رافیل سودا معاملہ میں اہم پیش رفت، عدالتی تحقیقات کے لئے جج کی تقرری، کئی اہم شخصیات شک کے دائرے میں

رافیل سودا معاملہ میں اہم پیش رفت، عدالتی تحقیقات کے لئے جج کی تقرری، کئی اہم شخصیات شک کے دائرے میں

فرانسیسی این جی او شیرپا نے اس معاملے میں شکایت درج کرائی تھی اور ’میڈیاپارٹ‘ نے اس پر کئی رپورٹس شائع کی تھیں، اس معاملہ میں 2018 میں بھی شکایت درج ہوئی تھی لیکن پی این ایف نے اسے مسترد کر دیا تھا
نئی دہلی: فرانس میں رافیل سودے کی تحقیقات کے لئے ایک جج کی تقرری کی گئی ہے۔ فرانس کی پبلک پراسیکیوشن سروسز کی فنانشل کرائم برانچ (پی این ایف) نے کہا ہے کہ اس سودے کے حوالہ سے بدعنوانی اور جانبداری کے الزامات کی تحقیقات کرائی جائے گی۔
فرانسیسی غیر سرکاری تنظیم شیرپا کی جانب سے اس معاملے کے سلسلے میں شکایت درج کرنے کے بعد یہ قدم اٹھایا گیا ہے اور فرانسیسی میڈیا ادارے ’میڈیاپارٹ‘ نے اس معاملے پر متعدد رپورٹیں شائع کی تھیں۔ سال 2018 میں بھی شیرپا نے شکایت درج کروائی تھی لیکن اس وقت پی این ایف نے اسے مسترد کر دیا تھا۔ واضح رہے کہ رافیل لڑاکا طیارے کے لئے سودے کی مالیت 7.8 بلین یورو تھی۔
جمعہ کے روز فرانسیسی ادارے میڈیاپارٹ نے اطلاع دی کہ اس معاملے کی مجرمانہ تحقیقات ایک مجسٹریٹ کی جانب سے 14 جون کو شروع کی گئی تھی۔ اس تحقیقات میں سابق فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند جو رافیل سودے پر دستخط ہونے کے وقت عہدے پر فائز تھے اور موجودہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، جو اس وقت وزیر خزانہ تھے، ان کے کام کاج پر بھی سوال اٹھائے جائیں گے۔ اس وقت کے وزیر دفاع اور اب فرانسیسی وزیر خارجہ زین یویس لی ڈریان سے بھی اس سے متعلقہ چیزوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا سکتی ہے۔
تاحال دسالٹ ایوی ایشن کی جانب سے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔ اس سے قبل کمپنی نے اس سے انکار کیا تھا کہ ہندوستان – فرانسیسی سودے میں کسی طرح کی دھاندلی ہوئی ہے۔کمپنی نے کہا ہے کہ سرکاری تنظیموں کے ذریعہ بہت سے کنٹرول استعمال کیے جاتے ہیں۔ 36 رافیل سے متعلق ہندوستان کے ساتھ سودے میں کوئی دھاندلی نہیں ہوئی تھی۔
اصل معاہدہ میں ہندوستان ایروناٹکس لمیٹڈ (ایچ اے ایل) شامل تھی لیکن بعد میں دونوں فریقوں کے مابین بات چیت کا سلسلہ ختم ہو گیا۔ بعدازاں دونوں ممالک کے درمیان سن 2016 میں ایک معاہدہ کیا گیا تھا جس کے تحت 36 رافیل طیاروں کی قیمت 7.8 بلین یورو طے کی گئی۔ انل امبانی کی ایک ناتجربہ کار کمپنی کو سودے میں شامل کئے جانے پر بھی سوال اٹھائے گئے تھے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *