کانگریس نے یہاں سے مسلم امیدواروں کو میدان میں اتار کر یقینی طور پر مولانا اجمل کو ہرانے کی سازش کی ہے تاکہ مسلم ووٹ تقسیم ہوجائے اور این ڈی اے امیدوار کی بآسانی جیت ہوجائے
گوہاٹی (ملت ٹائمز)
آسام میں کانگریس نے ان سیٹوں پر بھی اپنا امیدوار اتار دیاہے جہاں سے اے آئی یو ڈی ایف کے ایم پی پہلے سے تھے حالاں کہ یو ڈی ایف نے گذشتہ دنوں سے آسام کی چودہ لو ک سبھا سیٹوں میں سے صرف تین پر اپنا امیدوار اتارکر کہاتھاکہ ہم نے ووٹوں کی تقسیم سے بچنے کیلئے صرف 3 سیٹوں پر اپنا امیدوار اتار ا ہے بقیہ سیٹیں کانگریس کیلئے چھوڑ دی ہے ۔ امید کی جارہی تھی کانگریس ریٹرن گفٹ کے طور پر تین سیٹوں پر اپنا امیدوار نہیں اتارے گی یا کمزور امیدوار اتارے گی لیکن گانریس نے ایسا کچھ بھی نہیں کیاہے ۔
کانگریس سے کریم گنج سے یو ڈی ایف کے ایم پی رادھے بسواس کے مقابلے میں پہلے ہی اپنا امیدار اتار ردیاتھا اب اس نے ڈھبری سے اے آئی یو ڈی ایف کے قومی اور رکن پارلیمان مولانا بدرالدین اجمل کے مقابلے میں بھی ایک مسلمان ابو طاہر علی بپرائی کو امیدوار بنادیاہے ۔ اس کے علاوہ یو ڈی ایف کے حلقہ انتخاب سے بھی ایک مسلمان عبد الخلیق کو امیدوار بنادیاہے ۔
یہ دونوں مسلم اکثریتی حلقہ ہے ۔ خاص طور پر ڈھبڑی سے مولانا اجمل 2009 سے مسلسل جیت رہے ہیں ۔اب کانگریس نے یہاں سے مسلم امیدواروں کو میدان میں اتار کر یقینی طور پر مولانا اجمل کو ہرانے کی سازش کی ہے تاکہ مسلم ووٹ تقسیم ہوجائے اور این ڈی اے امیدوار کی بآسانی جیت ہوجائے کیوں کہ کانگریس کو آسام میں مسلم قیادت والی یو ڈی ایف سے پروبلم ہے ۔بی جے پی اس کیلئے کوئی مسئلہ نہیں ہے ۔
https://www.facebook.com/photo.php?fbid=2063598107068783&set=a.322946044467340&type=3&theater
واضح رہے کہ کانگریس نے اتر پردیش میں ایس پی بی ایس پی سے اتحاد نہ ہونے کے باوجود ریٹرن گفٹ کے طور پر 7 سیٹوں پر اپنا امیدوار نہیں اتارنے کا اعلان کررکھاہے کیوں کہ اتحاد نے رائے بریلی اور امیٹھی کی سیٹ پر اپنا امیدوار اتارنے کا اعلان نہیں کیا ۔آسام میں مولانا اجمل کی قربانیوں کا کانگریس نے کوئی صلہ نہیں دیا ۔






