اردو صرف ہندوستان اور پاکستان کی نہیں بلکہ پوری دنیا کی زبان ہے۔اس کی مقبولیت مسلسل بڑھتی جارہی ہے

قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے جامعة القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار کے زیر اہتمام ”اردو کا فرو غ عالمی تناظر میں :مسائل وامکانات “ کے موضوع پرسمینار کا انعقاد
سپول (پریس ریلیز)
اردو صرف ہندوستان کی نہیں بلکہ ایک عالمی اور بین الاقوامی زبان ہے ۔ ہندوستان پاکستان کے علاوہ عرب ممالک ،یورپ ،امریکہ افریقہ اور برطانیہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک اور بر اعظموں میں اردو زبان بولی اور لکھی جاتی ہے اور دن بہ دن اردو کی ترقی ہورہی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے اشتراک سے جامعة القاسم دارالعلوم الاسلامیہ سپول بہار کے زیر اہتمام ”اردو کا فرو غ عالمی تناظر میں :مسائل وامکانات “ کے موضوع پر منعقدہ سمینار سے دانشوران اور مقالہ نگاران نے کیا ۔
جامعة القاسم کے بانی ومہتمم مولانا مفتی محفوظ الرحمن عثمانی نے اپنے کلیدی خطاب میں کہاکہ اردو زبان دنیا کے بیشتر ممالک میں بولی اور پڑھی جاتی ہے ۔میں دنیا کے چھ بر اعظموں کا اب تک سفر کیاہے اور ہر جگہ مجھے اردو داں ملے ہیں اور آئے دن اردو زبان کے حوالے سے ان ممالک کے باشندوں کی دلچسپی بڑھتی جارہی ہے۔اس موقع پر انہوں نے کہاکہ اردو زبان کو مزید فروغ دینے کیلئے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنوں بچوں کو اردو پڑھائیں ۔ اردو سے وابستہ رہیں اور اپنی ضروریات کیلئے اردو کا استعمال کریں ۔ مدینہ منورہ سے تشریف لائے مولاناحکیم محمد عثمانی المدنی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہاکہ اردو صرف ہندوستان اور پاکستان کی نہیں بلکہ اب یہ پوری دنیا کی زبان ہے ۔ ہر جگہ تقریبا یہ زبان بولی جاتی ہے اور مسلسل اردو زبان کی مقبولیت عالمی تناظر میں بڑھتی جارہی ہے ۔
نوجوان صحافی اور ملت ٹائمز کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اردو ہندوستان کی بہت اہم اور ہرطبقہ میں بولی جانے والی زبان ہے ۔پاکستان کی قومی زبان ہے اس کے علاوہ دنیا کے متعدد ممالک میں اردو زبان پڑھائی جاتی ہے ۔ وہاں کی یونیورسٹیز میں اردو کا شعبہ ہے ۔ امریکہ ،برطانیہ اور سعودی عرب سمیت متعدد مالک سے اردو زبان میں اخبارات شائع ہوتے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ خود ملت ٹائمز کی اردو سائٹ دنیا کے 130 ممالک میں پڑھی جاتی ہے جو اس بات کی دلیل ہے اردو کا دائرہ صرف ہندوستان اور پاکستان تک محدود نہیں ہے بلکہ پوری دنیا میں یہ زبان پھیلی ہوئی ہے ۔
سینئر صحافی نوراللہ جاوید سب ایڈیٹر یو این آئی نے اپنے مقالہ میں کہاکہ اسلام کو جاننے کے حوالے سبھی عالمی سطح پر اردو کی مقبولیت بڑھی ہے ۔ یورپ ،امریکہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں اسلام ک جاننے کا شوق تیزی سے بڑھ رہاہے اور اس مقصد کیلئے لوگ اردو زبان پڑھ رہے ہیں کیوں کہ اردو زبان میں اسلام اور مذہب کا وسیع ذخیرہ موجودہ ہے ۔ عربی اور فارسی کے بعد اردو ہی وہ زبان ہے جس میں شریعت کے سب سے زیادہ احکام ومسائل اور معلومات دستیاب ہیں ۔مفتی اعجاز ارشد فاروقی نے عالمی تناظر میں اردو کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہ عربی ،انگریزی سمیت دنیا کی متعدد زبانوں میں اردو زبان کے الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں اور یوں ہر جگہ اردو نظر آتی ہے ۔
مولانا رضوان الحق قاسمی نے اپنے مقالہ میں اس بات کا جائزہ لیاکہ عالمی سطح پر اردو زبان کی کیا حیثیت ہے او رکن ممالک میں اردو کو خصوصی اہمیت حاصل ہے ۔ علاوہ ازیں سمینار میںکویت سے تشریف لائے ڈاکٹر خالد اعظمی ، ۔مولانا صغیرا حمد رحمانی رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاءبورڈ ،َڈاکٹر عبد القادر شمس سینئر سب ایڈیٹر روزنامہ راشٹریہ سہارا اردو ۔ڈاکٹر خالد صدیقی نیپال ، مولانا ظفر اقبال مدنی ، مولانا عبد المتین رحمانی ۔ مولانا ضیا ءاللہ رحمانی ۔ جناب شاہ جہاں شاد سمیت متعدد اسکالرس اور علماءنے اپنا مقالہ پیش کیا ۔ نظامت کا فریضہ مفی انصار احمد قاسمی نے بحسن وخوبی انجام دیا ۔

SHARE