مسلم پرسنل لا بورڈ کے بے لوث خادم عبدالرحیم قریشی

6

’’ایودھیا کا تنازعہ، رام جنم بھومی، فسانہ ہے حقیقت نہیں‘‘ کے آئینے میں!
محمد نوشاد عالم ندوی
ملت ٹائمز
Naushad Alam Nadwiآل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے اسسٹنٹ جنرل سکریٹری و ترجمان محمد عبدالرحیم قریشی صاحب ؒ صدر آل انڈیا اب ہمارے درمیان نہیں رہے، وہ اس دار فانی کو خیرباد کہہ چکے ، موت سے کس کو رستگاری ہے، آج وہ کل ہماری باری ہے۔ موت تو برحق ہے،لیکن ان کا اس دنیا سے چلا جانا یا ان کی جدائیگی کا غم کسی فرد واحد کیلئے یا مسلم پرسنل لا بورڈ ہی کیلئے نہیں ہے، بلکہ یہ پوری ملت اسلامیہ ہندیہ کے لیے عظیم حادثہ اور ناقابل تلافی ہی نہیں بلکہ بڑا خسارہ ہے۔ مرحوم ایک ذہین، معاملہ فہم،حاضر دماغ،بے لوث ،منکسرالمزاج، مشفق، بلندقائد اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کو بام عروج تک پہنچانے میں اہم رول ادا کرنے والے مرد مجاہد تھے۔مرحوم کا علمی ، ادبی، ملی ، سماجی حلقوں میں بڑی اہمیت ومرتبہ تھا،وہ ہر مکتبہ فکر میں ہردلعزیز اور ہر ایک کے دل میں ان کے لئے خاص جگہ تھی۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبدالرحیم قریشی کسی ایک انسان کانام نہیں تھا ان کا درد اور ان کی تڑپ پوری ملت کیلئے وقف تھی۔ اسی لیے ان کے انتقال کو پوری ملت اسلامیہ کے لیے ایک بہت بڑا خسارہ مانا جارہا ہے۔ مرحوم نہایت نیک،فعال،سرگرم، بلند اخلاق وکردار کے حامل ہونے کے ساتھ ہی عوام کے مسائل خاص طور سے اقلیتوں اور مسلم مسائل کے حل کرنے قوم وملت کی خوشحالی وترقی کی راہیں تلاش کرنے میں جس طرح پیش پیش رہے، اور مسلم پرسنل لاء بورڈ کے پلیٹ فارم سے جو بے لوث خدمات انجام دی ہیں،اسے تاریخ کبھی فراموش نہیں کرسکتی۔ مرحوم نے زندگی کے آخری ایام میں ایودھیا کا تنازعہ، رام جنم بھومی،، فسانہ ہے حقیقت نہیں بڑی اہم کتاب تصنیف کرکے جوکارنامہ انجام دیا وہ بے مثال ہے۔ مرحوم نے اپنی کتاب میں ماہر آثارِ قدیمہ جاسو رام کے تحقیقی مقالات شامل کیے ہیں، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ رام کی جائے پیدائش ایودھیا نہیں ہے۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اب تک ایودھیا میں تین مرتبہ کھدائی ہو چکی ہے، لیکن ابھی تک وہاں سے رام کے متعلق ثبوت نہیں ملے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حضرت عیسیٰؑ سے کئی صدیاں قبل ایودھیا میں کسی تہذیب آثار نہیں ملے ہیں۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہندوستان کے ملی مسائل پر آپ گہری نظر رکھنے کے ساتھ طویل عرصہ تک بابری مسجد کے حصول کے لئے قانونی لڑائی لڑتے رہے، مسلم پرسنل لا بورڈ کے بے باک اور غیر جانب دار ترجمان بھی تھے، مسلم مسائل پر میڈیا کے ہر نرم گرم سوال کا معقول بلکہ دنداں شکن جواب دیتے ۔
