صحا فت اور ہما ر ی ذمہ داریا ں (قسط اول)

صحا فت اور ہما ر ی ذمہ داریا ں (قسط اول)

تقریر:باباعر فا ن الحق
ترتیب: رابعہ الرَ بّا ء

Al Raba
صحیفہ اور صحافت
صحیفہ کیا ہے؟صحفہ آسما ن سے اتر ی ہو ئی تحر یر کو کہتے ہیں۔’’صحیفہ آسما نی،،اس میں حق ہو تا ہے۔ سچ ہو تا ہے، تعمیر ہو تی ہے، مقصد یت ہو تی ہے، را ہنما ئی ہو تی ہے، آسا نی ہو تی ہے، سکو ن ہو تا ہے۔تو
صحا فت ایسی تحر یریں او رایسی تقریر یں ہیں ، جن کی بنیا د میں یہ سب مو جو د ہوں۔جس میں سچ ، تعمیر ، مقصدیت،راہنما ئی ، سکون اور آسانی مو جو د ہو۔اگر آپ کی تحر یر یا تقریرمیں یہ چیز مو جو د نہیں ۔تو اسے ہم صحا فت نہیں کہیں گے۔ وہ کچھ اور ہو گی۔
اگر آپ کی تحر یر یا تقریر صحفے کے مماثل اور قریب آجائے، محسوس ہو کہ آپ کی تحر یر آسما ن سے اتر ی ہو ئی ہے تو پھر آپ صیح معنو ں میں صحا فی ہیں ۔ اور اگر ایسا نہیں ہے تو بحر حا ل درست تو کر نا ہے۔رویے تو بد لنا ہیں ، یہ سیکھنا ہے کی یہ جو میں بیان کر ر ہا ہو ں ،کیا یہی صحافت ہے یا اس کے علا وہ بھی کچھ ہے۔

صحا فی اور ہوم ورک
حضور ﷺ جب کا ئنا ت میں اتنا بڑا انقلا ب لے آئے تو وہ پورا رمضا ن کا مہینہ غا ر حر امیں گزارتے تھے،یہ کیا تھا؟ یہ ہو م ورک تھا۔تو صحافی بننے کے لیے بھی سب سے ضر وری کا م ہو م ورک کا ہے۔ بچے کو بچپن سے ہی سکول میں ، نر سر ی سے ہی ہو م ورک کی عا دت ڈالی جا تی ہے۔
ہوم ورک کیا ہے ؟ ہوم ورک ہے’ ’غور وفکر،، کر نا۔ مسائل کیا ہیں؟ اور کس طر یقے سے اس کو بیا ن کر نا ہے۔یہ ’’غو ر و فکر ،، ہے۔اور ہم نے غو ر و فکر کو اپنی زند گیو ں سے نکا ل کے پھینک د یا ہے۔ہم میں سے کو ئی ہے جو’’ سوچتا،، ہو’’ غو ر و فکر ،،کر تا ہو کہ مجھے اللہ نے اس د نیا میں کیو ں بھیجا؟آیا کیو ں ہو ں؟ کر تا کیا ہو ں ؟کر نا کیا چا ہئے؟کیا واپس جا ؤ ں گا تو جو اب د ہی کر نی ہے؟کس کو جواب د ینا ہے؟ ا تھورٹی کو ن ہے؟
ہم صر ف اتنا سو چنا شر و ع کر د یں تو ہم بہتر ین انسان بن جا ئیں گے۔اور بہتر ین انسا ن ہی بہتر ین صحافی ہو تا ہے۔اگر کمز و ر انسا ن ہے اس نے ہو م ورک نہیں کیا ہو ا۔ اس نے اپنے با رے میں غو ر و فکر نہیں کیا ہوا تو وہ صحا فت کو کیا دے گا۔کیو نکہ صحا فت تو ڈلیوری کا شعبہ ہے۔آپ ڈلیور کررہے ہیں، با نٹ ر ہے ہیں، تقسیم کر ر ہے ہیں۔تو جب آپ کا ہی ہو م ورک نہیں ہے تو پھر آ پ تقسیم کیا کر یں گے۔ جب آپ ہی کی جھو لی میں کچھ نہیں ہے تو آپ با نٹیں گے کیا؟

