نئی دہلی(آئی این ایس انڈیا)
لوک سبھا انتخابات کے درمیان سپریم کورٹ میں جمعہ کو ایودھیا کیس کی سماعت ہو گی۔ خاص بات یہ ہے کہ8 مارچ کوثالثی عمل کے حکم کے بعد پہلی بار سپریم کورٹ میں سیاسی طور پر حساس اس معاملے کی سماعت ہوگی۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ ایودھیا زمین تنازعہ پر تین رکنی ثالثی کمیٹی نے سپریم کورٹ کو سیل بند لفافے میں عبوری رپورٹ سونپ دی ہے۔سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اس بارے ایک نوٹس بھی موجودہے، جس میں کہا گیا ہے کہ پانچ ججوں( چیف جسٹس رنجن گوگوئی، جسٹس ایس اے بوبڈے، ڈی وائی چندرچوڈ، اشوک بھوشن اور ایس عبدالنذیر)کی آئینی بنچ کیس سنے گی۔آپ کو بتا دیں کہ مارچ میں سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ نے بابری مسجد زمین تنازعہ کو قابل قبول حل کے لیے ثالثی کے لیے بھیجاتھا۔ کورٹ نے 3رکنی پینل بھی تشکیل کیاتھا۔اس کمیٹی میں سپریم کورٹ کے ریٹائرڈجج جسٹس ایف خلیفة اللہ کے علاوہ روحانی رہنماشری شری روی شنکر اور سینئر وکیل رام پچوشامل تھے۔پینل کو بند کمرے میں سماعت کرنے اور اسے 8 ہفتے کے اندر اندر مکمل کرنے کوکہاگیاتھا۔کورٹ نے اپنے فیصلے میں فیض آباد میں ہی ثالثی کو لے کر بات چیت کرنے کی بھی ہدایات دی تھیں۔ساتھ ہی جب تک بات چیت کا سلسلہ چلے گا، پوری بات کوخفیہ رکھنے کے لیے کہاگیاتھا۔






