تاج محل کے احاطے میں نماز کی ادائیگی سے روکنا ناانصافی ہے : مفتی مکرم

فتحپوری ۔(ایم این این )جامع مسجد فتحپوری کے شاہی امام ڈاکٹر مفتی مکرم احمد نقشبندی نے محکمہ آثار قدیمہ پر نکتہ چینی کی ہے اور کہا کہ تاج محل میں نماز کی ادائیگی بنیادی حق ہے۔

خبررساں ایجنسی ‘اے این آئی’ سے بات کرتے ہوئے مفتی مکرم نقشبندی نے کہا کہ محکمہ آثار قدیمہ کا مسلمانوں کو تاج محل میں نماز پڑھنے سے روکنا ناانصافی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے ایس آئی کا یہ قدم غلط ہے، نیز یہ بنیادی حقوق کی خیال ورزی کرتا ہے۔

مفتی مکرم نے کہا کہ لوگ یہاں ایک عرصے سے پرامن طریقے نماز ادا کر رہے تھے۔ اس مسجد کو نماز کی ادائیگی کے لیے بنایا گیا تھا، یہ حق ہمیں آئین نے فراہم کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے ایس آئی کو جلد ہی اپنے کو حکم کو واپس لینا چاہیے۔

خیال رہے کہ آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا نے اتوار کے روز تاج محل میں پنچ وقتہ نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کی تھی۔

اتوار کے روز اس محکمے نے وضو خانے کو بند کر دیا تھا اور مسجد کے امام اور دوسرے ملازموں کو کہا گیا تھا کہ وہ صرف جمعے کے روز ہی مسجد آئیں۔

آل انڈیا امام فیڈریشن کے صدر مولانا ساجد رشیدی نے کہا کہ اے ایس آئی کا فیصلہ غلط ہے، اے ایس آئی کے دوہرے رویے کو برداشت نہیں کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دارالحکومت دہلی میں اس طرح کے 123 ملکیت ہے، جس میں بہت ساری مسجدیں ہیں۔

انہوں نے وقف بورڈ کو مساجد میں امام مقرر کرنے کی گزارش کی ہے۔

ملت ٹائمز ایک آزاد،غیر منافع بخش ادارہ ہے جس کی آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں۔اسے جاری رکھنے کیلئے مالی مدد درکارہے۔یہاں کلک کرکے تعاون کریں
Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *