فوج بلائی گئی تھی۔ اس بھیانک خوں ریزی میں165 لوگوں کی بھینٹ دی گئی۔مذکورہ موقع پر بہار کے دیگر علاقوں میں بھیانک فسادات ہوئے۔7؍نومبر کے سہسرام کے فساد میں 8؍افراد کی جانیں گئیں۔7؍اکتوبر کو اندور کے فسادات میں 40 لوگ موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ 23؍اگتوبر کو سیتامڑھی کے فسادات میں 13لوگوں کا قتل کردیا گیا۔

10؍نومبر 1989ءکو ایودھیا میں سری رام مندر کا شیلا نیاس کیا گیا۔11؍نومبر کو ریاستی حکومت نے کارسیوا پر پابندی عائد کردی۔اس موقع پر ملک کے متعدد علاقوں میں فسادات ہوئے۔ 24؍جون 1990ءکوہری دوار کے سنت سمّیلن میں لال کرشن آڈوانی نے سوم ناتھ مندر سے ایودھیا کو رتھ یاترا شروع کی۔24؍اکتوبر کو رتھ یاترا روک کر مسٹر آڈوانی کو گرفتار کیا گیا۔ اس عرصے میں ملک کے کئی حصوں میں فرقہ وارانہ فسادات بھیانک رخ اختیار کررہے تھے۔اکتوبر کا پہلا ہفتہ پوری طرح خون سے رنگا رہا۔گونڈہ ضلع کرنل گنج میں 200افراد موت کے گھاٹ اتار دیے گئے۔ چن پٹنا کولا داونگیرے میں 20؍افراد کی موت اور 60زخمی ہوئے۔ بنگلور میں فرقہ وارانہ تشدد میں آٹھ کے قتل اور 40کو زخمی کردیا۔ بجنور میں ایک مارا گیا اور 100زخمی ہو گئے۔ اس کے علاوہ بیدر، وڈودرا ، بمبئی، لوناوڈے پالن پور، اودے پور وغیرہ مقامات وسیع فسادات ہوئے۔

مسٹر آڈوانی کی گرفتاری کی مخالفت میں 24؍اکتوبر کو بھارت بند رکھا گیا، جس میں تشدد میں 18لوگ مارے گئے۔ 25؍اکتوبر کے سہارن پور میں مندرکی تعمیر کو لے کر ایک شخص نے خودکشی کی، جے پورمیں 42سمیت سارے ملک میں 61 لو گ فسادات کی بھینٹ چڑھ گئے۔26؍اکتوبر کو ملک میں بھی آڈوانی کی گرفتاری پر بھڑکے تشددمیں مرنے والوں کی تعداد82ہوئی۔ 28؍اکتوبر کو اٹاوہ میں کارسیوکوں پر گولی چلی، رانچی میں کرفیوکے بعد تشدد بھڑکااورفوج تعینات کی گئی۔

29؍اکتوبر کو اتر پردیش کے کئی شہروں نے تشدد کی لہر پھیل گئی۔لکھنؤ میں فوج تعینات کر دی گئی۔ کئی دیگر شہروں میں کرفیو لگا دیا گیا۔ 30؍اکتوبر کو کارسیوکوں نے گھیرا توڑا، مسجد کے گمبد پر جھنڈا لہرایا۔پولیس کی گولی سے 11کارسیوک مارے گئے۔اور سیکڑوں زخمی ہو گئے۔اس دن یہاں پر دولاکھ کارسیوک ایودھیا پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔ملک کے مختلف حصوں میں پُر تشدد واقعات ہوئے۔ 31 اکتوبر 1990 کو نوبھارت ٹائمس لکھتا ہے:

’’ایودھیا میں مندر کی تعمیرکے سلسلے میں ملک کے مختلف ریاستوں میں 31مارے گئے،سب سے زیادہ 17 لوگ گجرات میں مرے۔وڈودرا اور احمدآباد میں فوج الرٹ کردی گئی ہے۔ایودھیا کو چھوڑ کر اتر پردیش کے بقیہ علاقوں میں 5، مدھیہ پردیش میں 3، آندھراپردیش میں 2، کرناٹک و راجستھان میں ایک ایک فرد مارا گیا۔‘‘

