مسلمانوں کے بارے میں پھیلایا جاتا ہے جھوٹ

375

آبادی میں مسلمانوں کی حصہ داری اور مہاجرین کی تعداد کے بارے میں اصل تصویر کچھ اور ہے

سوامی ناتھن ایس انکلیسریا ائیر

حالیہ برسوں میں فرقہ وارانہ کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور اس میں دو ایشوز پر بی جے پی کے زور دینے کا بڑا ہاتھ رہا۔ ایک ایشو ہے مسلمانوں کے زیادہ بچے ہونے کے الزام کا۔ اس میں کہا جاتا ہے کہ ابھی تو ہندو اکثریت میں ہیں، لیکن مسلمانوں کی آبادی بڑھتی رہی تو ہندوؤں کا یہ درجہ خطرے میں آجائے گا۔ دوسرا ایشو ہے بنگلہ دیش سے آنے والے مسلمانوں کا۔ ان دونوں ایشوز کو حال میں بڑا جھٹکا لگا۔ ہندوستان کے ہی اعدادوشمار کے اینالسس نے ان الزامات کی زمین ہلادی۔ یہ اینالسس کیا امریکہ کے پیوریسرچ سینٹر نے۔
اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ آزادی کے بعد سے ہر مردم شماری میں آبادی میں مسلمانوں کا حصہ بڑھا ہے۔ 1951میں مسلمان تقریباً 10فیصد تھے اور 2011 میں 14.25فیصد ہوگئے۔ وہیں، ہندوؤں کا حصہ اسی دوران تقریباً 84فیصد سے کم ہوکر 80فیصد پر آگیا۔ 6دہائیوں کے دوران آبادی میں مسلمانوں کا حصہ تقریباً ساڑھے چار فیصد بڑھا۔ ایسا اچانک نہیں ہوا۔ یہ اضافہ آہستہ آہستہ ہوا۔ لیکن اگر یہی ٹرینڈ قائم رہا تو اس صدی کے آخر تک آبادی میں مسلمانوں کا حصہ 20فیصد سے زیادہ نہیں ہوگا بلکہ اضافہ کم ہی رہے گا کیوں کہ مسلمانوں اور ہندوؤں کے بچے ہونے کی شرح میں جو فرق ہے، وہ تیزی سے کم ہورہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ دونوں کی شرح جلد ایک جیسی ہوجائے۔
1992 سے 2015تک کے لیے جو نیشنل فیملی ہیلتھ سروے کیا گیا، وہ فرٹی لٹی سے جڑے اعداد و شمار کا سب سے بھروسہ مند ذریعہ ہے۔ اس دوران مسلمانوں میں فرٹی لٹی ریٹ 4.4سے کم ہوکر 2.6پر آگیا۔ فرٹی لٹی ریٹ کا مطلب یہ ہے کہ ایک خاتون اوسطاً کتنے بچوں کو جنم دے رہی ہے۔ ہندوؤں کے معاملہ میں فرٹی لٹی ریٹ 3.3سے کم ہوکر 2.1پر آگیا، لیکن اس کے کم ہونے کی رفتار مسلمانوں کے مقابلہ کم رہی۔ اس سے واضح ہے کہ مسلمانوں نے فیملی پلاننگ کو بھلے ہی دیر سے اپنایا ہو، لیکن اب اس پر عمل کرنے میں وہ ہندوؤں سے آگے ہیں۔
ایک وقت تھا، جب ایسے کنبوں میں پیدا ہونے والے بچوں میں سے آدھے بچپن میں ہی مرجاتے تھے۔ ایسے میں والدین اس لیے بھی زیادہ بچے ہونے پر زور دیتے تھے کہ جو بچیں گے، ان کے بڑھاپے کا سہارا بنیں گے۔ لیکن آمدنی میں اضافہ کے ساتھ والدین کو یہ سمجھ میں آنے لگتا ہے کہ جو کچھ ان کے پاس ہے، اسے وہ کچھ بچوں کو بہتر بنانے میں لگائیں تاکہ ان کی زندگی اچھی رہے۔ اسی وجہ سے آمدنی میں اضافہ کے ساتھ فرٹی لٹی ریٹ میں کمی دیکھی جاتی ہے۔ پوری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔ ہندوستان میں ہندوؤں اور مسلمانوں کے فرٹی لٹی ریٹ میں نظر آرہی کمی کوئی نئی بات نہیں ہے۔ مسلمانوں کی مالی حالت چوں کہ کمزور ہے، لہٰذا 2.1کے فرٹی لٹی ریٹ تک پہنچنے میں انہیں زیادہ وقت لگے گا۔ فرٹی لٹی ریٹ 2.1ہونے کا مطلب یہ ہے کہ ہر خاتون کے اوسطاً دو بچے ہی ہوں گے۔ اس طرح وہ آبادی میں آگے چل کر اپنے والدین کی جگہ لیں گے اور آبادی میں کوئی اضافہ نہیں ہوگا۔
ہندوستان میں مسلمانوں کے مقابلہ ہندوؤں کی آبادی میں اضافہ کی رفتار کم ہونے کی کچھ تاریخی وجوہات بھی ہیں۔ سب سے اہم سبب یہ ہے کہ ہندوروایت میں بیوہ کی شادی منع تھی۔ وہیں مسلموں میں جلد دوبارہ شادی کرنے کو ترجیح دی جاتی تھی۔ پہلے کی دہائیوں میں مردوں کی شرح اموات آج کے مقابلہ زیادہ تھی۔ بچپن کی شادی بھی عام تھی اور اگر دُلہا نوعمری سے قبل ہی مرگیا تو لڑکی ’بال وِدھوا‘ ہوجاتی۔ ایسی صورت میں اس کے بچے پیدا ہونے کا سوال ہی نہیں تھا۔ کام کاج کے لیے گھر چھوڑ کر پردیس جانے کا بھی آبادی سے تعلق رہا۔ مسلمانوں کے مقابلہ ہندوؤں میں ایسے لوگوں کی تعداد زیادہ ہوا کرتی تھی جو پردیس جاتے تھے۔ بیوی سے دور رہنے کا مطلب تھا کہ بچے کم ہی ہوں گے۔

