جامعہ ملیہ اسلامیہ کے بعض اسٹاف کا طلبہ کے ساتھ غیر اخلاقی رویہ ،گھنٹوں لائن میں لگنے کے باوجود نہیں ہوپاتاہے کام

نئی دہلی ۔12دسمبر(نسیم اختر ملت ٹائمز)
جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی کی انتظامیہ سے مسلسل شکایات کے باوجود بھی اسٹاف اور کارکنا ن کا رویہ طلبہ کے تئیں بہتر نہیں ہورپارہاہے ،حالیہ دنوں میں ایک مرتبہ پھر جامعہ میں داخلہ کے خواہشمند طلبہ کے ساتھ وہاں کے اسٹاف ناروا سلوک کررہے ہیں،بدتمیزی سے بات کررہے ہیں اور طویل قطار ہونے کے باوجود کام میں سستی کرتے ہیں ،اکثر وقت کی پابندی کا بھی خیال نہیں رکھاجاتاہے ۔
جامعہ کی ٹی ٹی آئی آفس میں گزشتہ کئی دنوں سے طلبہ لمی قطار میںلگ کر واپس ہوجاتے ہیں لیکن ان کے فارم کا اندراج نہیں ہوپاتاہے،المیہ یہ ہے کہ بی اے اور ایم اے کے پرائیوٹ شعبہ کیلئے تمام تر کاموں سے متعلق صرف ایک ونڈو کھولاجاتاہے بقیہ تمام بند رکھے جاتے ہیں جس سے طلبہ کو بیحد پریشانی کا سامناکرناپڑتاہے اور گھنٹوں تک لائن میں لگنا پڑتاہے ،کئی مرتبہ طویل قطار میں لگنے کے باوجود طلبہ کا کام نہیں ہوپاتاہے ۔
جامعہ میں داخلہ کے خواہش مند محمد جنید نے ملت ٹائمز کے نمائندہ سے بتایاکہ پرائیوٹ میں داخلہ لینے ،مارک شیٹ حاصل کرنے اور فارم جمع کرنے والے طلبہ کی ایک بڑی تعداد ہے لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ تمام کام صرف ایک ونڈ و سے انجام دیئے جارہے ہیں۔ایم اے اردو کی طالبہ شائستہ ناز نے بتایاکہ کل میں دوگھنٹہ تک لائن میں لگی رہی لیکن کام نہیں ہوسکا ،آج لائن میں لگے ہوئے تین گھنٹے ہوگئے ہیں پھر بھی اب تک کام نہیں ہوسکاہے ،انہوں نے بتایاکہ اسٹاف بہت سستی سے کام کرتے ہیں ،ساڑھے نو بجے آنے کا وقت ہے لیکن یہ لوگ دس بجے کے بعد آتے ہیں جبکہ طلبہ صبح آٹھ بجے ہی پہونچ کر لائن میں لگ جاتے ہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں جامعہ کی طالبہ نکہت پروین نے بتایاکہ سال رواں سے جامعہ نے پرائیوٹ طلبہ کیلئے بھی آن لائن فارم بھرنے کی سہولت شرو ع کردی ہے لیکن یہ ابھی ناقص ہے ،آن لائن فارم بھر نے کے بھر بعد اس کی پرنٹ یہاں جمع کرنا ضروری ہے ،مارک شیٹ بھی حاصل کرنے کیلئے یہاں آنا ضروری ہے ،آن لائن دستیاب نہیں ہے جس کی وجہ سے کوئی خاطرخواہ فائدہ نہیں ہوسکاہے اور قطار لمبی ہوجاتی ہے ۔
ہم آپ کو بتادیں کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی میں پرائیوٹ امتحانات کیلئے فارم بھرے جارہے ہیں ،15دسمبر آخری تاریخ ہے، دہلی سمیت ملک کے مختلف علاقوں سے طلبہ یہاں فارم بھرنے آتے ہیں لیکن صحیح انتظام نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بیحد پریشانیوں کا سامناکرناپڑتاہے ۔