نفرت کی سوداگری کرنے والے نیوزی لینڈسے سبق حاصل کریں ۔ باغونوالی میں بے گھر فسادمتاثرین کو مکانوں کی چابیاں تقسیم کرتے ہوئے مولانا سید ارشدمدنی کاخطاب

نئی دہلی(ملت ٹائمز)
ہم سیاست کی بنیادپر نہیں انسانیت کی بنیادپر کام کرتے ہیں جمعیةعلماءہند ایک غیر سیاسی خالص مذہبی جماعت ہے مگر یہ صرف مسلمانوں کی ہی نہیں بلکہ ملک میں بسنے والے تمام لوگوں کی خدمت کرنا اپنا فرض عین تصور کرتی ہے ، اور ابتداہی سے اس کانظریہ اور اس کی سوچ یہی رہی ہے ، جمعیةعلماءہند تمام مصیبت زدہ لوگوں کی خواہ ان کا کوئی بھی مذہب اور مسلک ہو اپنی بساط بھر مددکرتی ہے اور لوگوں کی مصیبت اور ان کے دکھ دردکو دورکرنے کے لئے وہ جوکچھ کرسکتی ہے پوری دلجمعی کے ساتھ کرتی ہے یہ گرانقدرالفاظ جمعیةعلماءہند کے صدرمولانا سید ارشدمدنی کے ہیں جو انہوں نے مظفرنگر کے قریب واقع باغونوالی میں منعقد ایک ساددہ مگر اہم تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آج کہے یہ تقریب مظفرنگر فساد متاثرین کے لئے منعقد ہوئی تھی جس میں آج جمعیةعلماءہند کی بازآبادکاری مہم کے پانچویں مرحلہ میں مولانا مدنی نے 85خاندانوں کو اپنے دست مبارک سے نوتعمیر مکانوں کی چابیاں عطاءکیں ۔
اپنی گفتگوکوآگے بڑھاتے ہوئے مولانا مدنی نے جمعیہ علماءہند کی فلاحی سرگرمیوں پرروشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اب سے کوئی چارپانچ برس پہلے مغربی بنگال میں انتہائی خوف ناک سمندری طوفان آیا تھا جس کے متاثرین میں ہندوومسلمان دونوں تھے جمعیةعلماءہند ان تمام مصیبت زدگان کی مددکیلے وہاں جاپہنچی امدادی کیمپ لگائے گئے ان میں متاثرین کے لئے کھانے پینے کا وسیع پیمانے پر انتظام کیا گیا ان کیمپوں میں ہندوومسلمان دونوں ایک ساتھ بیٹھ کرکھانا کھایا ان میں کوئی مذہبی تفریق نہیں تھی ، اسی طرح کیرالا میں جب بارش نے خوفناک تباہی مچائی تو جمعیةعلماءہند نے وہاں بھی جنگی پیمانہ پر امدادی مہم شروع کی ، سیلاب متاثرین میں ہندوومسلمان اور عیسائیوں کی یکساں تعدادتھی ، جمعیةعلماءہند نے یہاں بھی مذہب سے اوپر اٹھ کر سب کی مددکی ، کیرالامیں بازآبادکاری کاکام شروع ہوا جو بدستورجاری ہے ، اپنے خطاب میں مولانا مدنی نے آسام شہریت کے مسئلہ کا بھی ذکرکیا اورکہا کہ وہاں تقریبا 48لاکھ خواتین کے سروں پر غیر ملکی ہونے کی تلوار لٹکادی گئی تھی ان میں 23لاکھ سے زائد ہندوخواتین شامل تھیں ، ہم نے سوچا اگر کچھ نہ کیا گیا تو صوبائی حکومت مرکزسے مل کر ان خواتین سے جبرا حق باشندگی چھین لے گی اور اس صورت میں وہاں ایک بڑا انسانی بحران پیداہوسکتاہے انہوں نے کہا کہ پہلے توہم نے سیاسی سطح اس مسئلہ کو حل کرانے کی کوشش کی مگر جب ہم نے ہر طرف سیاسی بے حسی دیکھی تو