سی بی ایس ای 12ویں جماعت کے امتحانات منسوخ کیے جائیں: پرینکا گاندھی

3

پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کیا کہ ’’سی بی ایس ای کی 12ویں جماعت میں تعلیم حاصل کر رہے طلبا نے کورونا کی وبا کی دوسری لہر کے تئیں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کی صحت اور سلامتی معنی رکھتی ہے۔‘‘

نئی دہلی: کانگریس کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے اتوار کے روز دوہرایا کہ سی بی ایس ای کے 12 ویں جماعت کے امتحانات منسوخ کیے جانے چاہئیں۔ انہوں نے اس معاملہ پر مہینے سے فیصلہ کو لٹکائے رکھنے پر حکومت پر تنقید بھی کی۔ پرینکا نے کہا کہ کورونا کی دوسری لہر سے معلوم ہوا ہے کہ اس کی نئی قسم بچوں کے لئے سب سے زیادہ مہلک ثابت ہوسکتی ہے۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ بچے گھنٹوں تک تمام طرح کے حفاظتی آلات پہن کر امتحانات میں بیٹھنے کے دباؤ میں پہلے ہی سے ہیں اور انہیں ایک ایک دن لٹکانا غیر حساس اور نامناسب ہے۔ پرینکا گاندھی کا یہ تبصرہ ایسے وقت میں آیا ہے جبکہ وزارت تعلیم نے 12ویں جماعت کے زیر التوا بورڈ امتحانات اور اس کے بعد مقابلہ کے داخلہ امتحانات پر فیصلہ لینے کے لئے اتوار کے روز ایک اہم اجلاس طلب کیا ہے۔ یہ امتحانات کورونا کی دوسری لہر کے پیش نظر منسوخ کر دیئے گئے تھے۔
پرینکا گاندھی نے ٹوئٹ کیا کہ ’’سی بی ایس ای کی 12ویں جماعت میں تعلیم حاصل کر رہے طلبا نے کورونا کی وبا کی دوسری لہر کے تئیں خدشات کا اظہار کیا ہے۔ ان کی صحت اور سلامتی معنی رکھتی ہے۔‘‘ انہوں نے سوال کیا ’’آخر ہم سبق حاصل کیوں نہیں کر رہے؟‘‘
اپنے سلسلہ وار ٹوئٹز میں پرینکا نے کہا کہ بند کمروں میں جمع ہونے سے کورونا کا پھیلاؤ ہوگا اور اس لہر نے دکھایا ہے کہ وائرس کی نئی قسم کے لحاظ سے بچے سب سے کمزور زمرے میں آتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’’بچے گھنٹوں تک تمام طرح کے آلات پہن کر امتحانات میں بیٹھنے کے بھاری دباؤ میں ہیں، ایسے میں ایک ایک دن انہیں لٹکا کر رکھنا غیر حساس اور نامناسب ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ان میں سے کئی بچے ایسے ہو سکتے ہیں جن کے کنبہ کے افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوں اور وہ پہلے ہی تناؤ سے گزر رہے ہوں۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ ’’میں امتحانات کرانے کے پیچھے کی وجہ سمجھ پانے سے قاصر ہوں، نہ ہی مہینے تک اس فیصلے کو لٹکا کر رکھنے کے پیچھے کی وجہ سمجھ میں آ رہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’میں نے پہلے ہی کہا ہے اور دوبارہ کہہ رہی ہوں۔ بچوں کی جسمانی صحت کے ساتھ ہی ان کی نفسیاتی صحت بھی اہم ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمارا نظام تعلیم بچوں کی سلامتی کے تئیں حساسیت کا مظاہرہ کرے اور ان مسائل کو سنجیدگی سے لینا شروع کرے۔