اس لیے کسی بھی صحا فی کو پہلے بہتر ین انسا ن بننا چاہئے۔جتنا اچھا وہ انسا ن ہو گا ، اتنا ہی اچھا وہ صحا فی ہو گا ۔اور اتنا ہی اچھا وہ اس ملک کا شہر ی ہو گا۔

صحا فی کا مر تبہ اور اخلاقیات
میں درجا ت میں منقسم کر تا ہو ں کہ ہمیں کر نا کیا ہے ؟ میں کہتا ہو ں کہ پہلے د ر جے میں ہمیں انسا ن بنناہے۔اس کے بعد مسلما ن بننا ہے جب تک آپ اچھے انسا ن نہیں ہو نگے ۔اچھے مسلما ن ہر گز نہیں ہو سکتے۔ اللہ کے ر سولﷺ نے کہا تھا ’’تم میں بہتر ین وہ ہے جس کے اخلا ق سب سے بہتر ہیں،،آپﷺ نے نما زو ں کا ذکر کیا ، نا روزے کا ذکر کیا،نا حج کا ذکر کیا، نا صدقہ و خیرا ت کا۔بس اخلا ق کی با ت کی کہ بہترین انسا ن وہ ہے جس کے اخلاق سب سے بہتر ہیں۔
کیو نکہ صحا فت کا م ہے لوگو ں سے ملنا جلنا ، لو گو ں کے کا م آنا ۔انہی کے سا تھ ہر وقت میلا ن ہو نا ہے۔تو صحا فی کے لیے ا خلا قیا ت دوسر و ں سے زیا دہ ضر وری ہیں۔
صحا فی صرف نقاد نہیں ۔کیمر ے کی آنکھ کا نا م صحا فی نہیں ہے۔ تنقید کر نے والے کا کا م صحا فی نہیں ہے۔
’’صحا فی مر شد بھی ہے معلم بھی۔،،
اس نے لو گو ں کو تعلیم د ینی ہے ۔لو گو ں کے نظر یا ت کو بہتر کر نا ہے۔ان نظر یا ت کی چھا ن پھٹک کر نی ہے۔ نئے را ستے د ینے ہیں۔نئے نظریا ت سے تعا ر ف کر وا نا ہے۔ان کو ہد ا یت کی طر ف لے جا نا ہے۔او ر جب وہ خو د ہد ایت یا فتہ نا ہو گا تو با نٹے گا کیا؟
صحیفہ لکھنے والا ،یہ تو فر شتو ں جیسا کا م ہو گیا ۔لہذا صحا فی کتنا معتبر ہو گیا۔
صحا فت اور قرآن
’’ خبر کی تصدیق کر لیا کر و،،ْ(سورت ہجرا ت ۔آیت ۶)
’’ ٹھو س اور پختہ با ت کیا کر و ،،(سورت الحزاب ،آیت ۷۰۔۷۱)
’’حق و با طل کو غلط ملط نا کیا کر و ،،(سورت بقر ہ، آیت ۴۲)
’’ جب تمہا ر ے پا س خبر آئے تو اس کی تحقیق کر لیا کر و ۔مبا دا کسی کو نقصا ن نہ پہنچا دو،،
(حدیث مبا رکہ ﷺ ہے ’’ تم سنی سنا ئی با ت کو جب آ گے بڑ ھا د یتے ہو تو تمہا رے جھو ٹا ہو نے کے لیے کا فی ہے،،
یہ وہ اصو ل اور قوا نین ہیں جو قر آ ن نے ایک صحا فی کے لیے بتا ئے ہیں۔
’’ خبر کی تصد یق کر لیا کر و،،
یہ قر آ ن کہتا ہے۔ایسے ہی اْٹھ کر نا بھا گ کھڑے ہو ا کر و۔ پنجاا بی کی ایک مثا ل ہے ۔’’کن نہیں دھرنا تے کْتے مگر دور پینا،،یہ بہت مشہو ر مثا ل ہے۔ ہم اس کو سمجھے ہی نہیں، سورت ہجرا ت اس کو ہمیں بتا ر ہی ہے۔کہ خبر کی تصدیق کر لیا کر و ۔ اور صحا فی کی یہ اولین ذمہ داری ہے۔دوسری ذمہ داری ’’ ٹھو س اور پختہ با ت کیا کر و،،ادھو ر ی با ت نہیں، چلتی ہو ئی با ت نہیں، ٹھو س اور پختہ با ت ۔۔۔جس پہ غو ر و فکر کیا گیا ہو ، جس کی تصدیق کی گئی ہو ، جس کی پو ری معلو ما ت لے لی گئی ہوں۔ادھو ری با ت نا کی جا ئے ، ادھو ا کام نا کیا جا ئے قر آ ن تو و یسے بھی کہتا ہے کی ’’ دین میں پو رے کے پو رے دا خل ہو جا ؤ،،آدھی چیز کو قبو ل نہیں کر تا، ’’آدھا تیتر ،آدھا بٹیر،،اللہ کے ہا ں قا بل قبو ل نہیں۔سورت بقرہ’’ حق و با طل کو غلط ملط نا کیا کر و،،
میں یہ اس لیے کو ٹ کر تا ہو ں کہ اسی بہا نے آپ تھو ڑا سا قر آن کے ساتھ مس تو ہوں۔اس کے قر یب تو جا ئیں۔ اس کو ٹٹولیں تو سہی۔اس کو ڈ ھو نڈیں تو سہی ۔ پھر آپ کو اس کے ساتھ جڑ ے ہو ئے دوسر ے مضامین کا بھی علم ہو گا۔قر آن سے دوستی کر لیں ،اللہ سے دوستی ہو جا ئے گی۔قر آ ن سے دوستی کر لیں ،رسولﷺ سے دوستی ہو جا ئے گی۔ہم اپنے علاوہ سب کے دوست ہو تے ہیں ،اپنے ہی دوست نہیں ہو تے۔ہم اپنے آپ کو صیح وقت نہیں د یتے۔نا آرام کا، نا پڑھنے کا، نا عبا دت کا، نا سوچنے کا، نا غو ر و فکر کر نے کا۔ اگر قرآن سے آپ کی دو ستی ہو جا ئے گی تو آپ کی نظر و ں میں آ پ کا احتر ام بڑ ھ جا ئے گا۔سیلف رسپکٹ پیدا ہو جا ئے گی۔ اور بر ائیو ں سے بچنے کے لیے سیلف ر سپکٹ سب سے ضر وری ہے۔جو آ دمی اپنا احتر ا م شر و ع کر د یتا ہے۔زما نہ اس کے احتر ام پر مجبو ر ہو جا تا ہے۔کیو نکہ پھر وہ خر ابیاں نہیں کر تا ۔ کسی کو د کھ نہیں د یتا ، کسی کو آ زار نہیں د یتا، فحش کلا می نہیں کر تا، کسی کے حقو ق پہ ڈ ا کے نہیں ڈ التا۔لہذاسیلف ر سپکٹ کر نی ہو گی تا کہ کو ئی انگلی نا اٹھا سکے، طنز نا کر سکے۔