31؍اکتوبر کو کئی شہروں میں زبردست تشدد ہوا جس میں 42لوگوں کے مرنے کی خبر تھی۔ ایودھیا کے واقعے کے ردِ عمل کے طورپر بنگلہ دیش اور پاکستان میں بھی وہاں کی اقلیت ہندوؤں پر قہر برسا۔

یکم نومبر کو ملک بھر میں تشدد جاری رہا، جس میں 34 لوگوں کے مارے جانے کی خبر تھی۔بجنور کے فسادات میں ہلاک شدگان کی تعداد 18ہوئی، علی گڑھ میں تین افراد ہلکا ہوئے، ڈھاکہ میں کرفیو لگا اور فوج بلائی گئی۔ 2؍نومبر کو ایودھیا میں 30کارسیوک مارے گئے اور 200زخمی ہوئے۔ ملک گیر تشدد میں 50 افراد ہلاک ہوئے۔بجنور میں ہلاک شدگان کی تعداد 45 سے زیادہ ہوئی۔میرٹھ کے فسادمیں 9لوگ مارے گئے۔3؍نومبر کو بنگلہ دیش اور پاکستان میں ہندو مخالف فسادات میں ہلاک شدگان کے ساتھ ساتھ سیکڑوں عبادت گاہیں مسمار کردی گئیں۔ملک بھر میں پرتشددواقعات میں 57 افراد مارے گئےاور ہاپوڑ میں فوج تعینات کردی گئی۔ 4؍نومبر کو ملک گیرتشدد میں 17جانیں گئیں۔ 14؍نومبر کو پرانی دلّی میں اچانک فساد بھڑک اٹھا، جس میں 5افراد مارے گئے۔

مذکورہ واقعے نے دونوں فرقوں کے فرقہ وارانہ جذبات کو بھڑکادیا تھا،جو کسی بھی موقع پر بہانہ بناکر پرتشددرخ اختیار کرلیتے تھے۔اسی سلسلے کے تحت 27؍مارچ 1991ءکو رام نومی کے مقدس تہوار کے موقع پر سہارن پور میں بڑے فساد نے بھیانک صورت اختیار کرلی۔ اس تعلق سے نوبھارت ٹائمس میں: ’’اپنے آپ پر شرمندہ ہے سہارن پور‘‘ کے عنوان سے جناب جے شنکر گپت لکھتے ہیں: ’’اخروٹ کی لکڑیوں پر اعلی درجے کی نقاشی کے لیے مشہورومعروف سہارن پورکو بھی فرقہ پرستی کی آگ کے حوالے کردیا گیا ہے۔27؍مارچ کے رام نومی کی شوبھا یاترا کے دوران اور اس کے بعد ہوئے تشدد میں سرکاری طورپرنولوگوں کی جانیں جا چکی ہیں اور40لوگ زخمی ہوکر مختلف ہسپتالوں میں علاج کرارہے ہیں۔ فساد کی آگ میں 100 سے زیادہ دکانیں اور مکانات جل کر راکھ ہو گئے ہیں۔‘‘ یکم اپریل 1991ء کو دلّی کے گوکلپوری،مصطفیٰ آبادمیں بھیانک فساد ہوا جس میں کئی لوگوں کے ہلاک ہونے کے ساتھ وہاں کے ایس ایچ او بال کرشن بری طرح زخمی ہو گئے۔ نومبر 1991ء میں بنارس میں ہوئی زبردست خوں ریزی کو دیکھ کر 84 سالہ مشہورشاعر نذیر بنارسی نے کہا: ’’ایسا فساد میں نے کبھی نہیں دیکھا۔ انگریزی حکومت کے دوران بھی ہمارا گھر ہندوؤں کی پناہ گاہ ہوا کرتا تھا۔کئی بار ایسے مواقع آئے ہیں جب فساد کے وقت مورتیوں کو میرے بیٹوں نے کندھوں پر اٹھاکر محلے کے باہر پہنچایا۔ِ‘‘

