اگر سیاسی شعور بیدار کرنے کی کوشش نہیں کی گئی تو دنیا انا رکی کاشکار اور اس کے تانے بانے بکھر جائیں گے

مولانا کبیر الدین فاران کا اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور پڑوسی صوبہ کے علماءاور صاحب فکر لوگوں کے درمیان خطاب
مسروالا(پریس رریلیز)
انبیائے کرام اور ان کے متبعین نے امن وسلامتی اور دنیا کی ہدایت اور راہ راست پر لانے کی خاطر ہی دنیا کی قیادت فرمائی انسانیت جب بھی انبیاءکرام کی سیاست سے منحرف ہوئی ذلیل وخوار اور آپسی ظلم وزیادتی کا شکار ہوئی ۔ موجودہ حالات کے تناظر میں آج دنیا میں ظلم وانار کی اور لاقانونیت کے جو بھی دل دوز مناظر دےکھنے کو مل رہے ہیں ان کی اصل وجہ گلوبلائزیشن کی اسلام مخالف سیاست ہے جمہوریت اور علمی ترقی کے باوجود جنگوں کا بازار گرم ہے ۔
اس کا اظہار آل انڈیا سماج سدھار سمیتی کے صدر مولانا کبیر الدین فاران مظاہری ناظم مدرسہ قادریہ مسروالا ہماچل پردیش نے اتراکھنڈ، ہماچل پردیش اور پڑوسی صوبہ کے علماءاور صاحب فکر لوگوں کے درمیان کررہے تھے۔
آپ نے مشہور مفکر افلاطو ن کی گراں قدر رائے کے حوالہ سے کہا کہ سیاست سے کنارہ کشی کا انجام ےہ ہوگا کہ تم سے کمتر لوگ اٹھ کر تم پر راج کرنے لگیں گے۔
اسی طرح مولانا فاران نے امام انقلا ب حضرت عبید اللہ سندھی ؒ کے فرمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ جس قوم پر عذاب کا فیصلہ فرماتا ہے تو اس کا سیاسی شعور سلب کر لیتاہے ۔
مفکر اسلام حضرت مولانا سید علی میاں ندوی ؒ کی فکر انگیز رائے کو بطو دلیل پیش کر تے ہوئے کہاکہ اگر قوم کو پنج وقتہ نمازی نہیں بلکہ سوفیصد تہجد گزار بنادیا جائے لیکن اسکے سیاسی شعور کو بیدار نہ کیاجائے اور ملک کے احوال سے ان کو واقف نہ کیا جائے تو ممکن ہے کہ اس ملک میں آئندہ تہجد تو دورپانچ وقت کی نمازوں پر بھی پابندی عائد ہوجائے۔
سماج سدھار سمیتی کے صدر مولانا کبیر الدین فاران نے اپیل کی ہے کہ مذکور ہ دلائل کی روشنی میں رہبران قوم وملت کو اتحاد مسلک ومشرب ہر طبقہ ¿ فکر کے لوگوں سے رسم وراہ اور حسن سلوک اور رواداری کو بروئے کار لاکر ملک کی سلامتی اور یکجہتی کی بقا کی شکلوں کےلئے مستحکم رائے دنیا کے سامنے پیش کرنا چاہئے تاکہ ملک کی سیادت وقیادت خیر خواہوں اور راست بازوںکے سپر درہے تودنیاانارکی کا شکار ہونے سے محفوظ ہوجائے گی اوراس کے تانے بانے بکھرنے سے بچ جائیںگے۔