تعلیم کے ساتھ نونہالوں کی ذہنی و اخلاقی تربیت بھی ضروری : امارت شرعیہ

پٹنہ۔10دسمبر(ملت ٹائمز پریس ریلیز)
تعلیم کے ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بہت ہی ضروری ہے ، امارت شرعیہ کی ہمیشہ سے یہ کوشش رہی ہے کہ معاشرہ میں معیاری تعلیم کے فروغ کے ساتھ ساتھ نو جوان نسل کی ذہنی و اخلاقی تربیت بھی کی جائے ، اور ایک ایسے معاشرہ کی تشکیل کی جائے جس کا ہر فرد اپنے ایمان و عمل کی سلامتی کے ساتھ ایک اچھا شہری ہو ۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے تعلیمی اداروں کے ذمہ دارجہاں اپنے اپنے اداروں میں پڑھنے والے بچوں اور بچیوں کو معیاری تعلیم فراہم کرنے کے لیے محنت کرتے ہیں ، اسی طرح ان کی ذہنی، دینی اور اخلاقی تربیت کے لیے بھی اتنی ہی محنت کریں۔یہ باتیں امارت شرعیہ کے قائم مقام ناظم اور امارت شرعیہ ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر ٹرسٹ کے سکریٹری جنرل مولانا سہیل احمد ندوی نے ، امارت شرعیہ کے میٹنگ روم میں منعقد اسکولوں کے ذمہ داروں کی ایک نشست میں کی ۔واضح ہو کہ پھلواری شریف کے اسکولوں کی ایک اہم نشست اسکولوں میں بچوں کی اخلاقی اور دینی تربیت کے عنوان پر مورخہ ۰۱ دسمبر کو منعقد کی گئی ۔اس میٹنگ میں اسکولوں کے اندر دینیات کے نصاب کو شامل کرنے ، بچوں کو بنیادی اسلامی تعلیم فراہم کرنے اور ان کی اخلاقی و ذہنی تربیت کے عنوان پر گفت و شنید ہو ئی اور کئی مفید تجاویز منظور کی گئیں ۔
اس میٹنگ میں اتفاق رائے سے طے ہوا کہ امارت شرعیہ کے ذمہ داران اور علماءکرام پھلواری شریف اور پٹنہ کے دیگر مقامات پر اسکولوں کے ذمہ داروں سے طے کر کے ہفتے میں یا پندرہ دن پر طلبہ و طالبات کے درمیان اخلاقی و دینی تعلیم و تربیت کے عنوان پر خطاب فرمائیں گے
نائب ناظم مفتی محمد سہراب ندوی صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ جو لوگ بھی معاشرہ میں تعلیم کے فروغ کے لیے کام کر رہے ہیں ، و اللہ اور اس کے رسول کے حکم پر عمل کر رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ شریعت نے عصری اور مذہبی علوم کی تفریق نہیں کی بلکہ ہر نفع بخش علم اللہ کی توفیق و سعادت اور اس کی خاص عنایت ہے اور اس کی خدمت کرنے والا شخص دنیا و آخرت میں اجر کا مستحق ہے، انہوں نے مزید کہا کہ ایک اچھی نسل کو تیار کرنے کے لیے صرف تعلیم کافی نہیں ہے ، بلکہ ساتھ ساتھ اخلاقی تربیت بھی ضروری ہے ،نبیوں کی بعثت کے مقاصد میں مکارم اخلاق کی تکمیل بھی ایک بڑا مقصد ہے ،اس سے پتہ چلتا ہے کہ افراد سازی کے لیے تعلیمکے ساتھ ساتھ تربیت بہت ضروری ہے ، افسوس کی بات ہے کہ تعلیم کی تحریک تو آگے بڑھ رہی ہے، لیکن اخلاقی اور دینی تربیت کمزور پڑ گئی ہے، اس لیے عصری درس گاہوں کو اپنے زیر سایہ بچوں کی اخلاقی تربیت اور ان کے دین و ایمان کی حفا ظت کی ذمہ داری بھی اٹھانی چاہئے، آج ہر چہار جانب سے ہماری تہذیب پر حملہ کیا جا رہا ہے اور کلچر و نصاب تعلیم کے ذریعہ ہماری ملی شناخت اور اسلامی تہذیب کو ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے ، اس لیے یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اپنی تہذیب اورشناخت کو بچانے کے لیے اقدام کریں ۔