تعلیم بالغاں کی اہمیت و افادیت

علیزےنجف

انسانی شعور اور معاشرے کی تعمیر و تشکیل میں تعلیم کا ہمیشہ سے ہی کلیدی کردار رہا ہے اس کے ذریعے ہی یہ دنیا اس قدر جدید یافتہ ہو سکی ہے، علم سے ہی فطرت کے قانون کو دریافت کرتے ہوئے آسائشوں کی ایجادات کو یقینی بنایا گیا ہے، تعلیم صرف وہی نہیں ہوتی جو کہ باقاعدہ کسی ادارے یا تعلیمی مرکز سے حاصل کی جائے، بلکہ ہر اس کوشش کو تعلیم کے زمرے میں شامل کیا جا سکتا ہے جس سے انسان کے علم اور شعور میں اضافہ ہوتا ہے، اس کے لئے عمر اور جگہ کی کوئی قید نہیں لیکن بدقسمتی سے ہمارے یہاں ایسے نظریات تشکیل پا چکے ہیں جو کہ تعلیم کو ایک خاص عمر اور جگہ سے مربوط کرتے ہیں اس کی وجہ سے اطمینان بخش طرز پہ شعور کی افزائش نہیں ہو پاتی اور لوگ مسلسل سیکھتے رہنے کی اہمیت سے غافل ہوتے ہیں، تعلیم ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے، بقول لیونارڈو ڈاونچی کے سیکھنا دماغ کو کبھی نہیں تھکاتا اس سیکھنے کے عمل کو روکنا ذہنی صلاحیتوں کو مسخ و مجروح کرنے کے مترادف ہے، ہمارے معاشرے میں پائی جانے والی بےشعوری کی وجہ ہی یہی ہے کہ ہم نے علم کے دائرے کو بہت محدود کر دیا ہے اور ساتھ ساتھ ایسے علم کے اسیر ہو گئے ہیں جو کہ اسناد و دستاویزات پہ مشتمل ہوتی ہے، جس کا مقصد ہائی پروفائل جاب ہے ڈاکٹر و انجینئر ، فلاسفر کا لاحقہ اپنے نام کے آگے لگا کر لوگوں کی نظروں میں خود کو تعلیم یافتہ ثابت کرنا ہے جب کہ اس انسان کے رویے علم کی لذت سے محروم ہی رہ جاتے ہیں۔ تعلیم کا اصل مقصد شخصیت سازی و ذہن سازی ہے اس کے ذریعے ماحول سازی کی راہ ہموار کرنا ہے ایسا کردار محض کتابوں تک محدود رہ کر پیدا نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لئے انفارمل طریقۂ تعلیم بھی ضروری ہوتا ہے علم بحر بے کراں کی طرح ہے جس کی کوئی حد نہیں۔

 ادارے بےشک ایک بڑی نعمت ہیں اس کے ذریعے بہترین اساتذہ اور نصاب کے ذریعہ مطلوبہ علم ہمیں بآسانی مل جاتا ہے لیکن ان آسانیوں کا اسیر ہونے سے انسانی نفسیات اور اس میں موجود پوٹینشیل مجروح ہونا شروع ہو جاتے ہیں کیوں کہ انسانی ذہن کو مطلوب علم کی تشنگی کی تسکین محض تعلیمی اداروں سے ممکن نہیں بلکہ یہ مشاہدے و مطالعے کے ذریعے ہمہ وقت جاری رہنے والا عمل ہے اسی لئے گود سے گور تک علم حاصل کرنے کی تلقین کی گئی ہے، ہمارے یہاں تو بچوں کا اسکول جانا ایک معمول کا حصہ ہے اس کی اہمیت و افادیت سے بھی ہر کوئی واقف ہے، لیکن ابھی اعلی تعلیم کے حوالے سے مطلوبہ بیداری مفقود ہے ڈراپ آؤٹ ہونے والے طلبہ کی ایک بڑی تعداد اس کا ثبوت ہے جسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