مجبورا سپریم کورٹ جانے کا فیصلہ لیا گیا اس سلسلہ میں ملک کے ناموروکلاءکی خدمات حاصل کی گئیں انہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ ہمیں اس معاملہ میں سوفیصدنہیں ایک سوایک فیصد کامیابی حاصل ہوئی انہوں نے وضاحت کی کہ آسام کے کچھ دوسرے مسائل بھی ہیں جو سیاسی سطح پر اگر حل نہیں ہوسکے تو ہم ایک بارپھر سپریم کورٹ کا رخ کرسکتے ہیں ،
مولانا مدنی نے کہاکہ یہ اللہ کابے پایاں احسان ہے کہ مظفرنگر فسادکے بے گھر متاثرین کو رہنے کے لئے آشیانہ مل گیا اس میں اصحاب خیر کا تعاون شامل ہے ورنہ ہمارے پاس کیا ہے ہم توایک ہاتھ سے لیتے ہیں دوسرے خرچ کردیتے ہیں انہوں نے کہا کہ جن متاثرین کو ابھی مکان نہیں ملا ہے ان شاءاللہ ان کے لئے بھی رہائش کا انتظام بہت جلد ہوجائے گا مگر بنیادی سوال یہ ہے کہ لوگ بے گھر کیوں ہوئے اور انہیں نقل مکانی پر کیوں مجبورہونا پڑا؟انہوں نے کہا کہ اگر ملک میں بھائی چارہ میل میلاپ امن وامان ہوتا اور محبت واخوت کی ہزارہاسال پرانی تہذیب کو ختم نہ کیا جاتا تو شاید لوگوں کو بے گھری پر مجبورنہ ہونا پڑتا یہ وہ لوگ ہیں جو خوف وہشت کی وجہ سے اپنے گھروں کو واپس جانے کا حوصلہ نہیں کرپارہے ہیں مولانا مدنی نے کہا کہ ہماراملک تو ہزاروں سال سے امن واتحاد کا گہوارہ رہا ہے ، مگر کچھ لوگ اپنی نفرت کی سیاست سے اسے تباہ وبرباد کردینے پر آمادہ ہیں انہوں نے کہا کہ ایسا کرنے والوں کو سوبار اپنے گریباں میں جھانکناچاہئے اور نیوزی لینڈجیسے چھوٹے ملک سے سبق حاصل کرنا چاہئے جس نے انسانیت اور محبت واخوت کی ایک نئی مثال قائم کی ہے انہوں نے مزید کہا کہ نیوزی لینڈ میں جو مسلمان آبادہیں وہ وہاں کے نہیں ہیں بلکہ دوسرے ملکوں سے روزگارکی غرض سے وہاں جاکر آبادہوئے ہیں مگر جب کرائسٹ چرچ کا افسوسناک سانحہ ہوا تو نہ صرف حکومت بلکہ وہاں کی پوری قوم غم زدہ مسلمانوں کے ساتھ اظہاریکجہتی کے لئے گھروں سے باہر آگئی اورسب نے مسلمانوں کو یہ احساس کرایاکہ اس دکھ کی گھڑی میں وہ تنہانہیں ہیں، انہوں نے سوال کیا کہ ایسا ہمارے اپنے ملک میں کیوں نہیں ہوتایہاں ہزاروں سال سے مسلمان آبادہیں اور دوسرے برادروطن کے ساتھ شیروشکر ہوکر رہتے آئے ہیں انہوں نے کہا کہ اگر جاٹ ، گوجر،راجپورت اور مسلمانوں کا خون ٹسٹ کرایاجائے تو ان سب کا خون ایک جیسانکلے گا انہوں نے وضاحت کی کہ جاٹ مسلمان بھی ہیں گوجربھی اور راجپوت اب اگر اس کے بعد بھی سب ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہوجاتے ہیں تو اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کچھ لوگ منصوبہ بند طریقہ سے منافرت اور مذہبی شدت پسندی کو بڑھاوادیکر لوگوں کو گمراہ کرنے کی سازشیں کرتے رہتے ہیں انہوں نے پرزورالفاظ میں کہا کہ یہ ملک جنت نشاں تب ہوگا جب انسانیت کی
بنیادپر محبت واخوت اور یکجہتی کوفروغ دیا جائے گا لیکن اگر نفرت کی سیاست جاری رہی اور اس کی بنیادپر ہی حکومت کی جائے گی تو ملک تباہ وبربادہوجائے گا انہوں نے یہ بھی کہا کہ جو لوگ اقتدارمیں ہیں وہ یہ نہ بھولیں کہ اصل حکمراں اللہ اور اسی کی حکومت دائمی ہے دوسری ساری چیزیں فانی ہیں ، انہوں نے کہاکہ آئیے ہم سب مل کر نفرت کی زمینوں پر محبت کے گلاب کھلادیں ۔انہوں یہ بھی کہا کہ تقسیم وطن کے بعد سے ہی ملک کے مسلمانوں کو ابتلاءوآزمائش میں گرفتارکرکے رکھا گیا ہے اب تک ملک میں بیس ہزارسے زیادہ فرقہ وارانہ فسادات ہوچکے ہیں مگر کسی ایک واقعہ میں بھی قانون وانصاف کے تقاضہ کے پورانہیں کیاگیا اور کسی قصوروارکو اب تک سزانہیں دی گئی انہوں نے کہا کہ ہر فسادمیں پولس اور سیکورٹی ایجنسیوں کا مسلم مخالف چہرہ بے نقاب ہوتارہا ہے ، ممبئی فسادات لو لیکر شری کرشناکمیشن رپورٹ اس کی گواہ ہے مگر اب تک فسادات کو لیکر پیش کی گئی تمام رپورٹیں ردی کی ٹوکری کی نذرہوچکی ہیں ، ہم پولس اور ایجنسیوں کو جب جواب دہ بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں توکہا جاتاہے کہ ایسا کرنے سے پولس اور ایجنسیوں کا مورال کمزورہوگا گویا انسانی زندگی کی کوئی اہمیت نہیں ہے اور اس کے مقابلہ پولس اور ایجنسیوں کا مورال زیادہ اہم ہے ۔یہ منطق ہماری سمجھ سے بالاتر ہے جب تک اس سوچ کو تبدیل نہیں کیا جائے گا لوگ اسی طرح فسادات میں مارے جاتے رہیںگے اور بے گھر ہوتے رہیںگے ملک کی ترقی کے لئے یہ سوچ سودمندنہیں ہوسکتی اس لئے یہ اس کے لئے اولین شرط ہے کہ ملک کے ہر شہری کے ساتھ انصاف کیا جائے اور اس کے ساتھ مساویانہ سلوک ہو۔
قابل ذکر ہے کہ اس سے قبل مختلف مقامات پر 311مکانوں کی تعمیر کرواکر ان میں متاثرین کو آبادکیا جاچکاہے آج مزید 85خاندانوں کو مکانات کی چابیاں دی گئیں ہیں اس طرح اب تک جمعیةعلماءہند کی طرف سے فسادمتاثرین کے لئے466مکانات تعمیر کرائے جاچکے ہیں ، اس مہم میں اس بات کا بھی خاص لحاظ رکھا جاتا ہے کہ مکانات شہر سے قریب ہو ں تاکہ متاثرین کو آسانی سے روزگار مل سکے ۔

فضل الرحمن قاسمی
پریس سکریٹری جمعیةعلماءہند
9891961134

نوٹ:–متاثرےن کے تاثرات

متاثرین کی آنکھوں میں خوشی کے ساتھ آنسو بھی ہےں
نئی دہلی،28مارچ:
مظفر نگر فساد کو ہوئے طوےل عرصہ گزرچکا ہے لےکن متاثرےن کے زخم اب بھی تازہ ہےں۔آج مظفر نگر کے باغونوالی مےں بچے ہوئے متاثرےن مےں سے 85خاندانوں کو جمعےة علماءہندکے صدر مولانا سےد ارشد مدنی نے مکانوں کی چابےاں سپرد کےں۔اس موقع پر کچھ متاثرےن سے جب مےں نے گفتگو کی تو ان کے اندر کا درد آنکھوں سے آنسوو¿ں کی شکل مےں بہہ نکلا۔ وکےلہ نامی ایک عمر رسےدہ خاتون نے کہاکہ اسے ایک چھت مل گئی اب ےہاں وہ اپنے گھر والوں کے ساتھ سکون سے رہے گی۔لےکن اسے اپنے پرانے گھر کی ےاد اب بھی آرہی ہے۔ سسولی کے رہنے والے نفےس احمد نے کہا کہ آج مےں بہت خوش ہوں اور مولانا سےد ارشد مدنی کا شکرےہ بھی ادا کرتا ہوں کہ ان کی خصوصی توجہ اور ہمدردی کے نتےجے مےں مجھے ایک مکان مل گےا۔اگرچہ وہ خوش تھا مگر اس کے لہجے سے اس کا دکھ صاف چھلک رہا تھا۔شہزاد نامی ایک اور شخص سے جب ہم نے پوچھا کہ آج وہ کےسا محسوس کررہا ہے تو وہ رو پڑااور غمگےن لہجے مےں بولا کہ بڑی خوشی کا احساس ہورہا ہے مےں اب تک بے گھر رہا مگر مولانا محترم کی وجہ سے ایک بار پھر مکان والا ہوگےا جس مےں اب مےں اپنے اہل خانہ کے ساتھ رہ سکتا ہوں۔ وکےل کا کہنا تھا کہ اسے اس بات کی خوشی ہے کہ آج مکان مل رہا ہے مگر اپنا گھر اور اپنی بستی چھوڑنے کا غم بھی اسے ہے۔ ےہ پو چھنے پر کہ اب تو حالات پرامن ہےں اور بہت سے لوگ واپس گھروں کو جاچکے ہےں وہ کےوں نہےں گےا تو اس نے جواب دےا کہ فساد کی ہولناکی ےاد کرکے مےں آج بھی کانپ اٹھتا ہوں۔ جو کچھ ہوا اس نے ہمارے دلوں مےں اےسی دہشت بٹھا دی ہے کہ ہم اپنے گھروں کو واپس جانے کا حوصلہ نہےں کرپائے۔ اےوب نامی ایک متاثر نے کہا کہ سسولی مےں اکثرےتی فرقے کی آبادی بہت زےادہ ہے۔ ہم سارے مزدور لوگ ہےں۔ ہمارے پاس لے دے کر ایک گھر ہی تھا جو فساد کے دوران جلادےاگےا۔ اس نے کہا کہ مےںنے کئی بار سوچا کی گھر لوٹ جاو¿ں مگر بال بچوں کے تحفظ کو لے کر خدشات دور نہ ہوسکے اس لئے واپس نہےں گےا۔ اسلام کو جب گھر کی چابی ملی تو اس سے خوشی چھپائی نہےں جارہی تھی۔ پوچھنے پر اس نے کہا کہ آج وہ بہت خوش ہے۔ اس کے بچوں کو رہنے کے لئے ایک چھت کا ساےہ مل گےا۔اس کے لےے جمعےة علماءہند اور مولانا مدنی کا جس قدر شکرےہ ادا کےا جائے وہ کم ہے۔
ہم نے متاثرےن کے بچوں کو دےکھا وہ بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ بچے نوتعمےر شدہ کالونی کے درمےان کھےل رہے تھے۔ جب ہم نے ان سے پوچھا کہ کےا پڑھ رہے ہو تو ان کا کہنا تھا کہ ہم جہاں کےمپوں مےں رہتے تھے وہاں کوئی اسکول نہےں تھا۔اللہ بھلا کرے مولانا مدنی کا کہ انہوں نے اےسی جگہ ہمارے لےے کالونی تعمےر کروائی ہے جہاں سے اسکول اور مدرسہ کی دوری 100قدم ہے۔ بلاشبہ متاثرےن کے بچوں کے لئے تعلےم بے حد ضروری ہے۔ آج ےہاں ہزاروں لوگوں کی موجودگی سے بہت خوش تھے ۔ اب ےہ ملت اسلامےہ کی ذمہ داری ہے کہ ان کی تعلےم و تربےت کی طرف خصوصی توجہ دے تاکہ بڑے ہوکر ےہ بچے ملک و ملت کی تعمےر مےں اپنا کردار ادا کرسکےں۔ امےد کی جانی چاہئے کہ فساد متاثرےن کی زندگی اب پٹری پر لوٹ آئے گی اور وہ فساد کی دلخراش ےادوں سے خود کو باہر نکالنے مےں کامےاب ہوجائےں گے۔