نائب ناظم مولانا محمد شبلی القاسمی نے میٹنگ کی غرض و غایت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ حضرت امیر شریعت مولانا محمد ولی رحمانی صاحب مد ظلہ کی فکر ہے کہ نئی نسل کی فکری بگاڑ کی طرف توجہ کی جائے اور تعلیمی اداروں کے ذمہ داروں کو اپنے اپنے اداروں میں معیاری تعلیم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اخلاقی و ذہنی تربیت کو بھی یقینی بنانا چاہئے۔انہوں نے تمام حضرات کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ حضرات تعلیمی میدان میں عظیم خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہاں کی نئی نسل پر تعلیمی اعتبار سے آپ کا فیض ہے ، آپ کی باتوں میں اثر ہے اور اچھی بات ہے کہ آپ حضرات باہمی تعاون سے کام کرتے ہیں ، اس لیے آپ حضرات کو یہاں جمع کیا گیا ہے تاکہ آپ کو حضر ت امیر شریعت کی فکر سے واقف کرایا جائے ۔ ان شاءاللہ ہم لوگ آپسی مشورہ سے عصری تعلیمی اداروںمیں طلبہ وطالبات کی ذہنی و اخلاقی تربیت کے تعلق سے بہتر لائحہ عمل ترتیب دیں گے۔
بے بی لینڈ اسکول پھلواری شریف کے ڈائرکٹر جناب شمیم صاحب نے اپنے تجربات بیان کرتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ جو اسکولوں کے ذمہ دار ہیں وہ اپنی ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں اور یہ کوشش کر تے ہیں کہ انہیں معیاری تعلیم فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے ایمان اور اخلاق کی حفاظت کر سکیں ، لیکن اس کو اور بہتر کرنے کے لیے ہمیں آپ حضرات کے تعاون کی ضرورت ہے۔انہوں نے مشورہ دیا کہ اس سلسلہ میں پورے پٹنہ کے اسکولوں کو ایک ساتھ جوڑ کر انہیں اس سلسلہ میں توجہ دلائی جائیے، اور اسکول کے اساتذہ کو بھی میٹنگوں میں شریک کیا جائے ، اس کا اچھا اثر ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں گارجین حضرات کے تعاون کی بھی ضرورت ہے، وہ بھی اپنے گھروں کا ماحول ایسا بنائےں کہ بچوں کے اندر دین اور اسلام کی سمجھ آسکے ۔نجم مشن کے ڈائرکٹرجناب الحاج نجم الحسن نجمی نے کہا کہ جہاں بھی تعلیم، ملت، تربیت، اخلاق، دین و ایمان کی بات ہو گی اور اس حوالہ سے جو بھی آواز دی جائے گی ، ان شاءاللہ پھلواری شریف کے تمام تعلیمی ادارے ہر وقت اس آواز پر لبیک کہنے کے لیے تیار ہو ںگے ۔ہم لوگ کوشش کرتے ہیں کہ حکومت کے نصاب تعلیم کو فولو کرنے کے ساتھ ساتھ بچوں کو اسلامی اور دینی تعلیم فراہم کریں ، لیکن ہماری مشکل یہ ہے کہ کوئی مختصر دینیات کا اور اخلاقی تعلیم کا نصاب ہمارے سامنے نہیں ہے ، اس لیے امارت شرعیہ کو دینیات کا ایک مختصر نصاب مرتب کرنا چاہئے ،اور اس کو پورے بہار میں پھیلانا چاہئے ، ان شاءاللہ اس میں ہم سب کا تعاون شامل رہے گا۔