اس وقت میرا موضوع گفتگو بچوں کی روایتی تعلیم نہیں بلکہ تعلیم بالغاں ہے یعنی ایک ایسا تدریسی طریقہ کار، جس کے تحت ان بالغ افراد کو بنیادی تعلیم دی جاتی ہے جس سے وہ پڑھنے اور لکھنے کے قابل ہو سکیں۔ تعلیم کے حصول کو عمر کی حد میں مقید کرنا اپنے اندر کئی منفی نتائج رکھتا ہے اس کا سب سے پہلا نقصان یہ ہوتا ہے کہ انسانی شعور کے ارتقاء کا عمل رک جاتا ہے ہو سکتا ہے کوئی شروع کے دنوں میں کسی بھی وجہ سے پرائمری اور سیکنڈری تک ہی تعلیم حاصل کر سکا ہو اب اسے محسوس ہو رہا کہ اسے مزید پڑھنا چاہئے تو ایسے لوگوں کے لئے تعلیمی اداروں میں معاون ماحول کا ہونا ضروری ہے، ان کا ذکر تعلیم بالغاں کے تحت ہی کیا جاتا ہے، دوسرے تعلیم کو ایک خاص مدت میں محدود کرنے کی وجہ سے ایسی ذہنیت فروغ پا رہی ہے جن کے نزدیک تعلیم کا حصول محض اداروں سے ہی ممکن ہے اس سے فراغت کے بعد کچھ نیا سیکھنے و جاننے کی ضرورت نہیں اس کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں شعور و تربیت کا خلا بڑھتا جا رہا ہے، تعلیم ایک مسلسل جاری رہنے والا عمل ہے تو اداروں سے فراغت کے بعد اس کو موقوف کیسے کیا جا سکتا ہے۔ بہرحال اس وقت بات بالغ افراد کی تعلیم کے حوالے سے ہو رہی تھی تعلیم وقت کی پابند کوئی سرگرمی نہیں ہے۔ اس کا دائرہ بہت وسیع ہے جو ایک فرد کی پوری زندگی پہ محیط ہوتا ہے۔ جیسا کہ کہاوت ہے، ہم ہر روز کچھ نیا سیکھتے ہیں۔ بالغوں کی تعلیم پورے معاشرے اور ملک کی شرح خواندگی کو بہتر بنانے میں ایک اہم کردار ادا کر سکتی ہے، تعلیم بالغاں کا سب سے مثبت پہلو یہ ہوتا ہے کہ اس میں سیکھنے کا عمل شعوری سطح پہ ہوتا ہے اس وجہ سے اس کا عملی زندگی میں ڈھلنا بھی کافی آسان ہوتا ہے جن اقدام کی اہمیت بچے اپنی ناسمجھی کی وجہ سے بروقت نہیں سمجھ پاتے بالغ افراد اس کا خیال رکھنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ تعلیم بالغاں کے فروغ سے بچوں پہ بھی مثبت اور تعمیری اثر پڑتا ہے وہ ان سے سبق سیکھتے ہیں اور اپنے طالب علمی کے دور سے لطف اندوز ہوتے ہوئے آگے بڑھتے ہیں، علم کی اہمیت سے واقف ہو جاتے ہیں۔ اس طرح نہ صرف شرح خواندگی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ ہر انسان کسی بھی موڑ پہ اپنی تشنگی کی تسکین کر سکتا ہے ۔

1926 میں امریکن لائبریری ایسوسی ایشن کا اسٹڈی آف لائبریریز اینڈ ایڈلٹ ایجوکیشن شائع ہوا۔ ایسوسی ایشن نے رپورٹ کے ساتھ لائبریری اور بالغ تعلیم پر بورڈ قائم کیا۔ بالغوں کے لیے جاری تعلیم کے ادارے کے طور پر لائبریری کا تصور امریکی معاشرے میں مضبوطی سے قائم ہے، لائبریری جو کہ علم کا مستند اور جامع مرکز ہے اس کے ذریعے تعلیم بالغاں کو فروغ دینے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔

کتب خانوں اور بالغوں کی تعلیم کے اپنے تاریخی جائزہ میں، مارگریٹ ای منرو نے بیسویں صدی کے پہلے نصف کے دوران لائبریریوں کی طرف سے بالغوں کو فراہم کی جانے والی لائبریری خدمات کی مختلف اقسام کی نشاندہی کی۔ جس میں تعلیم بالغاں کے پہلو شامل تھے۔ بہت سی لائبریریوں میں خواندگی کا مرکز ہوتا ہے، یا تو ان کی کمیونٹی میں یا عمارت میں۔ دوسرے بالغوں کو گھر میں ٹیوشن کرنے کے لیے کم از کم جگہ پیش کرتے ہیں۔ ہندوستان میں تعلیم بالغاں کا آغاز 1956 سے مانا جاتا ہے۔ نیشنل سینٹر فار ایلیمنٹری ایجوکیشن (این ایف ای سی) کے تعاون سے اس وقت کی حکومت نے ہندوستان میں یہ مہم شروع کی تھی۔ 2011 کی مردم شماری کے مطابق، ملک میں 15 سال اور اس سے زیادہ کی عمر کے زمرے میں غیر خواندہ افراد کی کل تعداد 25.76 کروڑ (مرد 9.08 کروڑ، خواتین 16.68 کروڑ) ہے۔ 10-2009 سے 18-2017 کے دوران ساکشر بھارت پروگرام کے تحت تعلیم یافتہ کے طو رپر تصدیق شدہ افراد کی 7.64 کروڑ کی پیش رفت کو ذہن میں رکھتے ہوئے ، یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ اس وقت بھارت میں تقریباً 18.12 کروڑ بالغ افراد اب بھی غیر خواندہ ہیں۔ حکومت نے قومی تعلیمی پالیسی 2020 اور 22-2021 کے بجٹ کے اعلانات کے مطابق تعلیم بالغاں کے تمام پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے لیے مالی سال 2027-2022 کی مدت کے لیے “نیو انڈیا  خواندگی پروگرام (نوبھارت ساکشرتا پروگرام)” کو منظوری دی۔ قومی تعلیمی پالیسی 2020 میں تعلیم بالغاں اور تا عمر سیکھنے کی  سفارشات شامل ہیں۔ مرکزی بجٹ 22-2021 میں وسائل، آن لائن ماڈیولز تک رسائی بڑھانے کا اعلان کیا گیا تھا، تاکہ تعلیم بالغاں  کی اہمیت کے پیش نظر جامع انداز میں پورا کیا جا سکے۔ حکومت اپنے طور پہ تعلیم بالغاں کو فروغ دینے کی کوشش کر رہی ہے لیکن یہ کوششیں مؤثر تبھی ہو سکتی ہیں جب عوام بھی اس کے لئے سنجیدہ ہوں اور علم کو لگن اور جدوجہد کے ساتھ حاصل کریں۔

تعلیم بالغاں کے دو پہلو ہیں، ایک پہلو وہ ہے جس میں سامنے والا یہ محسوس کرتا ہے کہ جب تک وہ مزید تعلیم حاصل نہیں کرے گا اس وقت تک اسے مطلوبہ نوکری اور لائف اسٹیٹس نہیں مل سکتا جو وہ چاہتا ہے ایسے میں وہ پھر سے اس سلسلے کو جاری کرتا ہے مزید تعلیم حاصل کر کے اپنے مطلوبہ منصب پہ پہنچنے کی سعی کرتا ہے، دوسرا پہلو وہ ہے جس کے ذریعے سامنے والا یا تو بنیادی تعلیم سے ہی محروم ہوتا ہے یا اسے مزید سیکھنے اور جاننے کی خواہش ہوتی ہے اس لئے وہ اس سلسلے کو پھر سے بحال کرتا ہے، دونوں ہی صورت میں معاشرے کی شرح خواندگی میں اضافہ ہوتا ہے، لوگوں کی شعوری تربیت کی راہ ہموار ہوتی ہے اس لئے ضروری ہے کہ تعلیم بالغاں کے نظریے کو وسیع پیمانے پہ فروغ دیا جائے۔