15؍مئی 1992ء کو پرانے سیلم پور، دلّی میں اچانک بھیانک فساد بھڑک اٹھا جس میں پانچ لوگ مارے گئے،درجنوں زخمی ہوگئے۔ ان میں کچھ پولیس افسران بھی شامل تھے۔غیر تصدیق شدہ ذرائع کے مطابق ہلاک شدگان کی تعداد کافی زیادہ ہے۔ 6؍جون 1992ء کو کمہیر راجستھان میں اچانک جاٹ اور جاٹووں کے درمیان فساد بھڑک اٹھا جس میں 20جاٹووں کا قتل کردیا گیا۔ عینی شاہدین نے ہلاک شدگان کی تعداد 40 بتائی۔

2؍جولائی 1992ءکو احمدآباد میں ایسا تخریبی فساد ہوا جس نےسبھی فرقوں کے لوگوں کے دلوں کو جھنجوڑ دیا۔ کھلا پنّا میں راشٹریہ سہارا لکھتا ہے:

 ’’بھگوان جگن ناتھ کی یاترا کے دوران 2؍جولائی کو یہ فرقہ واریت کا عفریت آیا ، اس کے بعد تشددکا جو برہنہ رقص ہوا اس میں گزشتہ تین دنوں میں 21افراد کی موت ہو گئی اور سیکڑوں لوگ زخمی ہو گئے۔تشدد کا رقص اب بھی جاری ہے۔سارا شہر سہما سہما ہے، ہر شخص دوسرے شخص سے خوف زدہ ہے۔ لوگوں کے دلوں میں شک وشبہ اتنا گہرا بیٹھ گیا ہے کہ ذرا سے شورپر سارا شہر گھبرا اٹھتا ہے۔‘‘ (6 جولائی 1992)

6؍دسمبر 1992ء کو ایودھیا کی متنازعہ عمارت بابری مسجد کو کارسیوکوں نے منہدم کردیا۔ اس کے بعد سارا ملک فرقہ وارانہ فسادات کی زد میں آگیا۔ ان ملک گیر فسادات کو روکنے میں ملک کی مرکزی حکومت اور اپنے علاقوں میں ریاستی حکومتیں ناکام رہیں۔ اس ملک گیر فساد نے قانون کے محافظوں کےسامنے دیکھتے ہی دیکھتے 1200بے قصور افراد کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ راشٹریہ سہارا لکھتا ہے: ’’نئی دلّی 12دسمبر، ملک بھر میں ہفتے بھرکے وسیع پیمانے پر ہوئے تشدد میں تقریباً 1200لوگوں کی موت ہوئی اور کم ازکم پانچ ہزار کے زخمی ہونے کے بعد آج زیادہ تر ریاستوں میں امن وامان بحال ہوگیا ہے۔135قصبوں میں کرفیوہے۔حساس علاقوں میں فوج و نیم فوجی دستوں کا کنٹرول جاری ہے۔ تشدد سے زیادہ متاثرریاستوں میں ہلاک شدگان کی تعداد اس طرح ہے—گجرات 254، مدھیہ پردیش 110، آسام 77، کرناٹک 68، راجستھان 51، بنگال 37، اترپردیش 166۔ فسادات کی مارکاٹ تھم جانے کے بعد بھی لوگوں میں فرقہ وارانہ جنون برقرار ہے۔یہ تب تک برقرار رہے گا جب تک ایودھیا معاملہ پوری طرح ختم نہ ہو جائے۔ایودھیا معاملے سے متعلق فسادی عفریت جیسے ہی جماہی لے رہا تھا، بمبئی میں دوبارہ بھیانک صورت اختیار کرکے بھڑک اٹھا جس میں وہ تقریباً 560؍افراد کو نگل گیا۔راشٹریہ سہارا لکھتا ہے: ’’شہر میں مختلف ہسپتالوں میں کی گئی جانچ کے دوران قریب 560لوگ مارے گئے، اس سے پہلے 6؍دسمبر کی ایودھیا کی واردات کے بعد پیداہوئے تشدد میں 203شہری ہلاک ہوئے تھے۔ اس طرح تشددکے دونوں مرحلوں نے 753جانیں لے لیں۔ اس تعلق سے وزیر داخلہ چوہان بھی قبول کرتے ہیں کہ ’دراصل اس بار جتنے منصوبہ بند طریقے سے فساد ہوا، اس پر قابو پاناآسان نہیں رہ گیا تھا۔‘‘

