وارانسی کی آب و ہوا کا معیار بدتر: رپورٹ

نئی دہلی 10اپریل ( آئی این ایس انڈیا )
دہلی کے ایک ماحولیاتی شعبہ نے دعوی کیا ہے کہ نریندر مودی کے لوک سبھا حلقہ وارانسی کی آب و ہوا کا معیار تزئین کاری اور مبینہ بنیادی ڈھانچہ کی تعمیر کی وجہ سے مسلسل بگڑتی جا رہی ہے اور عالمی ادارہ¿ صحت کی فہرست میں 15 سب سے زیادہ آلودہ شہروں کی فہرست میں اسے تیسرے مقام پر رکھا گیا ہے۔ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کی اس فہرست میں قومی راجدھانی دہلی چھٹے نمبر پر ہے اور فضائی آلودگی سے نمٹنے میں ناکامی کے لئے یہاں کے منتخب نمائندوں کے کو ذمہ دار بتایا ہے۔ پولٹیکل لیڈرز پوزیشن اور ایکشن اور ایئر کوالٹی ان انڈیا 2014-19 میں اس کی معلومات دی گئی ہے۔ اس رپورٹ کو’ کلائی میٹ ٹرینڈس ‘ نے جاری کیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے، عالمی ادارہ صحت کے 15 شہروں کی فہرست میں 14 شہر بھارت کے ہیں۔ ان میں سے چار اتر پردیش میں ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ وارانسی میں سانس کی بیماری اور الرجی کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ شہر میں ’بڑے پیمانہ‘ پر تعمیری کام بتایا گیا ہے۔ مودی نے 2014 کا عام انتخابات یہاں سے جیتا تھا۔ رپورٹ میں دعوی کیا گیا ہے کہ 2017 میں وارانسی کی آب و ہوا کا معیار ی انڈیکس 490 تک پہنچ گیا تھا جو خطرناک ہے۔ دسمبر 2018 میں یہ 384 تھا جو بہت خراب زمرے میں آتا ہے۔ اتر پردیش کا کانپور دنیا میں سب سے زیادہ آلودہ شہر ہے اور فہرست میں یہ پہلا مقام پر ہے۔ اس کے بعد ہریانہ کا فرید آباد شہر ہے ،جو آلودہ شہروں کی فہرست میں دوسرے نمبر پر ہے اور وراسے تیسرے مقام پر ہے۔ بہار کا گیا اور پٹنہ بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہے جبکہ قومی راجدھانی دہلی چھٹے نمبر پر ہے ،جبکہ اتر پردیش کی راجدھانی لکھنو¿ ساتویں نمبر پر ہے۔آگرہ، مظفر پور، سری نگر، گروگرام، جے پور، پٹیالہ اور جودھپور جیسے شہر بھی اس فہرست میں ہیں۔

SHARE