مسلم پرسنل لا بورڈ کے دہلی دفتر سے مجھ ناچیز کو ان کی کتاب ایودھیا کا تنازعہ، رام جنم بھومی،، فسانہ ہے حقیقت نہیں پر تبصرہ کرنے کا موقع ملاتھا جس کو ماہنامہ آج کل اور دیگر اردو اخبارات میں شائع کرنے کی ذمہ داری دی گئی تھی، اردو اخبارات میں تو شائع ہوا لیکن آج کل کے ایڈیٹر نے کسی وجہ سے شائع کرنے سے انکار کردیا۔
کتاب کا نام ہے ’’ایودھیا کا تنازعہ، رام جنم بھومی ۔ فسانہ ہے ،حقیقت نہیں ‘‘اور اسے سابق اسسٹنٹ جنرل سکریٹری آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ اور صدر کل ہند مجلس تعمیرملت مرحوم محمد عبدالرحیم قریشی صاحبؒ نے تصنیف کیا ہے۔ انہوں نے تاریخی شواہد سے بابری مسجد کے تنازع کو سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے جو بات بھی کہی ہے مدلل انداز میں کہی ہے۔ فاضل مصنف نے اختلافی مسائل کے تمام رموز و نکات کو بڑی شائستگی، اعتدال پسندی اور ناقابل تردید دلیلوں کے ساتھ پیش کیا ہے۔
تقسیم وطن سے پہلے ہندوستانی مسلمانوں نے ملک کی آزادی کی خاطر جان ومال کی بے بہا قربانیاں دیں۔ غلام ہندوستان میں یہ مسلمان ہی تھے جو سب سے زیادہ حاکم قوم کے نشانے پر رہتے تھے ، حاکم قوم نے انہیں ہمیشہ زیر عتاب رکھا۔ اور پھرجب ملک آزاد ہوا تو ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ مسلمانوں کو خاص طور پر جنگ آزادی میں ان کی بے بہا قربانیوں کے پیش نظر استحسان کی نظر سے دیکھا جاتا ، ان کی قربانیوں کا اعتراف کیا جاتا اورایک نئے ہندوستان کی تعمیر میں ان کی حصہ داری جنگ آزادی میں ان کی قربانیوں اور ان کی آبادی کے تناسب سے دی جاتی اور شاید ایساہوتا بھی اگر ملک تقسیم کے سانحہ سے نہ گزرتا۔
تقسیم وطن نے خاص کر مسلمانوں کو بہت زخم دئے ، تقسیم کے فوری بعد اِدھرسے ادھرنقل مکانی کے دوران دیگر بہت سارے لوگوں کے ساتھ، خاص کر مسلمانوں نے جان ومال کا بھاری نقصان اٹھایا اور پھرجب ہندوستان دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر دنیا کے سامنے آیا تو مسلمان حاشیے پر کھڑے تھے۔پھر یہ ہوا کہ ملک دھیرے دھیرے انارکی اور مذہبی جنون کی طرف بڑھنے لگا۔ کہنے کو ملک سیکولر رہا مگر اندرونِ خانہ سیکولرزم پر ملک کی اکثریت کے مذہبی عقائد ، رجحانات اور شدت پسندانہ عزائم کی بالادستی قائم رہی۔نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمان ملک کی اکثریت کی طرف سے ظلم وجور کے خنجر کی نوک پر رکھ لیے گئے۔اور تاحال یہی صورت حال قائم ہے ۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کو قائم ہوئے سال کا طویل عرصہ گزرچکا ہے مگر ملک کی سب سے بڑی اقلیت ہونے کے لحاظ سے مسلمانوں کی مشکلات میں کمی آنے کی امید کی کوئی کرن نظر نہیں آتی۔ملک کی اکثریت کی طرف سے ان پر چوطرفہ یلغار کی جارہی ہے۔ کبھی ان کے خلاف دنگے فساد کرائے جاتے ہیں اور کبھی ان کی مساجد کو شہید کیا جاتا ہے۔بابری مسجد کی شہادت اور گجرات فساد دو ایسے بڑے سانحات ہیں جنہوں نے ملک کی سب سے بڑی اقلیت کے حوالے سے بہت سے شکوک وشبہات کو جنم دیا ہے۔