9؍فروری 1994ء کو کانپور میں جنتاپارٹی کے سابق کونسلرکالا بچہ کے قتل کی مخالفت میں بھیانک فسادبھڑک اٹھا۔ اس پر قابو پانے کے لیے کانپورمیں فوج تعینات کی گئی اور 15تھانہ علاقوں میں کرفیو لگایا گیا۔

ملک کومذہبی فرقوں نے ایسا جکڑ رکھا ہے کہ مذہبی مقامات میں فسادبرپاکرنےاور تشددکرنے کے لیے منصوبہ بند پروگرام بنتے ہیں۔ حکومت و حفاظتی دستے ان منظرناموں کو دانستہ نظرانداز کردیتے ہیں۔ مذہب کے ٹھیکیدارمذہبی مقامات کوعوامی جذبات سے منسلک کرکےماحول کو ہمیشہ جنونی بنائے رکھتے ہیں۔ اس میں ذراسی دخل اندازی ورکاوٹ آنے پر فساد بھڑک جاتا ہے۔

ہبلی(کرناٹک)کےعیدگاہ میدان میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے 15؍اگست 1994ء کوپرچم لہرانے کی کوشش میں وہاں فساد بھڑک گیا، جس میں 7 لوگ ہلاک ہوئے اورکئی زخمی ہو گئے۔حالاں کہ عید گاہ جیسے خالص مذہبی مقام پرقومی پر چم لہرانے کی کوئی تک نہیں ہے ، اسے صرف شر ارت ہی کہاجاسکتا ہے اور یہ شرارت وہی لو گ کرتے ہیں ،خود جن کے دل میں قومی پرچم کا ذرہ برابر احترام نہیں ہوتا، اور اپنے گھروں اور دفاتر پروہ قومی پرچم کی جگہ اپنا مذہبی پرچم لہراتے نظرآتے ہیں۔

7؍اکتوبر 1994ء کو بنگلور میں اردو خبروں کی نشریات کے خلاف چلی تحریک سے شہر میں بھیانک فسادبھڑک اٹھا، ’’شہر کے کرفیووالے علاقوں میں آج فوج نے فلیگ مارچ کیا۔ دوردرشن پر جمعہ کو اردو خبروں کی نشریات کی مخالفت میں چلی تحریک کے سلسلے میں مرنے والوں کی تعداد 18 پہنچ گئی ۔فائرنگ اور چھرے بازی میں گیارہ افراد اور مارے گئے اور زخمیوں کی تعداد 154بتائی گئی ۔ 10؍مارچ 1995ءکو علی گڑھ میں ایک لڑکی کے ساتھ معمولی چھیڑچھاڑ کے تنازع کو لےکربھیانک فساد بھڑک اٹھا، جس میں نو لوگوں کی جائے واقعہ پر ہی موت ہوگئی اور تقریباً 50 لوگ زخمی ہو گئے۔فسادزدہ علاقے میں لوٹ پاٹ اور آتشزدگی کے واقعات 72گھنٹے تک ہوتی رہیں۔ 18؍مارچ 1995ءکو آگرہ میں میرا حسین چوراہے پر فساد کی شروعات ایک اسکوٹر سوار نوجوان کے دوسرے نوجوان سے ٹکرانے جیسے واقعے کو لے کر ہوئی، جس میں لوگوں کے ہلاک ہونے کے ساتھ لوٹ پاٹ اورآتش زدگی کی بھیانک وارداتیں بھیں ظہورپذیر ہوئیں۔20؍مارچ 1995ء کو ہبلی میں ہولی کے موقع پر ایک جلوس پر پتھراؤ کےبعد بھیانک فساد ہوگیاہے جس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے۔فسادیوں نے متعدد دکانوں کو لوٹا، لکڑی کی ایک ٹال میں آگ لگادی، تین آٹورکشہ اور ایک کارکوتوڑ ڈالااور دیگر گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔

