20 جولائی کو پارلیمنٹ مارچ کے دوران گرفتار کیے گئے فریٹرنٹی موومنٹ کے ایک کارکن الفوز اعظمی نے اپنی گرفتاری کی روداد بیان کرتے ہوئے پولیس کارروائی پر سنگین سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ صرف پولیس تشدد کا معاملہ نہیں بلکہ اس بات کی نشاندہی بھی کرتا ہے کہ احتجاج اور مزاحمت کے دوران مسلم شناخت کا سوال آج بھی ایک اہم حقیقت کے طور پر موجود ہے۔
کارکن کے مطابق انہیں پارلیمنٹ مارچ کے دوران حراست میں لیا گیا اور بعد میں 24 گھنٹے سے زیادہ وقت تک گرفتار رکھا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں گرفتاری میمو پر دستخط کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ اس دوران انہیں اپنے وکیلوں اور فریٹرنٹی موومنٹ کے ساتھیوں سے رابطے کی اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد صرف مبینہ پولیس تشدد کو سامنے لانا نہیں بلکہ ان لوگوں کی توجہ بھی مبذول کرانا ہے جو یہ سمجھتے ہیں کہ اس احتجاج میں “شناخت کی سیاست” کا سوال پس منظر میں چلا گیا ہے۔ ان کے مطابق حقیقت اس کے برعکس ہے۔کارکن نے بتایا کہ گرفتاری سے قبل انہیں بھی دیگر مظاہرین کی طرح شدید لاٹھی چارج کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق جب انہیں زبردستی بس میں لے جایا گیا تو باہر موجود 10 سے 15 پولیس اہلکاروں نے ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
“اس داڑھی والے کو بھی باہر کھینچو۔”
ان کا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں نے ایسا اس لیے کہا کیونکہ انہوں نے بس کی آڑ میں ایک دوسرے مظاہر کو مبینہ طور پر مارتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان کے مطابق دو یا تین اہلکار دوبارہ بس میں داخل ہوئے اور انہیں باہر نکالنے کی کوشش کی، لیکن فریٹرنٹی موومنٹ کے ایک ساتھی نے انہیں مضبوطی سے پکڑ لیا، جس کی وجہ سے وہ کامیاب نہیں ہو سکے۔
کارکن کے الزام کے مطابق اس کے بعد بس کو اندر سے بند کر دیا گیا اور ان پر کیل والے جوتوں، تھپڑوں، لاتوں اور گھونسوں سے حملہ کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ اس دوران ان کے خلاف مسلم مخالف الفاظ جیسے “ملا”، “کٹوا”، “دیش دروہی” اور دیگر توہین آمیز جملے استعمال کیے گئے۔انہوں نے مزید بتایا کہ تشدد کے بعد پولیس اہلکاروں نے ان کا اور ان کے ساتھی کا موبائل فون لے لیا، جو ان کے مطابق آج تک واپس نہیں کیا گیا۔کارکن کا کہنا ہے کہ جب انہیں چترسال اسٹیڈیم میں رات ایک بجے تک رکھا گیا تو انہوں نے ایک سینئر پولیس افسر سے بات کرنے کی کوشش کی تاکہ وہ اس رویے کی وجہ سمجھ سکیں اور اپنے فون کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں۔
ان کے مطابق جب انہوں نے افسر کو بتایا کہ ان کا فون چھینا گیا اور اس دوران مسلم مخالف جملے کہے گئے تو افسر نے جواب دیا:”اب کیا کر سکتے ہیں، تم ہو ہی ایسی کمیونٹی سے، جس کو ایک ہی لاٹھی سے ہانک دیا جاتا ہے۔”کارکن نے کہا کہ تعصب کا رویہ یہاں ختم نہیں ہوا۔ ان کے مطابق طبی معائنے کے لیے لے جاتے وقت ایک پولیس اہلکار نے ان سے رہائش کے بارے میں پوچھا۔ جب انہوں نے بتایا کہ وہ جامعہ نگر سے تعلق رکھتے ہیں تو اہلکار نے کہا:
“اچھا، تو تم حساس علاقے سے آتے ہو۔”
انہوں نے کہا کہ اس لمحے انہیں رویندر کور کی کتاب “Religion, Violence and Political Mobilization in South Asia” کا ابتدائی باب یاد آیا، جس میں کسی فرد کے بارے میں پہلے سے قائم نظریے کو “prior theory” کہا گیا ہے، جو معاشرے میں فرقہ وارانہ سوچ کو مضبوط کرنے کا سبب بنتا ہے۔
کارکن کے مطابق پوری رات لاک اپ میں رکھنے کے بعد اگلی صبح انہیں عدالت لے جایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ گاڑی میں ایک پولیس افسر نے تین افراد سے ان کے پس منظر کے بارے میں سوال کیا۔
انہوں نے بتایا کہ ایک ساتھی نے کہا کہ وہ آئی آئی ٹی مدراس سے ہائبرڈ طریقے سے تعلیم حاصل کر رہا ہے، جس پر پولیس اہلکار نے اس کی تعریف کی اور اسے ایسی سرگرمیوں میں وقت ضائع نہ کرنے کا مشورہ دیا۔ لیکن جب ان سے ان کا تعلیمی ادارہ پوچھا گیا اور انہوں نے بتایا کہ وہ جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہیں تو پولیس اہلکار نے طنزیہ مسکراہٹ کے ساتھ کہا:
“اچھا، تیرا تو سمجھ آتا ہے یہاں۔”
کارکن کا کہنا ہے کہ ایسے کئی واقعات موجود ہیں جنہیں وہ اس بات کی علامت سمجھتے ہیں کہ مسلمانوں کے خلاف تعصب پولیس اور دیگر ریاستی اداروں میں گہرائی تک موجود ہے۔
انہوں نے ان لوگوں پر بھی تنقید کی جو مزاحمت کی سیاست میں مسلم شناخت کے سوال کو اٹھانے کو “فرقہ واریت” قرار دیتے ہیں۔ ان کے مطابق مسلم شناخت کو سامنے لانا فرقہ واریت نہیں بلکہ ان مسائل کی حقیقت کو بیان کرنا ہے جن کا سامنا ہندوستانی مسلمان روزمرہ زندگی میں کرتے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ “مسلم سیاست” کا مطلب فرقہ وارانہ تقسیم نہیں بلکہ مساجد کے تحفظ، بلڈوزر کارروائیوں سے گھروں کی حفاظت، وقف املاک کے دفاع، یونیورسٹیوں کے تحفظ، عزت کے ساتھ زندگی گزارنے، ہر علاقے میں آزادانہ کاروبار کرنے اور مسلمانوں کو دوسرے درجے کے شہری بنائے جانے کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وہ اپنے پورے جسم پر موجود مبینہ زخموں کی تصاویر اس لیے شیئر نہیں کر سکتے کیونکہ اس کے لیے انہیں کپڑے اتارنے ہوں گے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس سوال کو دوبارہ سامنے لاتا ہے کہ مزاحمت کی سیاست میں مسلم شناخت اور مسلمانوں کے تجربات کو کس طرح دیکھا جائے۔
Support Independent Media
Click Here and Join the Membership of Millat Times to Support Independent Media.
Support Millat Times