گوہاٹی (ایم این این )
آسام کے وشوناتھ ضلع میں مبینہ طور پر گائے کا گوشت فروخت کرنے کے شک کی بنیاد پر بھیڑ نے ایک عمر دراز مسلم شخص کی بے رحمی سے پٹائی کر دی۔ اس پٹائی سے زخمی شوکت علی کا علاج اس وقت سرکاری اسپتال میں جاری ہے۔ مار پیٹ کا ویڈیو سوشل میڈیا پر بھی وائرل ہو چکا ہے۔
ویڈیو کے مطابق شوکت علی کو بھیڑ نے بے رحمی سے پٹائی کی جس کے بعد وہ گھٹنوں کے سہارے کیچڑ میں بیٹھ گئے اور بھیڑ سے التجا کر رہے ہیں کہ انھیں چھوڑ دیا جائے۔ ویڈیو سامنے آنے کے بعد پولس نے پانچ لوگوں کو حراست میں لیا ہے۔ ضلع پولس کے مطابق اس معاملے میں دو الگ الگ ایف آئی آر درج کروائی گئی ہیں۔ ان میں سے ایک ایف آئی آر شوکت علی کے بھائی نے درج کروائی ہے۔
پولس کا کہنا ہے کہ شولت علی اس علاقے میں گزشتہ 35 سالوں سے اپنا کاروبار کر رہا ہے۔ بازار میں لگنے والے ہفتہ وار ہاٹ میں اس کی گوشت کی دکان ہے جہاں وہ لوگوں کو پکا ہوا گوشت فروخت کرتا ہے۔ بھیڑ نے گائے کا گوشت فروخت کرنے کا مبینہ الزام عائد کرتے ہوئے اس پر حملہ کیا۔
اس سے پہلے بھی وشوناتھ ضلع میں بھیڑ کے ذریعہ ایک شخص کا پیٹ پیٹ کر قتل کرنے اور تین کو زخمی کرنے کے معاملے میں 11 لوگوں کو گرفتار کیا گیا تھا۔ معاملہ جمعرات کا تھا۔ گائے چور ہونے کے اندیشہ میں مقامی لوگوں نے ایک گاڑی میں جا رہے چار لوگوں کو گھیر کر ان کی بری طرح پٹائی کی تھی۔ ان میں سے ایک نے اسپتال میں دَم توڑ دیا تھا۔ بقیہ تین لوگ سنگین طور پر زخمی ہیں۔ ان چاروں کا تعلق قبائلی طبقہ سے تھا۔
آسام کے معروف رہنما اور اے آئی یو ڈی ایف کے صدر مولانا بدرالدین اجمل نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے مرکزی اور ریاستی حکومت سے فوری سخت ایکشن لینے کا مطالبہ کیاہے ۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم نریندر مودی ماب لنچنگ کیلئے تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھے جائیں گے ۔ انہوں نے نفرت اور انتہاءپسندی کی جو سیاسی چھاپ چھوڑی ہے اس کی جڑی بہت گہری ہوچکی ہیں اور یہ ملک کی سلامتی کیلئے خطرہ ہے ۔ اس موقع پر اہل خانہ کے ساتھ انہوں نے یکجہتی کا اظہار کیا اور کہاکہ ہم آپ کے دکھ درد میں ہر طرح سے شریک ہیں ۔






