پاپولر فرنٹ کے جنرل سکریٹری نے نئے شہریت اعلان کو چیلنج کرتے ہوئے پی آئی ایل داخل کی

پاپولر فرنٹ کے جنرل سکریٹری نے نئے شہریت اعلان کو چیلنج کرتے ہوئے پی آئی ایل داخل کی

نئی دہلی: پاپولر فرنٹ آف انڈیا کے جنرل سکریٹری انیس احمد نے وزارت داخلہ (ایم ایچ اے) کی جانب سے جاری کردہ اُس متنازعہ اعلان کی آئینی درستگی کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں مفاد عامہ کی عرضی داخل کی ہے، جس میں پڑوسی ممالک سے آئے غیرمسلم پناہ گزینوں سے شہریت کے لئے درخواستیں طلب کی گئی ہیں۔
ابھی شہریت ترمیمی قانون، 2019کے قواعد بھی وضع نہیں ہوئے ہیں، اور وزارت داخلہ کے 28 مئی کے ایک گزٹ نوٹیفکیشن میں افغانستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے آئے ہندو، سکھ، جین، عیسائی اور بدھشٹ مہاجروں سے شہریت کی درخواستیں طلب کی جانے لگی ہیں جو فی الوقت گجرات، راجستھان، چھتیس گڑھ، ہریانہ اور پنجاب کے 13 اضلاع میں رہائش پذیر ہیں۔ پاپولر فرنٹ آف انڈیا نے یہ الزام عائد کیا ہے کہ ایم ایچ اے کا نوٹیفکیشن چور دروازے سے سی اے اے نافذ کرنے کی ایک کوشش ہے۔
انیس احمد کے ذریعہ سپریم کورٹ میں دائر کردہ پی آئی ایل میں یہ درخواست کی گئی ہے کہ اس نوٹیفکیشن کو غیرآئینی، تفریقی اور آئین ہند کی دفعہ 14 کے حساب سے غیرقانونی قرار دیا جائے، کیونکہ یہ شہریت قانون، 1955کی دفعہ 5 اور 6 کے تحت رجسٹریشن کراکے شہریت حاصل کرنے سے مسلمانوں کو روکتا ہے۔ پی آئی ایل میں متنازعہ گزٹ نوٹیفکیشن کی درستگی کا جائزہ لینے کی بھی درخواست کی گئی ہے، کیونکہ اسے شہریت قانون، 1955کی دفعہ 5 اور6 کے خلاف جاری کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی عرضی میں مرکزی حکومت کو شہریت قانون، 1955کی دفعہ 16کے بہانے’اقتدار کے پرفریب استعمال‘ سے روکنے کی بھی درخواست کی گئی ہے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *