چننئی (ایم این این )
شعبہ¿ عربی،فارسی و اردو مدراس یونی ورسٹی کے زیر اہتمام قومی کونسل برائے فروغ زبان اردو ، نئی دہلی کے مالی تعاون سے پلاٹنم جوبلی آڈیٹوریم میںپر دوروزہ قومی اردو سمینارمورخہ۷۲اور ۸۲مارچ ۹۱۰۲ءکو منعقد ہوا۔ اس سیمینار میں ہندوستان بھر سے تقریباً ۰۳ مندوبین شریک رہے۔ افتتاحی اجلاس کی صدارت جناب پروفیسر قاضی حبیب احمد ، صدرشعبہ عربی فارسی و اردو، مدراس یونی ورسٹی نے کی۔ جناب پروفیسر مظفر علی شہ میری ، وائس چانسلر ، ڈاکٹر عبد الحق اردو یونی ورسٹی، کرنول نے بحیثیت مہمان خصوصی اپنے بصیرت افروز خطاب سے محظوظ فرمایا۔ جناب پروفیسر شہزاد انجم ، صدر شعبہ اردو، جامیہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی نے بڑے دل نشین انداز سے موضوع کی اہمیت اور ضرورت پر اظہار خیال فرمایا۔معروف ادیب ڈاکٹر سید یحیٰ نشیط صاحب نے پر مغز کلیدی خطبہ پیش کیا۔ جلسہ کا آغازحافظ محمد ابرار صاحب متعلم شعبہ اردو کی تلاوت کلام پاک سے ہوا ۔ جناب شاہد مدراسی نے موثر انداز میں ’ترانہ جامعہ مدراس‘ دف کے ساتھ سناکر جلسے میں ایک سماں باندھ دیا۔ جلسے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر امان اللہ صاحب نے بڑے خوش اسلوبی سے انجام دیے اورایس ٹی نوراللہ ،متعلم شعبہ نے ہدیہ تشکر پیش کیا۔
افتتاحی اجلاس کے بعد مقالات کے پہلے سیشن کا آغاز ہوا۔ پروفیسرسیدسجادحسین ، سابق صدر، شعبہ عربی ،فارسی و اردو،مدراس یونیورسٹی نے اس نشست کی صدارت کی جس میں ڈاکٹر نکولن، کیرلا نے اردو اور ملیالم کا لسانی و سماجی اشتراک، ڈاکٹر مظہر کبریا، کلکتہ نے ’اردو اوربنگالی کا لسانی و سماجی اشتراک‘ ، ڈاکٹر محمد مدثر نے ’ترچناپلی اور نواح کی مقامی اردو میں تمل کے اثرات‘ ، ڈاکٹر کے ہچ کلیم اللہ ، آمبور نے ’اردو زبان کے تمل زبان و ثقافت پر اثرات‘ اور ڈاکٹر حیات افتخار نے ’دکنی اردو پر تمل کے اثرات‘ کے حوالے سے اپنے مقالے پیش کئے۔
تیسری نشست کی صدارت ڈاکٹر حیات افتخار، سابق صدر شعبہ اردو، قائد ملت کالج مدراس نے کی اوراس سیشن میں جناب امداد اللہ مدراس یونیو رسٹی نے ’اردو اور اڑیا زبانوں کا لسانی و سماجی اشتراک‘ ڈاکٹر نثار احمد، شری ونکٹیشورا یونی ورسٹی تروپتی نے ’اردو اور تیلگو کے ادب اطفال کا تقابلی مطالعہ‘ ڈاکٹر سعید الدین ، اسلامیہ کالج وانمباڑی نے ’ تمل زبان میں اردو اور فارسی الفاظ کا استعمال ‘ جناب نور اللہ نے ’دکنی پر تیلگو کے اثرات‘ اور محترمہ نازیہ نے ’اردو اور ہندی کا لسانی رشتہ‘ کے حوالے سے اپنے مقالے پیش کئے۔
چوتھی نشست کی صدارت ڈاکٹر پروین فاطمہ، سابق صدرشعبہ اردو، کوئن میریس کالج ،مدراس نے کی جس میں ڈاکٹر امین اللہ، تروپتی ’اردو اور تیلگو کا لسانی و سماجی اشتراک‘ ، عائشہ صدیقہ،مدراس یونیورسٹی نے ’ مختار بدری کی تمل اور اردو لغات :ایک مطالعہ‘ جناب غیاث احمد، نیوکالج ،چنئی نے ’مدراس کی دکنی زبان پر تمل محاوروں کا آپسی اشتراک ‘ ڈاکٹر طیب علی نے ’کنڑی زبان اور ثقافت کا اردو زبان پر اثر و رسوخ ‘ اور جنا ب اعظم شاہد نے ’ کنڑی اور اردو کا سماجی و لسانی لین دین ‘ کے عنوان سے اور ڈاکٹر غوثیہ سعیدہ،مدراس،نے اردو اور تمل کے با ہمی میل جول پر اپنے مقالے پیش کئے ۔
اختتامی اجلاس کی صدارت ڈاکٹر حکیم سید ستار صاحب نے فرمائی اوراس اجلاس میںپروفیسرقاضی حبیب احمد نے اپنے خصوصی خطاب میں دو روزہ قومی سیمنار میں پیش کئے گئے مقالوں کا محاکمہ کرتے ہوئے کہاکہ ایک نئے اور اہم موضوع پر گفتگو کا آغاز ہوگیا ہے اور اب اس سلسلے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔اس اجلاس میں جناب نجم الہدیٰ IPSجوائنٹ کمشنر آف پولیس نے بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ سیمینار کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے سیمینار کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد پیش کیا اور مقالہ نگاروں کو اسناد بھی تقسیم کئے۔سیمینار ڈائرکٹر جناب ڈاکٹر امان للہ ایم بی نے مقالہ نگاروں کو مبارکبادی پیش کی اور یہ اعلان کیا کہ ان مقالات کو یکجاکرکے اور مزید ماہرین ادب سے مضامین لکھواکر بہت جلد انہیں کتابی شکل دے دی جائے گی تاکہ آئندہ آنے والی نسلیں اس سے بھرپور استفادہ کرسکیں۔ہدیہ¿ تشکر کے بعد قومی ترانہ کے ساتھ یہ دوروزہ قومی سمینار نہایت ہی کامیابی کے ساتھ اختتام کو پہنچا۔






