ہریانہ وقف بورڈچیئرمین کے اختیارات سلب،ڈیڑھ سو کے قریب کیر ٹیکرس کی بھرتی رد، لیز کی فائلوں کوممبران کی نگرانی میں جلد نپٹائے جانے کا امکان

نوح ،میوات( محمد سفیان سیف)
ہریانہ وقف بورڈ میں کافی عرصہ سے چیئرمین پر من مانی اور جانب داری جیسے سنگین الزامات لگائے جا رہے تھے ۔کل شام ہوئی میٹنگ میں وقف بورڈ کے ممبران نے چیئرمین کی طرف سے رکھے گئے ڈیڑھ سو کے قریب کیر ٹیکرس کی بھرتی کو رد کردیا ،صدر دفترانبالہ میں ہوئی اس میٹنگ میں وقف بورڈ کے سبھی ممبران اور بورڈ کے اعلی آفیسران موجود تھے۔اس طرح اب چیرمین کی طرف سے پورے ہریانہ کو نظر انداز کرکے اپنے اسمبلی حلقہ پنہانہ کے لگائے گئے یہ کیر ٹیکرس اب بورڈ میں نہیں رہیں گے،اس بارے میں ہریانہ وقف بورڈ کے اہم ممبر مولانا محمد خالد قاسمی نے نمائندے کو فون پر بتایا کہ بورڈ کو جیسے حقیقت میں ہونا چاہئے اور چلنا چاہئے ویسا ہی چلایا جائے گا ، ایک سوال کے جواب میں مولانا خالدقاسمی نے جو کیئر ٹیکرس اب ہٹائے گئے ہیں وہ دوبارہ درخواست دے سکیں گے جب وقف کی جانب سے تقرریاں ہوں گی ۔ان سبھی کو وقف کی جانب سے مطلع کر دیا جائے گا آپ کی تقرری دستوری نہیں تھی ۔
اطلاعات کے مطابق بورڈ کی درگاہوں کی گولکوں پر اب بورڈ نے باقاعدہ ملازمین کی وہی پرانی ٹیم ویلفئر آفیسر محمدمبارک کی سربراہی میں متعین کردی ہے جو درگاہوں کے گولکوں کو وہاں کے ایسٹیٹ آفیسر کی موجودگی میں کھولے گی ، لیز کی فائلوں کو وقف بورڈ ممبران کی نگرانی میں جلد از جلد نپٹاکر بورڈ کی آمدنی بڑھائی جائے گی ۔چیرمین کی طرف سے بورڈ کی گاڑیوں اور ڈرائیو روں کے بیجا استعمال پر بھی بورڈ نے ایکشن لیتے ہوئے گاڑیوں کو بورڈکے حوالے کر دیا ۔اس بارے ہریانہ وقف بورڈ اینٹی کرپشن سوسائٹی کے صدر قاری محمد یامین ،جنرل سیکرٹری حافظ محمد مرتضی تیاگی ، سرپرست صوفی محمد عمران اور مولانا ولی الدین ولی شمالی یمنانگری نے جانکاری دیتے ہوئے بتایا کہ ان کی تحریک کو ممبران کے ایکشن سے بہت بڑی کامیابی ملی ہے ،یہی وقت کا تقاضا تھا ،اسی سے قوم کا یہ اہم ملی اثاثہ محفوظ رہ سکتا تھا ،سبھی اہل ہریانہ ہریانہ وقف بور ڈ کے ممبران کے مشکور ہیں کہ جن کے ملی جذبہ سے سرشار ایکشن کے چلتے چیرمین کی من مانیوں پر لگام لگ سکی ہے ۔ہریانہ وقف بورڈ میں جاری اندرونی خلفشار،کرپشن کے الزامات اور خطہ جات کی بنیاد پر کی جا رہی بھرتیوں کے الزامات کے درمیان کل دیرشام ہوئی بورڈ کی میٹنگ ،جس کا سب کو بے صبری سے انتظار تھا،میں چیرمین سے بورڈ ممبران نے وہ تمام اختیارات حذف کر لئے ہیں جو انہوں نے بورڈ کے قیام کے فورا بعد پہلی میٹنگ میں اپنے پاس رکھ لئے تھے ۔جن میں سب سے اہم اختیارات میں سے سی ای او کے اختیارات کو محدود کرنا تھا جو اب چیرمین کے پاس سے لیکر بورڈ ممبران نے سی ای او کو پھر سے اختیارات دوبارہ دے دئیے ہیں ، بورڈ ممبران کو جو اختیارات اور ذمہ داریاں تھیں وہ بھی اب چیرمین سے چھن کر ممبران کے پا س پہنچ گئی ہیں ۔
وقف بورڈ کے متعلق حضرات نے کہا کہ بورڈ پر جو سب سے بڑا الزام تھا کہ یہ بورڈ ہریانہ بورڈ نہ ہو کر پنہانہ بورڈ بن گیا تھا ،اب یہ اس سے آزاد کرالیا گیا ہے ۔