مدھہ پردیش کی تاریخی نگری دھار کی بھوج شالہ کو لے کر 13؍دسمبر 1996ءکو عرس کے ایک جلوس میں پتھربازی سے بھیانک فساد ہوا جس میں کافی لوٹ پاٹ ہوئی اور جان ومال کا نقصان ہوا۔کئی دنوں تک پورے شہر میں کرفیولگا رہا۔ 20؍دسمبر 1996ءکو میرٹھ کے سوتی گنج میں ایک لڑکے کے ہاتھوں نادانستگی میں ایک انڈا پھوٹ جانے سے فساد شروع ہو گیاجس میں کئی لوگ ہلاک ہوئے اور کئی شہری و پولیس شدیدزخمی ہو گئے۔فساد کا اثر کئی دنوں تک رہا۔

اصغر علی انجینئر کے تجزیہ کے مطابق ہندوستان میں 1950-2002 کے درمیان فرقہ وارانہ تشدد میں مجموعی طور پر 11,855 جانیں ضائع ہوئیں ۔ سال 2000 میں فرقہ وارانہ تشدد کے 24 واقعات ہوئے جن میں 91 افراد ہلاک اور 165 زخمی ہوئے،اس کے ٹھیک ایک سال بعد سال 2001 میں 27 فسادات ہوئے جن میں 56 افراد ہلاک اور 158 زخمی ہوئے اور 2002 میں 28 فرقہ وارانہ فسادات ہوئے (جن میں گجرات کے فسادات بھی شامل ہے)میں 1,173 افراد ہلاک اور 2,272 زخمی ہوئے۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ صرف گجرات میں 2000 سے زیادہ لوگ مارے گئے ۔

اقوام متحدہ کی انسانی ترقی کی رپورٹ (یو این ایچ ڈی آر) 2004 نے رپورٹ کیا کہ “1954 کے بعد سے ہندوستانی فرقہ وارانہ تشدد میں ہونے والی تمام ہلاکتوں کا 36.2 فیصد 1990 اور 2002 کے درمیان ہوا ہے۔” سال 2003 بھی فرقہ وارانہ تشدد کے واقعات سے خالی نہیں تھا، اس سال 67 فسادات ہوئے جن میں 58 افراد جان کی بازی ہار گئے اور 611 زخمی ہوئے۔ پی آر ایس لیجسلیٹو ریسرچ 2011 کی رپورٹ نے ہندوستان میں فرقہ وارانہ تشدد کے بارے میں اہم اعدادوشمار متعارف کرائے ہیں۔ ان کے مطابق 2005-09 کے دوران فرقہ وارانہ تشدد کے 4,030 واقعات میں 648 افراد ہلاک اور 11,278 زخمی ہوئے۔ ادارہ نے اپنے تجزیہ میں یہ بھی پایا کہ ہر سال اوسطاً 130 افراد ہلاک اور 2,200 زخمی ہوئے۔ یہ واقعات 35 ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سے 24 سے حاصل کئے گئے ہیں۔ سب سے زیادہ واقعات مہاراشٹر میں(700) ہوئے، اس کے بعد مدھیہ پردیش میں (666) اور اتر پردیش (645) نوٹ کئے گئے ۔

