جامعہ ملیہ اسلامیہ کی 100 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون وائس چانسلر کی بحالی ۔ عہدہ سنبھالنے کے بعد پروفیسر نجمہ اختر جامعہ کے تئیں ان عزائم کا اظہار کیا

روفیسر اختر کو 130 ملکوں کے سینئر افسروں کے لئے بین الاقوامی تعلیمی انتظامیہ کورس قیادت کےلئے جانا جاتا ہے، جس کے لئے انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (این آئی ای پی اے) میں 15برسوں تک کام کیا ہے
نئی دہلی(ایم این این )
جامعہ ملیہ اسلامیہ کی 100سالہ طویل تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی خاتون کو وائس چانسلر کے عہدے پر فائز کیا گیا ہے۔ یہ اعزاز پروفیسر نجمہ اختر کو حاصل ہوا ہے، گزشتہ روز ان کے نام کا اعلان کیا گیا تھا اور آج جمعہ کے روز انہوں نے اپنا عہدہ سنبھال لیا۔
پروفیسر نجمہ اختر نے عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا ہے کہ وہ جامعہ کو عالمی سطح کا تعلیمی ادارہ بنانے کےلئے کوشاں ہیں اور اس کے عظیم بانیوں کے خوابوں کو پورا کریں گی۔
پروفیسر اختر نے وائس چانسلر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ 1920 میں قائم اس یونیورسٹی کے بانیوں محمد علی جوہر اور ڈاکٹر ذاکر حسین جیسی عظیم شخصیات کے خوابوں کو پورا کریں گی اور اسے ایک جامع تعلیمی ادارہ بنائیں گی، جہاں امن اور انصاف قائم ہو اور تعلیم کے معیار میں اضافہ ہو۔
انہوں نے عہدہ سنبھال لیا ہے۔ انہیں کل یونیورسٹی کا نیا وائس چانسلر مقرر کیاگیا تھا۔ پروفیسر اختر نہ صرف جامعہ بلکہ دہلی کی کسی بھی مرکزی یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے عہدے پرفائز ہونے والی پہلی خاتون ہیں۔ پروفیسر اختر کو 130 ملکوں کے سینئر افسروں کے لئے بین الاقوامی تعلیمی انتظامیہ کورس قیادت کےلئے جانا جاتا ہے، جس کے لئے انہوں نے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ایجوکیشنل پلاننگ اینڈ ایڈمنسٹریشن (این آئی ای پی اے) میں 15برسوں تک کام کیا ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ سال طلعت احمد نے مدت ختم ہونے سے پہلے ہی اپنے عہدے سے استعفی دے دیا تھا، اب تک پروفیسر شاہد اشرف بطور کارگزار وائس چانسلر فرائض انجام دے رہے تھے۔
پروفیسر نجمہ اختر کی تقرری کی منظوری جمعرات کو صدر جمہوریہ رام ناتھ کووند نے دی تھی۔ ان کے علاوہ سلیکشن کمیٹی کی جانب سے دو اور نام صدر جمہوریہ کے پاس بھیجے گئے تھے، جن میں ’اسو سی ایشن آف انڈین یونیورسٹیز‘ کے سکریٹری جنرل فرقان قمر اور آئی آئی ٹی دہلی کے پروفیسر ایس ایم اشتیاق کے نام شامل تھے۔ صدر جمہوریہ تمام مرکزی یونیورسٹیوں کے ’ویزیٹر ہیڈ‘ ہیں اور انہی کے ذریعہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر کی تقرری عمل میں آتی ہے۔

SHARE