اب مریضوں کے علاج میں بھی مذہبی تعصب

3

 بھارت میں بڑھتے ہوئے مذہبی تعصب نے اب طبی شعبے کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے، جس کی تازہ مثال گجرات میں احمد آباد کا ایک سرکاری اسپتال ہے جہاں کورونا کے ہندو اور مسلم مریضوں کو الگ الگ رکھا جارہا ہے۔

ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کی قیادت والی گجرات حکومت نے حالانکہ اس طرح کے کسی واقعے پر لاعلمی کا اظہار کیا ہے تاہم اسپتال کا دعوی ہے کہ اس نے یہ قدم حکومت ہی کی ایما پر اٹھایا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کی آبائی ریاست گجرات کے احمد آباد میں اتوار کی شام کو ہی کووڈ۔انیس کے ہندو اور مسلم مریضوں کو الگ الگ آئسولیشن وارڈوں میں منتقل کردیا گیا تھا۔ جب یہ بات عام ہوئی تو خاصا تنازعہ کھڑا ہوگیا اور مختلف سماجی حلقوں نے اس پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے انتہائی غیر معمولی اور افسوس ناک واقعہ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد بھارت میں گذشتہ سات دہائیوں کے دوران اس طرح کا مذہبی تعصب کبھی دیکھنے کو نہیں ملا۔ یہ نہ صرف غیر انسانی بلکہ غیر آئینی بھی ہے۔
بھارت میں بہت سے اسپتالوں کو کورونا وائرس کے مریضوں کے علاج کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ احمد آباد کا سرکاری سول اسپتال بھی ان میں سے ایک ہے جہاں بارہ سو بستر الاٹ کیے گئے ہیں۔ اس اسپتال میں کووڈ۔انیس کے اب تک 150مریض زیرعلاج ہیں جبکہ 36 دیگر افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ انہیں فی الحال ایک علیحدہ وارڈ میں رکھا گیا ہے۔
ہسپتال کے ذرائع نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 150میں سے کم از کم 40 مریضوں کا تعلق مسلم فرقے سے ہے۔ انہیں گزشتہ ہفتے اسپتال میں داخل کیا گیا تھا۔ ایک مسلمان مریض کے رشتے دار نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا”اتوار کی شام کو اسپتال کے حکام نے انہیں کہا کہ ہندو اورمسلمان مریضوں کو الگ الگ وارڈوں میں رکھا جائے گا۔ اس کے بعد مسلم مریضوں کو فوراً دوسرے وارڈ میں منتقل کردیا گیا۔“
اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر گن ونت راٹھور کا کہنا ہے کہ یہ قدم ریاستی حکومت کے گائیڈ لائنس کے مطابق اٹھایا گیا ہے، تاہم انہوں نے مزید کچھ کہنے سے انکار کردیا۔ دوسری طرف گجرات کے نائب وزیر اعلی اور وزیر صحت نیتن پٹیل کا کہنا ہے کہ انہیں اس واقعے کے بارے میں قطعی کوئی علم نہیں ہے۔
ذرائع کے مطابق ہسپتال کے حکام نے اتوار کی شام ابتدا میں 28 نام پکارے۔ یہ سب کے سب مسلمان تھے۔ ان سب سے کہا گیا کہ انہیں دوسرے وارڈ میں لے جایا جائے گا۔ ہسپتال کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہیں کرنے کی شرط پر ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”ایسا دونوں فرقے کے فائدے کے لیے ہی کیا گیا ہے۔ کیوں کہ دہلی میں تبلیغی جماعت کے مرکزمیں شرکت کی وجہ سے کورونا کے پھیلنے کی خبر سے ہندو مریضوں میں خوف پیدا ہوگیا تھا اور اسی لیے دونو ں فرقوں کے مریضوں کو الگ الگ آئسولیشن وارڈوں میں منتقل کردیا گیا تاکہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہونے پائے۔“
ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا ہے کہ ایک سرکاری اسپتال میں ہندو اور مسلمانوں کو الگ الگ وارڈوں میں رکھنے کا فیصلہ کس کی ہدایت پر کیا گیا، لیکن اس نے ملک میں ایک نیا تنازع ضرور پیدا کردیا ہے اور اس کے ساتھ ہی بھارت میں فرقہ وارانہ تعصب کے حوالے سے ایک نئی بحث بھی چھڑ گئی ہے۔
آئینی امور کے ماہر امل مکھرجی نے ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”گجرات کے ہسپتال میں جو کچھ ہوا وہ غیرانسانی اور غیر آئینی ہے۔ بھارتی آئین کے دفعات21 تا 25 میں سیکولرزم کے پس منظر کو بیان کیا گیا ہے ۔سیکولرزم کا لفظ بھارت کی آئین کی تمہید میں بھی موجود ہے۔ ذات اور مذہب کی بنیاد پر کسی مریض کی نشاندہی کرنا اور اسے الگ تھلگ کرنا قانوناً جرم ہے۔“
ایک سرکاری ہسپتال میں ملازمت کے بعد سبکدوش ہوچکے ڈاکٹر ستیاکی ہلدھر بھی ڈاکٹر مکھرجی کے موقف کی تائید کرتے ہوئے کہتے ہیں ”مریض کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ پوری دنیا میں ایم بی بی ایس پاس کرنے کے بعد ہر ڈاکٹر کو حلف لینا پڑتا ہے، جس میں ڈاکٹر یہ حلف لیتا ہے کہ وہ نسل، مذہب اور ذات و زبان کی بنیاد پر کسی بھی مریض کے ساتھ تعصب نہیں کرے گا۔ ڈاکٹر کے لیے ہر مریض برابر ہے۔ لیکن گجرات کے واقعے نے طب کی بنیادی اخلاقیات کو چیلنج کردیا ہے۔ یہ افسوس ناک ہے۔“
بائیں بازو کی اپوزیشن جماعت سی پی ایم کی مرکزی کمیٹی کے رکن سجان چکرورتی نے ڈی ڈبلیو سے با ت چیت کرتے ہوئے کہا کہ ”بھارت کی حکمراں جماعت ایک عرصے سے منافرت پھیلانے کی کوشش کررہی ہے۔ اسے آئین کا ذرا بھی پاس و لحاظ نہیں ہے۔ تعصب کی سیاست ہی اس کا ہمیشہ سے مقصد رہا ہے۔“
دوسری طرف حکمراں جماعت بی جے پی کے جنرل سکریٹری سناتن بوس کو اس واقعے میں کوئی خرابی نظر نہیں آتی ہے۔ انہوں نے کہا”اگر ڈاکٹر وں کو یہ لگا کہ ہندووں اور مسلمانوں کو الگ الگ کرکے علاج کرنے سے مریضوں کو کچھ فائدہ ہوسکتا ہے تو اس میں کیا قباحت ہے۔ حکومت نے یہ فیصلہ ڈاکٹروں کے مشورے پر ہی کیا ہوگا۔“
ڈاکٹروں کا تاہم کہنا ہے کہ کسی ڈاکٹر کے لیے اس طرح کا مشورہ دینا ممکن نہیں ہے۔ بیماری اور علاج کا مذہب سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ جولوگ اس معاملے میں ڈاکٹروں کے کندھے پر بندوق رکھ کر چلانے کی کوشش کررہے ہیں وہ یا تو جھوٹ بول رہے ہیں یا حقیقت سے آنکھیں چرانے کی کوشش کررہے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ گجرات کے ہسپتال میں جو واقعہ پیش آیا ہے اگراس طرح کا رجحان عام ہوگیا تو اس کے انتہائی خطرناک اور دور رس مضمرات ہوں گے اور بھارت میں مذہبی شدت پسندی شدید تر ہوجائے گی۔