وزارت داخلہ کی رپورٹ کے اعداد و شمار میں کہا گیا ہے کہ 2011 سے لے کر 2014 تک ملک میں کل 2715 فرقہ وارانہ واقعات رونما ہوئے ہیں جس کا مطلب ہے کہ اوسطاً سالانہ تقریباً 680 واقعات رونما ہوئے۔ سب سے کم واقعات 2011 میں (580) اور سب سے زیادہ 2013 میں (823) ہوئے۔ 2012 اور 2014 میں رپورٹ ہونے والے واقعات کی تعداد بالترتیب 668 اور 644 ہے۔ ان واقعات میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد کم و بیش ان واقعات کی تعداد کے تناسب سے تھے جن میں 2013 میں سب سے زیادہ اور 2011 میں سب سے کم لوگ مارے گئے۔ ۔

ایک سوال کے جواب میں 12 فروری 2014 کو راجیہ سبھا میں حکومت ہند کی جانب سے جواب دیاگیا کہ 2011 میں 580 جگہوں پر فسادات ہوئے جس میں 91 افراد مرے، جبکہ 1899 افراد زخمی ہوئے۔ 2012 میں 688 جگہوں پر فسادات ہوئے جسمیں 44 لوگ مرےاور 2117 افراد زخمی ہوئے۔ 2013 میں 833 جگہوں پر فسادات ہوئے جس میں 113 افراد کی موت ہوگئی اور 2269 افراد زخمی ہوئے ۔وہیں 2014 میں ماہ جون تک 308 فسادات ریکارڈ کیے گئے ۔

اسی طرح ایک اور سوال کے جواب میں راجیہ سبھا میں ہی بتایاگیا کہ صرف اپریل سے جون کے درمیان 2014 میں ملک کے مختلف حصوں میں 149 فسادات رونما ہوئے ۔ راجیہ سبھا میں ہی 20 دسمبر 2017 کو جاری کیے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایاگیا کہ 2014 سے 2016 کے درمیان بڑی تعداد میں فسادات ملک میں ہوئے، جن میں صرف 2014 میں 644 جگہوں پر فسادات ہوئے اور تقریباً 95 لوگ مارے گئے جبکہ 2015 میں 751 فسادات ہوئے اور 97 افراد مارے گئے۔ 2016 میں 703 جگہوں پر فسادات ہوئے جس میں تقریباً 86 افراد مارے گئے ۔

اسی طرح 4 دسمبر 2019 کو راجیہ سبا میں ہی سید ناصر حسین کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایاگیاکہ صرف 2015 میں 65255 جگہوں پر فسادات ہوئے۔ 2016 میں 61974 جگہوں پر جبکہ 2017 میں 58880 جگہوں پر فسادات ہوئے۔ اس رپورٹ میں مرنےوالوں اور ز خمی ہونے والوں کی تفصیلات نہیں دی ئی ہیں۔یہ تعداد یونین ٹیرٹیریز اور ریاستوں میں ہونے والے فسادات دونوں شامل ہیں، جبکہ وجوہات میں زرعی، ذات پات، فرقہ وارانہ، صنعتی، سیاسی اور دیگر عوامل کو شامل کیاگیا ہے ۔

وہیں 2018 سے 2020 کے درمیان مختلف ریاستوں اور یونین ٹیری ٹیری فسادات کی تفصیلات بتاتے ہوئے حکومت ہند نے 8 دسمبر 2021 کو راجیہ سبھا میں ڈاکٹر سنتا نوسین کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں بتایا ہے کہ صرف 2018 میں فسادات سے مرنے والوں کی کل تعداد ۴۱ جبکہ زخمی ہونے والوں کی تعداد 1611 تھی۔ اسی طرح 2019 میں 23 لوگوں نے فسادات میں جان گنوائی جبکہ زخمیوں کی تعداد 1135 تھی اسی طرح 2020 میں فسادات سے 37 افراد مرے جبکہ 6020 افراد زخمی ہوئے ۔