سردست ہمارے پیش نظر مرحوم کی یہ محققانہ کتاب ہے جو اول الذکر سا نحہ یعنی بابری مسجد کی شہادت سے متعلق ہے۔اور یہ بتاتی ہے کہ یہ سانحہ ان خودرو پودوں کی طرح نہیں تھا جو ذراسی نمی پاکر کہیں بھی اگ آتے ہیں۔ بلکہ یہ برسوں کی منظم پلاننگ اور سازشوں کا نتیجہ تھا۔اور یہ کہ اسے نظر انداز کرنا گویا قوم کے مستقبل کو زہریلی ذہنیت کے حوالے کرنے جیسا ہے۔یہ کوئی اتفاقی سانحہ نہیں تھا کہ اسے یہ سمجھ کرقلم زد کردیا جائے کہ یہ محض اتفاق تھا اور زندگی میں اتفاقات تو ہوتے ہی ہیں۔ انفرادی زندگی میں بھی اور قومی زندگی میں بھی۔
بابری مسجد تنازع کی جڑ رام جنم بھومی ہے۔ متعصب ذہن رکھنے والے ہندووں نے مسجد کی جگہ کو شروع شروع میں رام چندر کی پیدائش کی جگہ قرار دینا شروع کیا، لیکن جب انہیں کوئی ٹھوس دلیل نہیں مل پائی تو وہ متعصبانہ اور پھر بعد میں متشددانہ طریقے اختیارکرنے لگے۔ اس مسئلہ کو فرقہ وارانہ شکل اختیار کرنے سے پہلے بھی سلجھایا جاسکتا تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ عدالت ، حکومت اور دانشور طبقے نے اس مسئلہ کی طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ بابری مسجد کی تاریخ بتاتی ہے کہ شروع شروع میں ہندوحضرات بھی اس مسجد کو مسجد ہی سمجھتے اور کہتے تھے اور رام چندر کی پیدائش کی جگہ مسجد کو قرار نہیں دیتے تھے، بلکہ اس کے نیچے کھدائی کرنے پر بھی کوئی ایسی کوئی علامت یا چیز نہیں ملی جس سے حتمی طورپر ثابت ہوسکتے کہ وہاں ہندووں کا کوئی مقدس مقام یا مندر وغیرہ تھا۔ اس کے باوجود متعصبانہ ذہن کے لوگوں نے اس کو رام چندر کی پیدائش کی بنیادی جگہ قرار دیا۔اور6دسمبر1992ء کو انتہا پسند ہندووں نے بی جے پی اور وشو ہندو پریشد کے اعلیٰ رہنماوں اور نیم فوجی دستوں کے سینکڑوں مسلح جوانوں کی موجودگی میں بابری مسجد کو شہید کر دیا۔شہادت کے فورابعد دہلی اور ممبئی سمیت ہندوستان میں تقریباً دو ہزار مسلمانوں کو ہندو مسلم فسادات میں شہید کیاگیا۔ اس وقت ملک میں قیامت صغریٰ کا سماں تھا۔بابری مسجد کے انہدام سے پہلے ہندو مظاہرے کے منتظمین نے یہ یقین دہانی کروائی تھی کہ مسجد کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔تعجب خیز امر یہ ہے کہ حکومت نے ان یقین دہانیوں پر آسانی سے یقین بھی کرلیا۔اور کارسیوکوں کو کھلی چھوٹ دیدی۔ اس مظاہرے میں ہندوستان بھر سے تقریباً ڈیڑھ سے دو لاکھ لوگوں نے شرکت کی تھی۔