’’حق و با طل کو غلط ملط نا کر و،،
اور کیا ہما رے ہا ں یہ ر ویہ عا م نہیں کہ سچ میں جھو ٹ کی آمیزش کر دی جا تی ہے۔ اس طر ح سچ مو جود نہیں ر ہتا ۔وہ جھو ٹ ہی کہلا تا ہے۔ لہذا کھڑ ا سچ بیا ن کر و ۔ حق کو با طل میں غلط ملط نا کر و۔ایک وقت نما ز پڑ ھ لی ۔ایک وقت کھا نے چلے گئے۔ کیا کو ئی ایسا مو حد ہو ا ہے جو مشر ک بھی ہو ا ہو؟کچھ لو گ بیک وقت جھو ٹا اور سچا دونوں ہو نا چاہتے ہیں ۔ یہ کیسے ممکن ہے جھو ٹا تو جھو ٹا ہی ہو تا ہے۔اور سچا سچا ہی ر ہے گا۔
کئی جگہ میں سو دا لینے جا تا ہو ں تو کہتے ہیں’’با با جی ا ے توھاڈے والا نہیں ہیگا،،(باباجی یہ آپ والا نہیں ہے)میں نے کہا اس کا مطلب ہے تْوبے ایما ن آدمی ہے۔ اگر مجھے نہیں تو کسی اور کو د ھو کا دے ر ہا ہے۔اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کلئیر آدمی ہے۔ یہ سودا تو اسے بیچنا ہے کسی اور کو تو دے گا۔ دھو کے با ز تو د ھو کے با ز ہی ر ہے گا ۔چا ہے مجھے د ھوکا دے ، چاہے آپ کو۔
ہمیں سچائی کو غلط ملط نہیں کر نا ،ملس نہیں کر نا۔یونہی سچائی کو، جھو ٹ کو، ظلم کو ،نا انصا فی کو ، نیکی کو اور بدی کو۔اور پھر قر آن میں ایک اور با ت ہے
’’جب تمہا رے پا س خبر آئے تو تحقیق کر لیا کر ومبا دا کہ کسی کو نقصا ن نا پہنچا دو،،اور رسول اللہﷺ کا فر مان ہے ’’تم سنی سنا ئی با ت کو جب آگے بڑ ھا د یتے ہو تو تمہا رے جھوٹا ہو نے کے لیے کا فی ہے۔،،
کسی کے جھو ٹا ہو نے کے لیے یہ کا فی ہے کہ وہ سنی سنا ئی با ت کو آگے بڑھا دے۔اب یہ سب شعبہ صحا فت ہے ۔ صحا فیو ں نے با ت کو آگے پہنچانا ہے۔خبر کو آگے پہنچانا ہے۔لو گو ں کے نظر یات در ست کر نے ہیں۔