انہوں نے مشورہ دیا کہ امارت شرعیہ کے ذمہ داران اور علماءکرام اخلاقی تربیت کے سلسلہ میں گفتگو کریں ۔بچوں کے جلسے بھی منعقد کیے جائیں، اس میں سوالات کا سیشن بھی ہو۔ مولانا رضوان احمد ندوی صاحب نے کہا کہ گھر سے لے کر اسکول تک تربیت کا ماحول بنایا جا ئے ۔جناب احمد صاحب عمر فاروق اکیڈمی کربلا ، پھلواری شریف نے کہا کہ ہمارے اسکول میں بھی دینیات کی تعلیم ہو تی ہے ، لیکن دینیات کی کوئی معیاری اور مختصر کتاب ہمارے سامنے نہیں ہے، اس لیے امارت شرعیہ کو اس سلسلہ میں ہم رہنمائی کرنے کی درخواست کرتے ہیں، انہوں نے امارت شرعیہ سے درخواست کی کہ اسکولوںمیں کسی عالم کو بھیج کر دینی و اخلاقی تربیت کا پروگرام بچوں کے درمیان منعقد کیا جائے ۔جناب پرویز صاحب ریڈینس پبلک اسکول نے کہا کہ جس کو قوم کا جتنا درد ہے اس اعتبار سے ہر اسکو ل کا ذمہ دار کام کر رہا ہے ، اس کو مزید مضبوطی کے ساتھ کرنے کی ضرورت ہے ، اس سلسلہ میں امارت شرعیہ رہنمائی کرے تو اس کے مثبت اثرات مرتب ہو ںگے۔جناب عابد صاحب اسلامیہ ہائی اسکول نے کہا کہ اسکولوں میں دینی اور اخلاقی تعلیم ہو تو رہی ہے ، لیکن جیسی ہونی چاہئے نہیں ہو رہی ہے ، اس لیے امارت شرعیہ کی رہنمائی میں اس کو مزید مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔
اس نشست میںامارت شرعیہ کے رکن شوریٰ اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے ممبر جناب الحاج سکندر صاحب کے انتقال پر اظہار تعزیت بھی کیا گیا ، قائم مقام ناظم جناب مولانا سہیل احمد ندوی نے ان کے محاسن کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حاجی سکندر صاحب بہت ہی مخلص اور دینی جذبہ رکھنے والے انسان تھے ، دینی اداروں کا خوب تعاون کرتے ، علماءسے بہت عقیدت رکھتے تھے ، ہر سال بے سہارا بچیوں کی شادی اپنے خرچ پر کراتے تھے ۔ امارت شرعیہ اور یہاں کے علماءسے بھی ان کو عقیدت مندانہ تعلق تھا۔اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ، ان کے درجات بلند کرے، پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیقاور ملت کو ان کا نعم البدل عطا کرے ۔
اس مجلس کا آغاز مولانا مجیب الرحمن قاسمی معاون قاضی امارت شرعیہ کی تلاوت سے ہوا آخر میں مولانا عبد الباسط ندوی صاحب سکریٹری المعہد العالی امارت شرعیہ کی دعا پر نشست کا اختتام ہوا ۔اس نشست میں افتخار احمد نظامی معاون ناظم امارت شرعیہ ، مولانا مفتی وصی احمد قاسمی نائب قاضی امار ت شرعیہ، مولانامحمد ابو الکلام شمسی آفس انچارج امارت شرعیہ،جناب محمد سلیم صاحب قاضی نور الحسن میموریل اسکول،جناب سعود اللہ قاسمی، جناب مزمل حسین قاسمی مبلغین امارت شرعیہ، جناب محمد مظہرا سماعیل خان اقراءاکیڈمی، محمد امتیاز حیدر صاحب نیوٹن پبلک اسکول اور محمد عادل فریدی بھی شریک تھے۔