سدھو نے کہا کہ میرے گھر پر سیاہ پرچم لگ گیا ہے، یہ نئے قوانین کے خلاف ہے۔ جب تک تینوں قوانین واپس نہیں ہوں گے، اس وقت تک اس پرچم کو نہیں اتارا جائے گا۔
نئی دہلی: زرعی قوانین کے خلاف جاری کسانوں کی تحریک ایک مرتبہ پھر شدت اختیار کر رہی ہے۔ ایک طرف جہاں دہلی بارڈر پر خیمہ زن کسانوں نے مزاحمت کے لئے نئے پروگرام کا اعلان کیا ہے، وہیں پنجاب میں کانگریس لیڈر نوجوت سنگھ سدھو نے اپنی رہائش پر سیاہ پرچم لہرا کر اس تحریک میں نئی جان پھونک دی ہے۔ سدھو نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی ہے، جس میں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ گھر کی چھت پر سیاہ پرچم لہرا رہے ہیں۔
نوجوت سنگھ سدھو نے ویڈیو میں کہا کہ گزشتہ 20-25 سالوں سے کم ہو رہی آمدنی اور بڑھتے جا رہے قرض کے سبب کسان پریشان ہیں، یہی وجہ ہے کہ پنجاب کے کسانوں کو تحریک چلانے پر مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ پنجاب آج ایک ساتھ تین زرعی قوانین کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، یہ تینوں قوانین کسان، مزدور اور تاجروں کے پیٹ پر لات مارنے والے ہیں۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ اگر ان تینوں قوانین کو واپس نہیں لیا گیا تو پنجاب پھر کھڑا نہیں ہوا پائے گا۔ سدھو نے کہا کہ میرے گھر پر سیاہ پرچم لگ گیا ہے، یہ نئے قوانین کے خلاف ہے۔ جب تک تینوں قوانین واپس نہیں ہوں گے، اس وقت تک اس پرچم کو نہیں اتارا جائے گا۔
خیال رہے کہ مرکزی حکومت کے تینوں زرعی قوانین کو واپس لینے کے لئے کسان دہلی کے سنگھو، ٹیکری اور غازی پور بارڈر پر نومبر سے احتجاج کر رہے ہیں۔ کسانوں کا کہنا ہے کہ ان قوانین سے انہیں بھاری نقصان ہوگا جبکہ حکومت انہیں کسانوں کے حق میں بہتر قرار دیتی ہے۔ کسانوں اور مرکزی حکومت کے درمیان اس معاملہ پر 22 جنوری سے کوئی بات چیت نہیں ہوئی ہے۔