باباعر فا ن الحق
باباعر فا ن الحق

صحا فی کی ذمہ داریاں
صحا فی opinion makerہو تا ہے اس لیے بڑے بڑے سیا ستدان اس کو خر یدتے ہیں ۔کہ وہ اچھے طر یقے سے لو گو ں کو بتا ئے کہ
کہ ہم آ پ کی تقد یر بدل دیں گے۔اگر کسی نا لائق کو آپ حکمر انی دلا د یں اور لو گوں کہ رائے بدل د یں ۔تو جب تک وہ گنا ہ کر تا ر ہے گا۔آپ اس میں شا مل ہیں۔جب تک وہ ظلم کر تا ر ہے گا ،آپ اس میں شامل ہیں۔اور آپ جواب دہ بھی ہیں۔کیو نکہ آپ نے گائیڈ کیا تھا آپ نے راہنما ئی کی تھی۔آپ کا گریبا ن بھی لو گوں کے ہا تھ میں ہو سکتا ہے۔ لہذاصحافی پر بہت بڑی ذمہ داری ہے ۔یہ کو ئی معمولی کا م نہیں ہے۔
حضور ﷺ سے بعض اوقا ت شکا یت کی جا تی کہ فلا ں شخص نے ایسی ایسی حر کت کی ہے۔کمال ظر ف ہے آپ ﷺ کا۔آپﷺنے کبھی کسی انفر ادی شخص کا نا م لے کر point out نہیں کیا۔آپﷺفر ما تے ’’لو گو ں تمہیں کیا ہو گیا ہے۔،،جمع کے صیغے میں تبد یل کر د یتے۔اس کی دو وجو ہا ت تھیں ۔
۱۔ ایک تو یہ کہ بْڑے سے بْڑا شخص بھی بڑ ا کہلوانا پسند نہیں کر تا۔ اس کی عز ت نفس مجروع ہو جا تی ہے۔کو ئی جھو ٹا بھی خو د کو جھو ٹا کہلو انا پسند نہیں کر تا ۔وہ بھی چا ہتا ہے کہ اس کے ساتھ سچ کا ر و یہ اختیا ر کیا جا ئے۔
۲۔دوسر ا یہ کہ ہر انسا ن کے اند ر ایک انا ہو تی ہے۔جب آپ اس کو لو گو ں کے سا منے بڑا کہتے ہیں ۔تو اس کی انّااس کے سامنے کھڑ ی ہو جا تی ہے۔اور وہ اس کو چیلنج سمجھتا ہے۔آپ سے بہت بڑے رویوں سے پیش آتا ہے۔بلکہ د شمنی اختیا ر کر لیتا ہے۔اور بڑے بڑے واقعات ہو جا تے ہیں۔ فساد ہو جا تا ہے، تشد د ہو جا تا ہے، قتل و غا رت گر ی ہو جا تی ہے۔
یہ با ت ہما رے ہا ں بہت عا م ہے ۔ہم انفر دی طو ر پر ، نا م لے کر کسی کی پگڑ ی اچھا لتے ہیں۔اب آپ صحافیوں کی ذ مہ داری ہے کہ اس رویے کو بد لہ جا ئے۔ مسائل کی با ت کی جا ئے مگر لو گوں کو بد نا م نا کیا جا ئے۔میں نے پو ری د نیا د یکھی ہے ۔بے شما ر ممالک د یکھے ہیں ۔ اس کے ہا ں ر یڈیو ، ٹی وی، ر سائل میں اس طر ح کی خبر یں نا ہو نے کے بر ابر ہو تی ہیں۔جس میں کسی کی تضحیک کا کو ئی پہلو ہو۔کسی کی عز ت نفس مجر و ع ہو نے کا پہلو نکلتا ہو ۔ اس کو چھپا یا جا تا ہے۔hideکیا جا تا ہے۔