بابری مسجد کا تنازعہ اس وقت بھی مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان شدید نزاع کا باعث ہے اور اس کا مقدمہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے۔ حالانکہ تاریخ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ سے رام چندر کا کبھی بھی کوئی تعلق نہیں رہا، بلکہ معروف اور اصل اجودھیا بھی اس کو کہنا مشکل ہے۔ اصل ایودھیا کس شہر کا نام ہے اور وہ کہاں واقع ہے ؟زیرمطالعہ کتاب کے مصنف نے اس کو واضح کرنے کے لییناقابل تردید تاریخی حقائق جمع کئے ہیں۔فاضل مصنف قانون داں ہیں ،ساتھ ہی ان کو علم وتحقیق سے بھی شغف ہے۔انھوں نے اس کتاب میں دلائل کی روشنی میں ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ: موجودہ ایودھیا،شری رام چندرجی کا ایودھیا نہیں ہے۔بابری مسجدکسی مندرکو منہدم کرکے تعمیرنہیں کی گئی ۔ان کا صاف طور پر کہنا ہے کہ ہنومان گڑھی علاقوں میں 1850 تک ئی مندر تک نہیں تھا۔ جنم استھان اور ہنومان گڑھی علاقوں کے نام ہیں ناکہ مندروں کے اور یہ کہ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ بابر نے ہندووں پر فتح کی نشانی کے طور پر بابری مسجد کی تعمیر کی ۔ایودھیا کا پرانا نام ساکیت تھا ۔
انہوں نے ابوالفضل کی تصنیف آئین اکبری کے حوالے سے لکھا ہے کہ بابر کے ہندوستان فتح کرنے سے 500سال پہلے گیارہویں صدی میں غزنوی کے حملوں کے وقت مسلمان ایودھیا آئے۔ایودھیا میں بڑے بڑے قبرستان ہیں جن میں التمش کے دور کی قبریں ہیں، حضرت شیث ؑ اور حضرت آدم ؑ کی قبریں بھی یہیں بتائی جاتی ہیں جو او ر 7/8 گز لمبی ہیں۔
لیکن ان تمام سچائیوں کو ماننے کے لیے ہندووں کا معتدبہ طبقہ تیارنہیں ہے،جس کی وجہ سے پورے ملک میں فرقہ پرست ذہنیت فروغ پارہی ہے ۔جگہ جگہ فرقہ وارانہ فسادات ہورہے ہیں بلکہ کرائے جارہے ہیں ،جن میں مسلمان ہی مشق ستم بنتے ہیں اورزیادہ تر ان ہی کی جان وجائیداد تباہ وبربادہوتی ہے۔
اس سانحہ کے لیے جہاں ہندو انتہا پسند ذمہ دار ہیں، وہیں کانگریس کی لبرل ازم اور سیکولر ازم کی حامی حکومت بھی پوری طرح ذمہ دار ہے ،خاص طور پر اس لئے بھی کہ اسی کے دورِ حکومت میں یہ سانحہ ظہور پذیر ہوا اور ریاستی انتظامیہ محض تماشائی بنی رہی۔
زیر تبصرہ کتاب 8ابواب پر مشتمل ہے۔ دوسرا باب رام،رامائن اوران کا ایودھیا ہے۔ جس میں فاضل مصنف عبدالرحیم قریشی نے دلائل کے ساتھ رام کے بارے میں لکھا ہے، رامائن کی حقیقت اوراصلیت پرمفصل روشنی ڈالی ہے۔ اور پھر رام کااصل ایودھیا کہاں واقع ہے اور وہ ایودھیا جس کو شرپسندوں ہندووں نے متازع بنادیا ہے، وہ کہاں واقع ہے مدلل اور حوالہ جات کے ساتھ بیان کیا ہے۔ زیرمطالعہ کتاب کے صفحہ 57پر ایک باب ہے ’’رام کا ایودھیا‘‘ جس میں ایودھیا کو راجا دشرتھ کا دارلحکومت بتایاگیا ہے جہاں بن باس کے بعد شری رام لوٹ آئے جہاں ان کی تاج پوشی کی گئی۔