ممبئی۔10دسمبر (ملت ٹائمز پریس ریلیز)
آج 10/دسمبر، 2017 کومرکزالمعارف ایجوکیشن اینڈ ریسرچ سینٹر، جوگیشوری ،ممبئی میں علماءکرام کے لئے ردشکیلیت کے عنوان سے ایک ورکشاپ منعقدکیا گیا۔ جس میں ممبئی و مضافات کے علاوہ پونہ چینئ، اجین وغیرہ سے تقریبا پانچ سو علما، ائمہ اور ذمہ داران مدارس نے شرکت کی۔مفتی عزیز الرحمن فتحپوری کی صدارت اور مولانامحمود خاں دریابادی کی نظامت میں پروگرام کی ابتدا صبح دس بجے ہوئی جس میں سب سے پہلے مرکزالمعارف کے طالب علم مفتی حسان جامی قاسمی نے تلاوت اور مفتی قیام الدین قاسمی نے نعت پیش کی۔
مولانا دریابادی نے موضوع کامختصر تعارف کراتے ہوئے کہا کہ شکیلیت کا فتنہ دیکھتے ہی دیکھتے بڑھ گیا، جس پر امت کو متنبہ کرنا اب وقت کی ضرور ت اور علما کی ذمہ داری ہے ابتداءعوامی طور پر اس فتنے کے خلاف آواز نہ اٹھانے کاسبب اس کی منفی شہرت سے بچنا تھا۔اس کے بعد مہمان خصوصی مفتی حذیفہ قاسمی نے مدلل و جامع گفتگو کی ، جس میں ختم نبوت، نزولِ عیسی اور ظہور مہدی پر پ±ر مغز باتیں کہیں، جن کے بعد مہدویت اور شکیلیت کے فتنے کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے۔
اس کے بعد پروگرام کے مقرر خصوصی اور اس موضوع پر مستقل کام کرنے والے مفتی اسعد قاسم سنبھلی نے تفصیل سے حضرت مہدی علیہ الرضوان کے متعلق احادیث میں وارد تفصیلات کو بیان کرتے ہوئے مہدویت و مسیحیت کا جھوٹادعویٰ کرنے والے شکیل بن حنیف پر تفصیلی خطاب کیا، اور تقابل کے ساتھ انھوں نے واضح کیا کہ شکیل بن حنیف پر سچے مہدی کی کوئی علامت منطبق نہیں ہوتی۔اس کے تمام دعوے جھوٹے اور بے بنیاد ہیں اور وہ محض سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔نہ وہ سچے مہدی کی طرح خاندان نبوت سے تعلق رکھتا ہے ، نہ وہ مدینہ سے ہے، نہ اس کے ہاتھ پر عراق کے ابدال نے بیعت کی ہے،نہ اس نے قسطنطنیہ فتح کیا ہے، اور نہ ہی وہ شکل وصورت میں حدیث میں وارد علامتوں کا حامل ہے۔
مرکزالمعارف کے ڈائریکٹر مولانا محمدبرہان الدین قاسمی نے ادارے کا تعارف پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کا مقصد بھی یہی ہے کہ علمائ کو موجودہ حالات و رائج زبان سے آراستہ کرکے اس قابل بناناہے کہ وہ اٹھنے والے ہر فتنے کا مقابلہ کرسکے۔
اس موقع پر سوال و جواب کی نششت بھی ہوئی اور فتنے کے سد باب کے لئے لائحہ عمل طے کیا گیا جس میں یہ تجاویز سامنے آئیں کہ جمعہ کے بیانات میں مثبت انداز میں مسیح و مہدی کے موضوع پر گفتگو کی جائے اور مختلف زبانوں میں موضوع سے متعلق مواد تیار کرکے عوام تک پہنچایا جائے نیز موقع بہ موقع مختلف علاقوں میں اس عنوان کے تحت نششتوں کا انعقاد کیا جائے۔ آخر میں صدر محترم نے اپنے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ اس طرح کے فتنوں کو کچلنے کے لئے اصل کام ختم نبوت ، اس کی حدود، وحی کی قطعیت اور کشف والہام کےمسئلے کو سمجھنا ہے نیز یہ بھی ہمیں سمجھنا چاہئے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی بھی ایسی مامور بہ شخصیت نہیں آئے گی جن پر ایمان لا نا ضروری ہو۔ انہیں کی دعا پر جلسے کا اختتام ہوا۔
ورکشاپ میں مفتی جسیم الدین قاسمی کی مرتب کردہ کتاب “فتنہ شکیلیت اور اسلام کا صحیح عقیدہ” مرکزالمعارف کی طرف سے ،جبکہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی کاکتابچہ “مسیح ومہدی” الفلاح اسلامک فاو¿نڈیشن کی طرف سے تقسیم کیا گیا۔پروگرام کے انتظامات میں مولانا زین الدین خان قاسمی، مولانا حبیب الرحمٰن مرچنٹ ، مفتی محمد جنید پالنپوری اور لطیف الرحمٰن فلاحی کی خصوصی شرکت رہی۔