صحا فت ایک آرٹ
صحا فت ایک آرٹ ہے۔ اور اسے بطو ر آرٹ ہی اپنا نا ہے۔اس کے لیے غور و فکر کر نا پڑ ے گا۔ الفا ظ کا چنا ؤ کر نا پڑے گا۔ رویے بدلنے ہو نگے۔
بعض اوقات د نیا میں بہت عجیب واقعا ت ہو جا تے ہیں ۔ مو قع و وقت کے مطا بق گفتگوکے آر ٹ اورسچ کو سا تھ لے کر چلنا پڑ تا ہے ۔آرٹ یہ نہیں کہ جھو ٹ سے با ت میں حسن پیدا کر دیا جائے ۔ آرٹ یہ ہے کہ سچ بھی اپنی جگہ حسن کی صورت ہو ۔ اور با ت بھی بن جائے۔
وقت کے مطا بق با ت کی جائے۔
حا فظ قا سم نا نو دوی جنہوں نے مد ر سہ دیو بند قا ئم کیا تھا ۔انگر یز کو مطلو ب تھے۔ انگر یز نے ان کے خلا ف مقد ما ت درج کئے ہو ئے تھے۔ وہ مکہ میں تھے ۔چو نکہ اس وقت انگر یز کی حکو مت تھی۔ و ہا ں بھی انگر یز کی با ت ما نی جا تی تھی۔ پو لیس کے کچھ اہلکا ر کعبہ اللہ میں دا خل ہو ئے۔ پا نچ چھ لو گ کھڑ ے تھے۔ ا ن سے پو چھا ’’ہند کے قا سم نا نو دی تو نہیں یہاں؟،، اور پو چھ بھی قا سم سے ہی ر ہے ہیں۔ تو انہو ں نے جگہ بدلی۔ تھو ڑے سے ادھر کو ہو ئے اور کہنے لگے’’ ابھی کچھ د یر پہلے یہا ں کھڑ ا ہوا تھا،،
یہ ہے آرٹ۔ نا جھو ٹ بو لا ، نا جھو ٹ کا سہا را لیا۔خو بصور تی سے سچ بو ل دیا۔ اور پو لیس والے پو چھ کر چلے گئے۔تو اس انداز میں آپ نے چیز و ں کو سیکھنا ہے۔کہ سچ کو اپنا ئیں مگر حسن کے ساتھ۔خو بصو رتی کے ساتھ، حکمت و دا نا ئی کے سا تھ۔منہ پر کسی پہ الز ا م تر اش د ینا سچ نہیں، اس کے عیب بیا ن کر د ینا سچ نہیں۔ اس کو پھکڑ پن کہتے ہیں۔
سچ میں اگر آپ نے دوسر و ں کی تضحیک کر دی تو یہ ظلم ہے۔سچ بو لیں مگر اخلا قیا ت کے دائر ے میں رہتے ہو ئے۔عز ت کو ملحو ظ ر کھتے ہو ئے، عز ت نفس کو ملحو ظ ر کھتے ہو ئے۔