یہ ایک سوال ہے کہ وہ ایودھیا جو اس وقت متنازع ہے اورجو یوپی کے ضلع فیض آباد کا ایک ٹاون ہے ،کیا حقیقت میں وہی وہ ایودھیا ہے جس کا تعلق شری رام سے جوڑاجاتا ہے۔؟حالانکہ عام رائے یہی ہے، لیکن ماہرین آثار قدیمہ، مورخین اور دوسرے یہ مانتے ہیں کہ موجودہ ایودھیا ، شری رام کاایودھیا نہیں ہے۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ مرحوم محمد عبدالرحیم قریشی ایک اعلیٰ سطح کے قانون داں اور علم و تحقیق کے میدان کے شہسوار تھے ، لہٰذاانہوں نے اس مسئلہ کی تاریخ پوری احتیاط ، غیرجانبداری اور مع دلائل پیش کرنے کی پوری کوشش کی ہے۔ہندوستان کے اکثر تاریخ داں اس بات پر متفق ہیں کہ نہ تو کسی مستند تاریخی کتا ب اور نہ ہی کسی طرح کے مذہبی مواد ہی سے بابری مسجد کی جگہ کسی رام مندر کی موجودگی کے شواہد مل سکے ہیں اور نہ ہی وہاں کے آرکیالوجیکل سروے ہی سے کسی رام مندر کے ہونے کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔جبکہ سنگھ پریوار کا موقف یہ ہے کہ یہ مسجد رام مندر کو گرا کر بنائی گئی اور یہی جگہ رام جنم بھومی ہے۔ یہاں ایک اور قابل ذکر بات یہ بھی ہے کہ ملک کی مختلف عدالتوں سے اب تک ایسے جتنے بھی فیصلے سنائے گئے ہیں جوبابری مسجد کے خلاف جاتے ہیں، ان سب میں قابل ججز نے زیادہ تر کہاجاتا ہے،سنا جاتاہے، ہندووں کا عقیدہ ہے،جیسے الفاظ کا سہارا لیا ہے اور کسی نے بھی ناقابل تردید ثبوتوں کی بنیاد پر کوئی فیصلہ نہیں دیا۔اور یہ چیز ہندووں کے دعووں کو کمزور کرنے کے لیے بہت کافی ہے۔
مرحوم عبدالرحیم قریشیؒ نے اس کتاب کے ذریعہ برادران وطن کو سچائی سے روشناس کرانے کی کوشش کی ہے۔انھوں نے کہاہے کہ ایودھیا تنازعہ میں سچائی کو قبول کرنے کی ہمت ہونی چاہیے، سچائی کو قبول کیجیے اورسچائی کو آگے بڑھائیے ،کیونکہ سچائی فتح یاب ہوتی ہے۔مجھے امید ہے کہ ان کی یہ کوشش رنگ لائے گی اورایک دن اس سچائی کی فتح ہوگی۔اور اس کتاب کے ذریعہ لوگوں کو اس متنازع مسئلہ کو سمجھنے میں کافی مدد ملے گی۔آغاز کتاب میں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے صدر اوردارالعلوم ندوۃ العلما لکھنو کے ناظم مولانا محمد رابع حسنی ندوی کا مبسوط مقدمہ بھی ہے جوکتاب کی اہمیت کودوچند بناتاہے۔ یہ کتاب جو173صفحات پر مشتمل ہے، سرورق اور طباعت بھی دلکش ہے، مرحوم کی خدمات کے اعتراف میں ایک سنگ میل اور ملت کے بے لوث خادم کے لیے صدقہ جاریہ ثابت ہوگی۔ یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ اس طرح کے اعلیٰ تربیت یافتہ مخلص شخصیتیں نہیں مل سکتی ہیں جنہیں ملت سے عشق ہو ۔اللہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ سے اعلیٰ مقام عطا کرے۔ ملت اسلامیہ کو ان جیسی شخصیت عطا کرے۔
(مضمون نگار روزنامہ انقلاب دہلی میں سینرسب ایڈیٹر )