نئی دہلی۔10دسمبر(ملت ٹائمز پریس ریلیز)
پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، جس کے تحت آسامی شہریت معاملے میں پنچایت سرٹیفکیٹ کی توثیق کی بحالی کی گئی ہے۔
چیرمین ای ابوبکر صاحب نےاپنے بیان میں کہا کہ 1977 کے بعد جب سے فرقہ پرستوں نے خفیہ سازش کی تب سے بنگالی بولنے والے مسلمانوں اور ہندوں کو ملا کر آسام کے لاکھوں اصل باشندوں کو بنگلہ دیشی ٹھہرا گیا۔ مختلف مواقع پر جیسے (نوٹیفکشن) اطلاعات، حکومتی احکامات اور قانونی لڑائی وغیرہ کے وقت اپنی شہریت کی تصدیق کرانے میں کافی لمبا وقت لگتا ہے۔ اپنی شہریت ثابت کرنے کا بوجھ متاثرین کے کندھوں پر ہی پڑتا رہا۔
17 دسمبر، 2014 کو، سپریم کورٹ نے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو قومی شہری رجسٹریشن (این آر سی) کی تیاری اور تجدید کرنے کا حکم دیا اور مسودہ شائع کرنے کے لئے آخری تاریخ 31 دسمبر 2017 طے کر دیا تھا۔ این آر سی ایک رجسٹر ہے جس میں تمام ہندوستانی شہریوں کے تفصیلات ہوتے ہیں۔ 1951 کی مردم شماری کے دوران محصول تمام افراد کی تفصیلات کو جمع کر ای آر سی تیار کیا گیا تھا۔ این آر سی کی اپ ڈیٹ یا تجدید آسام میں رہنے والے تمام شہریوں کے ناموں کی سوچی تیار کرنے کا عمل ہے۔
گزشتہ تین سالوں سے تجدیدی اور اپ ڈیشن کاکام چل رہا تھا۔ متاثرین کے چودا سرکاری دستاویزات میں سے کسی ایک کو این آر سی میں رجسٹریشن کے لئے کافی سمجھا جاتا ہے۔ مقامی پنچایت سرٹیفکیٹ ان دستاویزات میں سے ایک ہے۔ ہندوو¿ں اور ادیواسیوں سمیت تقریبا 48 لاکھ افراد نے اس سرٹیفکیٹ کو محکموں کے سامنے پیش کیا تھا۔ ان میں سے اکثر مسلم ہیں جنکی نصف تعداد خواتین کی تھیں۔ اسی سال 28 فروری کو، گواہٹی ہائی کورٹ نے پنچایت سرٹیفکیٹ کی توثیق کو مسترد اور منسوخ کردیا ,جسے محکموں کے سامنے پیش کیاگیا تھا۔ متاثرین کو ساتھ لےکر مختلف تنظیموں نے سپریم کورٹ میں اسے چیلنج کیا۔ اب جسٹس رنجن گوگوئی اور جسٹس روہنٹن ایف نریمن پر مشتمل سپریم کورٹ کا ایک بنچ نے گواہٹی ہائی کورٹ کے فیصلہ کو خارج کر دیاہے۔
جناب ای ابوبکر صاحب نے بتایا کہ یہ حکم تقریبا 47۔09 لاکھ درخواست دہندگان کو راحت فراہم کرے گا، جو اپنے باپ اور شوہر کے ساتھ تعلق ثابت کرنے کے لئے پنچایت سرٹیفکیٹ کا استعمال کرتے ہیں۔





