نئی دہلی۔8دسمبر (ملت ٹائمز عارفہ حیدر خان)
گذشتہ دنوں راجستھان کے ضلع رجسماند میں بنگال کے مالدہ ضلع سے تعلق رکھنے والے مزدور محمد افرازل کو لو جہاد کے نام پر بے دردی سے مارنے اور زندہ جلانے والے دہشت گرد سمبھو لال ریگار کے بارے کچھ اور نئے انکشافات ہوئے ہیں جس سے پتہ چلتاہے کہ اس پر پہلے سے بھی کئی مقدمات درج ہیں ،متعدد جرائم وہ انجام دے چکاہے اور وہ ایک عادی مجرم ہے لیکن پولس کے کاروائی نہ کرنے کی وجہ سے اس کے حوصلے بلند تھے جس کے نتیجے میں اس نے دہشت گردی اور درندگی کی انتہاءکرتے ہوئے ایک شخص کو زندہ جلا دیا ۔
انڈین ایکسپریس کی رپوٹ کے مطابق چند سال قبال دہشت گرد سمبھول لال اپنی 14 سالہ بیٹی کے ساتھ عصمت دری بھی کرچکا ہے اور بھی غنڈہ گردی کے اس پر الزامات ہیں جبکہ اس دن محمد افرازل کو قتل کرنے کے بعد اس ہند ولڑکیوں کو شدید دھمکی دی تھی اور کہاتھا کہ اگر کسی نے مسلمان لڑکے سے شادی کی تو ا س کی خیر نہیں ۔دوسری جانب اس کی بیوی سیتا کا کہناہے کہ اس کا شوہر کئی سالوں سے بے روزگا رتھا،مزاج میں سختی تھی تاہم یہ اندازہ نہیںتھاکہ وہ اس طرح کسی کا قتل بھی کردے گا ۔