اس کےعلاوہ حصول آزادی کے بعد کے فسادات کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ آزادہندوستان میں مذہب وفرقے کی بنیادپر فسادات کے ساتھ ساتھ ذات پات پر مبنی بھیانک فسادات بھی روز کا معمول بن گئے ہیں۔بہار تو ذات پات پر مبنی فسادات سے اس طرح متاثر ہےہی کہ وہاں کی سرزمین لگاتار اس طرح کے فسادات سے لال ہوگئی ہے۔اس کے علاوہ شمال مشرقی صوبے، اتر پردیش ، پنجاب ، راجستھان، مہاراشٹراور تمل ناڈو میں ذات پر مبنی فسادات وقتاً فوقتاً انتہائی پرتشدد صورت اختیار کررہے ہیں۔

فسادات کا مذکورہ بالا جائزہ انتہائی مختصر ہے۔اگر صرف آزادہندوستان میں بابری کے تناظر میں فرقہ وارانہ فسادات کا ہی ذکر کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب لکھی جاسکتی ہے، پھر فسادات کے بارےمیں اعدادوشمار جمع کرنااور صحیح معلومات کے لیے سروے کرنا انتہائی دشوارکام ہے۔ایک شخص صرف اپنے ہی بل بوتے پر وسیع لائحہ عمل کو پورا کرنے میں پوری طرح ناکام ثابت ہوتا ہے۔اس طرح ہم دیکھتے ہیں کہ فساد فرقہ پرستی کے زہر کا واضح نتیجہ ہے، جو متعلقہ افراد کو فوراً انتہائی متاثر کرنے کا اہل ہوتا ہے۔خلاصہ بحث گزشتہ صفحات میں شروع سے آخر تک ہندوستان میں فسادات کی تفصیل بتائی گئی ہےجس میں اہم فسادات کے اعدادوشمار ہی فراہم کیے جاسکے ہیں۔

فسادات سے متعلق سبھی حقائق کو مرتب کرکے حقیقت کو نمایاں کرنا انتہائی دشوار وناممکن کام ہے۔مذکورہ فسادات کا ایک گہرا جائزہ لینے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ شروع ہی سے ہندوستان جیسے فطری اعتبار سے زرخیز ملک کی ترقی اس قسم کےفرقہ وارانہ تشدد کے سبب رک جاتی ہے۔حکومت کا جو بجٹ ترقی کے کاموں کے لیے مختص ہوتا ہے،وہ فسادات کو ختم کرنے اور ہلاک شدگان پر خرچ ہو جاتاہے۔آئے دن کے فسادات سے سماج کا شہری اپنے آپ کو ایک ہی مقام کا ساکن نہیں سمجھتا ہے، جس سے وہ اپنی منقولہ و غیرمنقولہ جائداد میں اضافہ کرنے سے ڈرتا ہے۔ اس طرح فساد قوم، سماج اور فرد کی ترقی کا سب سے بڑاسدِراہ ہے۔

مذکورہ فسادات کا باریک بینی سے جائزہ لینے پر بھی ہم اس سے ہونے والے جان ومال کے نقصان کا ٹھیک ٹھیک اندازہ نہیں لگا سکتے۔ سنہ 1947ءکے فسادات میں ہلاک ہونے والوں کی تعدادکا تخمینہ دوسری جنگ عظیم میں مرنے والوں سے کہیں زیادہ لگایا جاتاہے۔یہ سب سے بڑی ستم ظریفی ہے کہ بے انتہا جان ومال کا ناقابل تلافی نقصان کرنے والے اور قتل عام و تباہی کے غماز ان فسادات کے مجرمین کو ابھی تک کوئی سزا نہیں ملی ہے۔جب کوئی شخص بھول سے ، جوش میں آکر، یا کسی ظالم کی تباہی کے مقصد سے ایک قتل کردیتاہے ، تو اسے قانوناً سزائے موت دینےکا التزام ہے۔قتل کی کوشش کرنے یا سازش رچنے کے لیے بھی اسی قسم کی سخت سزا مقرر ہے۔ لیکن جب کسی شخص کی بھرپور کوششوں اور جدوجہد سے سیکڑوں افراد دیکھتے ہی دیکھتےموت کے گھاٹ اتار دیے جاتے ہیں، کروڑوں کی املاک نذرآتش کردی جاتی ہیں،اس کو سزا دینے کا نہ تو قانوناً کوئی التزام ہے اور نہ ہی اب تک کسی کو اس بھیانک کرتوت کی سزا دی گئی ہے۔

ان بھیانک واقعات کے بعد عوام میں غم وغصہ طاری ہوجانافطری بات ہے اور وہ اس وقت کے انتظامیہ کی بے حسی کے تئیں ناراض ہوجاتے ہیں۔چالاک ومکّار سیاستداں عوام کی ذہنی حالت کو پرسکون کرنے کی غرض سے ہمیشہ کمیٹی بٹھاتے ہیں کمیشن کی تشکیل کرتے ہیں۔ان کمیشنوں اور کمیٹیوں کی تشکیل مجرمین کو سزا دینے کے مقصد سے نہیں ، بلکہ عوامی غم وغصے کو فوراً ٹھنڈا کرکے حقیر سیاسی مفاد کی غرض سے کی جاتی ہے۔اس لیے ہمارے ملک میں اب تک ایسی کوئی مثال نہیں ہے ، جس سے کسی بھی سنگین جرائم کے لیے تشکی کردہ کمیٹی یا کمیشن کی سفارش پر مجرمین کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی ہو۔بلکہ کمیٹیوں اور کمیشنوں پر قومی سرمایہ خرچ ہونے کے علاوہ نقصان ہوتا ہے۔

اس کے پس پشت ایک اہم اور بنیادی سبب یہ ہےکہ کوئی سنگین جرم ،خواہ وہ سیاسی، سماجی،فرقہ وارانہ،اخلاقی رذائل یا بدعنوانی سے متعلق ہے،اسے سیاسی پشت پناہی ضرور حاصل ہوتی ہے۔اوپر سے مضبوط ہاتھ ہونے کے سبب عوام کی زبردست آواز بھی دب جاتی ہے۔اس کو دبانے میں کمیشن اور کمیٹیاں معاون کردار اداکرتی ہیں۔نتیجتاً مجرمین شہ پاکر آزاد گھومتے ہیں اور اگلی کارروائی کا پختہ منصوبہ بنانے میں مصروف رہتے ہیں۔ان کے سرپرست متاثرین کے آنسو پونچھتے ہوئے اپنے گھڑیالی آنسو بہاتے ہیں۔یعنی سرپرستی پانے والے لوگ آنسو نکلواتےہیںاور سرپرستی کرنے والے آنسو پونچھتے ہیں۔دونوں کی سرگرمیاں آنسوؤں پر مرکوز ہوتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ فسادات وجرائم کا لامتناہی سلسلہ قدرتی معمول کی طرح ہمیشہ چلتا رہتا ہے۔

ان کی یہ تیز وتند روانی کب رکے گی، یہ سوال ہنوز برقرار ہے۔کیوں کہ جب محافظ ہی حملہ آور بن جاتاہے تب محافظ اور حملہ آور کی صحیح پہچان نہیں ہوپاتی۔ان ہی عوامل کے سبب مجرمانہ فطرت والے سزاپانے سے محفوظ رہتے ہیں۔عدلیہ متاثر ہو جاتی ہے، عاملہ بدعنوان ہو جاتی ہےاور مقننہ خودغرض وموقع پرست ہوجاتی ہے۔ ملک وسماج بے سمتی کا شکار ہوجاتا ہے۔نتیجتاً جرائم میں اضافہ ہونے لگتا ہے، فسادات برپا ہونے لگتے ہیں اور بدعنوانی پنپنے لگتی ہے۔ہر طرف انارکی سی پھیل جاتی ہے، فی الحال ہمارا ملک ان ہی واقعات سےگزررہا ہے۔اس صورت میں فسادکااختتام ہوتا کہیں بھی نظر نہیں آتا، مستقبل گہری تاریکی میں ڈوبا ہوا ہے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com