مودی کی زندگی پر مبنی فلم”پی ایم نریندر مودی“ کی ریلیز پرالیکشن کمیشن نے لگائی پابندی

نئی دہلی(ایم این این )
الیکشن کمیشن نے وزیراعظم نریندر مودی کی زندگی پر مبنی فلم ’پی ایم نریندر مودی‘ کی ریلیز پر روک لگا دی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر سنیل اروڑہ اور الیکشن کمشنر سشیل چندر اور اشوک لواسا کے دستخط سے آج یہاں جاری حکم کے مطابق 17ویں لوک سبھا انتخابات میں دس مار چ سے نافذ ضابطہ اخلاق کے پیش نظر اس فلم کی ریلیز پر روک لگائی گئی ہے۔
خیال رہے کہ اپوزیشن جماعتوں نے پی ایم مودی پر بنی اس فلم پرروک لگانے کی مانگ کی تھی اور اس فلم پر پورے ملک میں تنازعہ کھڑ ا ہوگیا تھا۔ اس معاملہ پر الیکشن کمیشن سے شکایت کی گئی تھی۔ اپوزیشن جماعتوں نے اپنی شکایت میں کہا تھا کہ اس فلم میں تخلیقی آزادی کے نام پر ایک مخصوص پارٹی اور ایک مخصوص امیدوار کی تشہیر کی گئی ہے اور رائے دہندگان کو متاثر کرنے کی کوشش کی گئی ہے جو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہے۔
الیکشن کمیشن نے ہدایت میں کہا کہ انتخابی ضابطہ اخلاق کے تحت الیکٹرونک میڈیا یا کسی سنیما میں اس طرح کے تشہیری سامان کی عوامی نمائش کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے۔ جس میں مرکز میں حکمراں کسی جماعت یا سیاسی پارٹی کے امیدوار کی حصولیابیوں کو انتخابی فائدہ کے لئے دکھایا گیا ہو۔
کمیشن نے اپنی ہدایت میں کہا کہ سپریم کورٹ نے بھی غیرجانبدارانہ اور آزادانہ انتخابات کرائے جانے کے بارے میں فیصلہ سنایا ہے اور یہ آئین کے بنیادی ڈھانچے کے مطابق ہے۔ سپریم کورٹ نے 9 اپریل کو اس فلم کے سلسلہ میں یہ فیصلہ سنایا تھا کہ اس فلم سے کسی سیاسی جماعت کو انتخابی فائدہ ہوسکتا ہے یا نہیں اس کے فیصلے کا حق الیکشن کمیشن کو ہے۔ اس سے پہلے الیکشن کمیشن نے سنٹرل فلم سرٹیفکیشن بورڈ سے بھی کہا تھا کہ فلم کے بارے میں غور کرتے وقت وہ انتخابی ضابطہ اخلاق کا خیال رکھے۔
کمیشن نے چھ اپریل کو اپنی ہدایت میں کہا تھا کہ کسی بھی پرنٹ میڈیا میں سیاسی اشتہار کی اجازت پہلے کمیشن سے لی جائے۔ کمیشن نے اپنی ہدایت میں کہا ہے کہ کسی سنیما سے انتخابی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی ہوتی ہے تو اس کی شکایت کی جانچ کمیشن کی طرف سے قائم کمیٹی کرے گی جس کی صدارت سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج یا ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ چیف جسٹس کریں گے