عام انتخابات2019 کے پیش نظر آل انڈیا ملی کونسل کی پریس کانفرنس ۔ڈاکٹر منظور عالم کی کتاب ”اندیشے جو سچ ثابت ہوئے “ کی رسم اجراء
نئی دہلی(منور عالم )
یہ بات سب کے علم میں ہے کہ 2019 کے عام انتخابات کا اعلان کیا جا چکا ہے اور مختلف سیاسی جماعتوں کی تشہیری مہم زوروں پرہے، سیاسی جماعتوں نے اپنے انتخابی منشور کے اجراءکے ساتھ امیدواروں کے ناموں کی تعیین بھی شروع کر دی ہے۔اطمینان کی بات یہ ہے کہ بعض جماعتوں کے منشور میں عوام کے بنیادی مسائل کو خصوصی جگہ دی گئی ہے،تاہم ان منشوروں میں اقلیتوں کے مسائل یا تو درج ہی نہیں ہیں یا نہ کے برابر ہیں تاہم سیکولر پارٹیوں کے ہم ساتھ ہیں اور آئین کے تحفظ کیلئے سیکولر پارٹیوں کا اقتدار ضروری ہے۔ ان خیالات کا اظہار آج ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے آل انڈیا ملی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر محمد منظور عالم نے کیا ۔انہوں نے اس موقع پر یہ بھی کہاکہ گذشتہ پانچ سالوں کی حکومت ملک کیلئے بدترین ثابت ہوئی ہے ۔ آئینی اداروں کے وجود کو خطرات لاحق ہیں ۔ملک کا آئین خطرے میں ہے اس لئے سال 2019 کا انتخاب بہت اہم ہے اور یہ آئین کو بچانے کی لڑائی ہے جس کی ذمہ داری ملک کے تمام انصاف پسند شہریوں کی ہے ۔ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ سیکولر پارٹیوں نے ہمارے ساتھ اچھا رویہ نہیں کیاہے لیکن اس کے باوجود ہم سیکولر ووٹوں کے درمیان اتحاد چاہتے ہیں تاکہ ملک کا آئین محفوظ رہے اور آئین کی بقا تمام شہریوں کی ذمہ داری ہے سبھی کے مفادات اس سے وابستہ ہیں ،یہ صرف مسلمانوں کا معاملہ نہیں ہے ۔
پریس کانفرنس سے بی وی راوت نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ آزا د ہندوستان کی تاریخ کا یہ سب سے شرمناک لمحہ ہے جب الیکشن میں ترقیاتی کامیابوں کے بجائے راشٹر واد کو مدعا بنایاجارہاہے اور ایک کمیونٹی پر مسلسل حملہ کیا جارہاہے ۔انہوں نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیا کہ اب سیکولر پارٹیاں بھی اس کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلمانوں کا نام تک لینا پسند نہیں کرتی ہے اور ملک کو اس مقام پر پہونچادیاگیاہے کہ اب سیکولر پارٹیوں کو لگنے لگاہے کہ مسلمانوں کا نام لینے کی وجہ سے ان کا ووٹ بینک کم ہوجائے گا ۔
معروف صحافی جون دیال نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ یہ شرمناک بات ہے کہ کانگریس نے کے انتخابی منشور میں صرف ایک جگہ مسلم لفظ کا ذکر آیاہے اور وہ بھی علی گڑھ مسلم یونیورسیٹی کے نام کے ساتھ ۔انہوں نے اس با ت پر بھی افسوس کیا کہ ملک میں تین کڑورعیسائی ہیں لیکن ایک جگہ بھی یہ تذکرہ نہیں آیا ۔جون دیا ل اس بات پر شدیدناراضگی کا اظہار کیا کہ فوج کی کامیابیوں کو یہ حکومت اپنے نام کررہی ہے حالاںکہ اندراگاندھی کے زمانے میں پاکستان دوحصے میں تقسیم ہوگیاتھا لیکن اس کے باوجود انہوں نے کریڈٹ نہیں لیا ۔
مولانا عبد الحمید نعمانی نے کہاکہ ملک ہر محاذ پر بحران کا شکارہے اور اس سے نکلنے کیلئے سبھی کو ساتھ آناہوگا کیوں کہ بی جے پی نے گذشتہ پانچ سالوں میں ملک کو جہاں پر پہونچادیاہے اس کا نقصان پورے ملک کو ہوگا انہوں نے یہ بھی کہاکہ کچھ لوگ آئین بدلنے کی بات کررہے ہیں اس کا مطلب ہے کہیں نہ کہیں ایسی منصوبہ بندی ہورہی ہے ۔
پریس کانفرنس میں ڈاکٹر محمد منظور عالم کی کتاب ”اندیشے جوسچ ثابت ہوئے“ کا اجراءبھی عمل میں آیا جس میں انہوں نے مودی حکومت کی گذشتہ پانچ سالہ کارکردگی کا جائزہ پیش کیاہے اور یہ کتاب ایک طرح سے بی جے پی کی پانچ سالہ حکومت کا رپوٹ کارڈ ہے ۔ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر منظور عالم نے کہاکہ تمام ملی جماعتوں کا متحد ہوکر پریس کانفرنس کرنا مناسب نہیں ہے کیوں کہ اس کو کچھ پارٹیاں غلط رخ دیکر کہتی ہیں کہ دیکھو مسلمان متحد ہوگئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ ملک نے پانچ سالوں تک جس طرح کے حالات کا سامناکیاہے اس سے ملک کے مسلمانوں اور عوام نے خود فیصلہ کرلیاہے کہ ان کے حق میں کیا بہتر ہے ۔ایک اور سوال کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہاکہ آل انڈیا ملی کونسل کا فیصلہ ہے کہ جہاں جو امیدوار قابل ذکر او ر جیتنے کی پوزیشن میں ہے اسے سپورٹ کیا جائے۔
آل انڈیا ملی کونسل نے پریس کانفرنس میں مسلم ممبران پارلیمنٹ کی گھٹی تعداد پر بھی اندیشے کا اظہار کیا اور کہاکہ جس کمیونٹی کے لوک سبھا میں پہلے 46 ممبران ہوا کرتے تھے اس کی تعداد سولہویں عام انتخابات میں کم ہو کر 23 پر آگئی اور رجحانات کے مطابق اس مزید گراوٹ کا اندیشہ ہے۔ علاوہ ازیں لمحہ فکریہ یہ ہے کہ گزشتہ پانچ سالوں میں ملک میں منظم طور پر نفرت انگیزی، ماب لنچنگ، اور خاص طور پر مذہبی اقلیات اور مسلمان اور دلت کو نشانہ بنائے جانے کے واقعات پیش آئے ہیں۔مگر حیرانی کی بات یہ ہے کہ کسی بھی بڑی سیاسی جماعت نے اس بات کو ضروری نہیں سمجھا کہ دیگر کمیونٹی کے ساتھ ترقی کی دوڑ میں مسلمانوں کے پیچھے رہ جانے کے معاملے کو یا نفرت انگیز ماحول کے خاتمے کو اپنے انتخابی منشور میں جگہ دے۔
انہوں نے کہاکہ آل انڈیا ملی کونسل تمام سیاسی جماعتوں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ اس غیر محتاط رویے پر نظر ثانی کرے، کیونکہ مساوات، آزادی، انصاف اور ایک جمہوری ملک میں اخوت کا جذبہ متاثر ہوگا جو کہ آئین ہند کی روح میں پیوست ہے۔ملی کونسل نے اس موقع پر یہ تمام شہریوں سے اپیل کی کہ وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ دیں اور ملک کے آئین اور تحفظ کو یقین بنائیں ۔