اس وقت ہم میں سے بیشتر لوگ بنیادی تعلیم سے آراستہ ہیں لیکن اعلی تعلیم سے بہت دور ہیں ان پہ بھی تعلیم بالغاں کا اصول نافذ ہوتا ہے، زندگی کے کسی بھی موڑ پہ اگر آپ کو اپنی لاعلمی کا احساس ہوتا ہے تو اس احساس کو افسوس اور پچھتاوے میں ہی مت ڈوبا رہنے دیں بلکہ آج کی جدید یافتہ ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اس کی تلافی کرنے کی کوشش کریں، اس کے لئے اداروں میں حاضری لگانا بھی اب ضروری نہیں رہا ڈجیٹل گیجٹ کے ذریعے کہیں بھی رہتے ہوئے بھی یہ تعمیری کوشش سر انجام دی جا سکتی ہے، آج کی ترقی یافتہ دور میں ہر ہنر اپنی اہمیت حاصل کر چکا ہے، کوئی بھی ہنر سیکھ کر اسے اپنی زندگی میں بطور مقصد شامل کیا جا سکتا ہے۔ اعلی تعلیم کے حصول کی راہ میں لڑکیوں کو زیادہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے بعض اوقات وسائل اور آسانی کے ہوتے ہوئے محض شادی ہوجانے اور سسرالی زندگی کی مصروفیات کی وجہ سے بھی یہ سلسلہ رک جاتا ہے پھر وہ یہ خیال کر بیٹھتی ہیں کہ اتنے سال گذر گئے اب بھلا کیا پڑھ سکتی ہیں یہ خیال محض ایک ذہنی رکاوٹ ہے اسے سر کرنے کی ضرورت ہے، جب بھی اپنی زندگی کی مصروفیات سے فراغت محسوس کریں یا لگے کہ اب اس سلسلے کو پھر سے شروع کیا جا سکتا ہے تو بنا مزید وقت گنوائے یہ کام کر جانا چاہئے، کیوں کہ علم حاصل کرنے کی کوئی مخصوص عمر نہیں ہوتی اگر یہ کہیں بھی رک سکتی ہے تو کہیں سے بھی شروع کی جا سکتی ہے بےشک اس کے لئے آپ کو دوہری جدوجہد کرنی پڑ سکتی ہے لیکن یہ جدوجہد کرنا قطعی ناممکن نہیں۔ بچوں کے نام پہ اپنے خواب قربان کرنا ہی آخری آپشن نہیں آپ اپنے بچوں کی تربیت کرتے ہوئے بھی اپنی زندگی جی سکتی ہیں اور اپنے خواب پورے کر سکتی ہیں آپ کی ذات کا بھی آپ کے اوپر حق ہے جس کی عدم ادائیگی آپ کو اندر سے ناآسودہ بنائے رکھتی ہے۔ تعلیم بالغاں کی اہمیت کو اجاگر کرنے کے لئے حکومت نے اس کا نام بدل کر سبھی کے لئے تعلیم کر دیا ہے تاکہ ہر کوئی تعلیم کے حصول کے تئیں خود کو حساس اور ذمےدار بنائے۔

SHARE
ملت ٹائمز میں خوش آمدید ! اپنے علاقے کی خبریں ، گراؤنڈ رپورٹس اور سیاسی ، سماجی ، تعلیمی اور ادبی موضوعات پر اپنی تحریر آپ براہ راست ہمیں میل کرسکتے ہیں ۔ millattimesurdu@gmail.com