احتر ام انسا نیت
مجر م اور ملز م ۔دو لفظ ہمیں دیے گئے۔ دونو ں کے لیے ہما ر ا ر ویہ الگ ہو نا چا ہئے۔ملز م وہ ہے جس پر الز ا م لگ گیا ، جر م ثا بت نہیں ہو ا۔ مجر م وہ تب بنتا ہے جب اس کا ظلم ثا بت ہو گیا۔مگر ہما را رویہ دونوں کے ساتھ ا یک جیسا ہو تا ہے۔جو چا ہیں کو مینٹ کر د یتے ہیں۔ جو چا ہیں تحر یر کر د یتے ہیں۔جو چاہیں تنقید کر دیتے ہیں۔ ہمیں اس کو ملحو ظ ر کھنا ہو گا کہ فر ق کیا ہے۔
سب سے بڑ ی با ت اگر آپ دوسرے انسانو ں کا احتر ام نہیں کر تے ، اس کا مطلب ہے آپ انسا نیت کا احتر ام نہیں کر تے۔انسا نیت کا احترا م آد میت کے احتر ا م میں پو شید ہ ہے۔اچھا یا بڑ ا یہ تو بعد کی با ت ہے۔ انسا ن کو احتر ام د ینا ہے۔مہذ ب طر یقے سے پیش آ ئیں ۔انسا ن کو جب تک آپ احترام نہیں دیں گے،آپ اپنے کسی فن میں کا میا ب نہیں ہو سکتے۔
میں بچو ں میں نفسیا تی بیما ر یا ں د یکھتا ہو ں۔ہو تا کیا ہے؟ کہ استا د یا والد ین بچے کو د وسر و ں کے سا منے ڈ انٹ د یتے ہیں۔ وہ بچہ بچپن سے ہی ڈپر یشن کا شکا ر ہونا شر وع ہو جا تا ہے۔ کیو نکہ وہ بھی ا یک اکا ئی ہے۔وہ اکا ئی بہت چھو ٹے پن میں ، وہیں مجر وع ہو جا تی ہے۔ آپ بچے کو ڈپر یشن کا مر یض بنا د یتے ہیں ۔ اس میں فر یسٹر یشن پیدا ہو جا تی ہے۔اس میں چڑ چڑ ا پن آ جا تا ہے ۔ وہ گھر کی چیز یں توڑتا ہے، انہیں خر اب کر تا ہے۔لیکن ہم یہ نہیں سو چتے کہ ہما ر ے رو یے نے اسے یہا ں تک پہنچا یا ہے۔
صحا فی کی تو بہت بڑ ی ذ مہ دا ری ہے ہز ا ر با سو چے، تب ایک تقر یر کے لیے زبا ن کھو لے۔ہزار با سوچے تب قلم اٹھا ئے۔
شعبا جات صحا فت
صحا فت کے تین شعبے ہیں (میر ی نظر میں)۔
تحر یر تقر یر تصو یر ۔ تعمیر
یہ سب صحا فت ہے۔ لو گو ں کے ذ ہنو ں کو تبد یل کر دینا ، دلو ں کو پھیر دینا ، اور صحا فیوں نے ایسا کیا بھی ہے۔شعبہ صحا فت میں میں نے ایسے بے شما ر لو گ د یکھے بھی ہیں۔ میں تو انہیں ’’ولی،، سمجھتا ہو ں۔کیو نکہ انہو ں نے کبھی کسی پہ الز ام تر اشی نہیں کی۔کبھی کسی کی پگڑ ی نہیں اچھا لی، کبھی فحش با ت نہیں کی تھی۔د ین کو پر یکٹس کر نے کے اندا ز سیکھا دئیے۔
صحا فت کس لے لیے ہے؟
افرا د کے لیے، قوم کے لیے، کا ئنا ت کے لیے۔جب تک اس کی نما ئند گی کر نے والے مو جو د ر ہیں گے۔ د نیا میں شر افت ر ہے گی۔
صحا فت اور شر افت دونوں یکبجا ہیں ۔ کو ئی الگ چیز نہیں۔ دونوں ا یک ہی چیز کا نام ہیں ۔
اس کے شعبہ جا ت کیا ہیں؟ایما ن اس کا شعبہ ہے، صحت اس کا شعبہ ہے، معا ش اس کا شعبہ ہے، معا شر ت اس کا شعبہ ہے، ثقا فت اس کا شعبہ ہے کھیل اس کا شعبہ ہے، تعلیم اس کا شعبہ ہے،تر بیت اس کا شعبہ ہے، سائنس کا شعبہ ہے، تعمیر و تر قی اس کا شعبہ ہے، اخلاقیا ت اس کا شعبہ ہے، دفا ع اس کا شعبہ ہے، خز انہ اس کا شعبہ ہے، احتسا ب اس کا شعبہ ہے،عدا لت اس کا شعبہ ہے، یہ توبہت و سیع کا م ہے۔(جاری)
(نوٹ:جا معہ پنجاب شعبہ ابلا غیات نے باباعرفان صاحب کے لیکچر کا اہتما م کیا تھاجسے محترمہ رابعہ الرباء نے مرتب کیا ہے،قارئین کے استفادہ کیلئے ملت ٹائمز میں اسے شائع کیا جارہاہے)

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *