گﺅ تسکری کے نام پربھگوا دہشت گردی کے بعد پولس انکاﺅنٹر کا سلسلہ شروع ،الور میں پولس کے ہاتھوں ایک شخص کا قتل

الور(صابر قاسمی)
الور میں گﺅتکسری کے الزام میں متعدد مسلمانوں کو مارے جانے کے بعد اب پولس نے انکاﺅنٹر کرنا شروع کردیا ہے ،چناں چہ گزشتہ تین روز قبل گاڑی سے گائے لیجاتے ہوئے تعلیم سالاھیڑی کا الور پولس کے ذریعے اس وقت گولی مار کر انکاو¿نٹر کر دیا گیا جب انہوں نے پولس کے ذریعے گاڑی رکوائی گئی تو گاڑی نہ روکی ،جس کے بعد پولس نے اگلے ناکہ پر فون کے ذریعے مطلع کر دیا کہ گﺅ¿ تسکر آرہے ہیں تاہم جیسے ہی تعلیم اور اس کے ساتھیوں کی گاڑی دوسرے چیک پوسٹ پر پہونچی تو پولس اہلکاروں نے تابڑ توڑ حملہ کر دیا جس کے نتیجہ میں آٹھ راو¿نڈ لگنے کے بعد تعلیم سالاھیڑی گاڑی میں ہلاک ہوکر چت ہوگیا۔ اس معاملے کو آج تین روز ہوگئے ۔حیرت کی بات یہ ہے کہ بغیر معقول وجہ کے دو روز گذرنے باوجود پوسٹ مارٹم میں تساہلی سے کام لیا گیا اور اس طرح گذشتہ دو روز ضلع انتظامیہ الور نے بغیر پوسٹ مارٹم کے گذار دیے واضح رہے کہ کل پورا دن باو¿جود تمام تر کوششوں کے کل گذشتہ پوسٹ مارٹم نہیں کیا گیا۔
تاہم آج دوپہر سپریم کورٹ کے جو ہدایات آ کاو¿نٹر کے بارے میں ہیں اسی کے اعتبار سے چار رکن ڈاکٹروں کی ٹیم کی نگرانی میں پوسٹ مارٹم کیا گیا جس میں چار طرح کے ڈاکٹر شامل کیے گئے تھے دو فزیشن ایک تھیرولوجی چوتھا ہڈی کا ڈاکٹر سبھی ڈاکٹر اپنے شعبہ کے ماہرین میں سے پورا میڈیکل معائنہ ویڈیو گرافی کے تحت ہوا اس موقع پر جب اس معاملے کی قیادت کر رہے رمضان چوہدری سے جب بات ہوئی تو انہونے کہا کہ جب ہم نے ایس پی الور سے پولس اہلکاروں کے خلاف مقدمہ کرنے کی بات کی تو انہونے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ آ کاو¿نٹر صیح ہے اور پولس پارٹی حق بجانب تاہم موصوف نے انقلاب سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جلد ہی ہم پرائیویٹ استغاثہ ڈال کر وایا عدلیہ پولس پر کاروائی کریں گے انہونے بتایا کہ اس معاملے کی جانچ جے پور سی آئی ڈی کو دے دی گئی ہے جیسے ہی آج پوسٹ مارٹم کرنے کے بعد نعش کو تعلیم کے حوالے کردیا تو سیدھے لواحقین نعاش کو اپنے گاو¿ں سالاھیڑی شام کو نوح پہونچے جس کے بعد گذشتہ تین روز سے رو رو کر نڈھال تعلیم کی والدہ سموبیگم اور باپ شریف اور ان کی نوجوان اہلیہ کا رو رو کر برا حال ہوگیا تھا اور سب نے آخری دیدار کرتے ہوئے تعلیم کے جسد خاکی کوساڑھے چھ بجے ہزاروں افراد نے نماز جنازہ میں شرکت کی اور نم آنکھوں کے درمیان تدفین عمل میں آئی۔