” مسلمانوں کی بات کریں تو ہندوستان آنے والوں سے کہیں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے، جو یہاں سے غیرممالک گئے۔ ہندوستان کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ تقریباً 14 فیصد ہے، لیکن ہندوستان سے باہر جانے والوں میں ان کا حصہ 27 فیصد ہے۔ وہیں کل آبادی میں ہندو ہیں 79 فیصد، لیکن غیرممالک جانے والوں میں ان کا حصہ محض45 فیصد ہے۔۔۔۔ مسلمانوں کی تعداد اور باہر سے آنے والوں کے بارے میں بی جے پی چاہے جتنا شور مچائے، اس کے الزامات میں کوئی دم نہیں ہے۔“

پیوسینٹر نے درج کیا ہے کہ 1992میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے درمیان فرٹی لٹی گیپ 1.1 بچوں کا تھا۔ یعنی مسلم خاتون ہندو عورت کے مقابلہ اوسطاً ایک بچہ زیادہ پیدا کررہی تھی۔ 2015آتے آتے یہ فرق کم ہوکر0.5بچوں پر آگیا۔ اگر یہی ٹرینڈ قائم رہا تو بمشکل 20برس میں یہ فرق بھی ختم ہوجائے گا۔ یعنی کل ملاکر بات یہ ہے کہ چاہے جو کہا جارہا ہو، ہندوستان میں ہندوؤں کی بڑی تعداد کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔
آبادی میں تمام فرقوں کی حصہ داری میں جو تبدیلی آرہی ہے، اس کا ایک اور سبب مائیگریشن ہے۔ ہندوستان سے باہر جانے والوں کی تعداد غیرممالک سے یہاں آنے والوں کے مقابلہ تین گنا ہے۔ ہندوستان میں پیدا ہوئے تقریباً ڈیڑھ کروڑ لوگ 2015میں غیرممالک میں رہ رہے تھے۔ وہیں غیرممالک میں پیدا ہوئے، لیکن ہندوستان میں رہ رہے لوگوں کی تعداد تھی صرف56لاکھ۔ ان میں سے سب سے زیادہ 32لاکھ لوگ آئے تھے بنگلہ دیش سے۔ پاکستان سے 11لاکھ، نیپال سے پانچ لاکھ 40ہزار اور سری لنکا سے ایک لاکھ 60ہزار لوگ آئے۔ ان میں تمام ہندو ہیں۔
مسلمانوں کی بات کریں تو ہندوستان آنے والوں سے کہیں زیادہ تعداد ان لوگوں کی ہے، جو یہاں سے غیرممالک گئے۔ ہندوستان کی آبادی میں مسلمانوں کا حصہ تقریباً 14فیصد ہے، لیکن ہندوستان سے باہر جانے والوں میں ان کا حصہ 27فیصد ہے۔ وہیں کل آبادی میں ہندو ہیں 79 فیصد، لیکن غیرممالک جانے والوں میں ان کا حصہ محض45فیصد ہے۔یہ ساری معلومات جو میں نے آپ کے سامنے رکھی، اس سے کیسی تصویر بن رہی ہے؟ مسلمانوں کی تعداد اور باہر سے آنے والوں کے بارے میں بی جے پی چاہے جتنا شور مچائے، اس کے الزامات میں کوئی دم نہیں ہے۔ فضول کا خطرہ دِکھا کر ہندوؤں کو ڈرانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ ان کے ووٹ مل سکیں۔
(بشکریہ: نوبھارت ٹائمس – راشٹریہ سہارا اردو )

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ۔ اپنے علاقے کی خبریں ، گراﺅنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ،تعلیمی اورادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com