اے میرے بھارت کی سرزمین………

 

محمد عمران
ملت ٹائمز
اس روئے زمین پر میرے بھارت کی سرزمین کی ایک نمایاں شناخت رہی ہے۔یہ سرزمین امن وآشتی کے ماحول کی وجہ سے پہچانی جاتی ہے۔یہاں محبت واخوت اور بھائی چارہ کاپیغام سنایا اور اپنایاجاتا ہے،یہاں مہمان کے ساتھ ادب واحترام سے پیش آنے کی روایت رہی ہے جو یہاں بس جاتا ہے وہ یہیں کا ہوکر رہ جاتا ہے۔یہاں مذاہب کے ماننے کی آزادی ہے ،یہاں زبانوں کو مقید نہیں کیا جاتا ہے، غلامی کے دن رہے ہوں یا آزادی کی کھلی فضا ،یہاں ہمیشہ انسانیت غالب رہتی ہے ۔یہ رام ،نانک،کبیر اور چشتی کی سرزمین ہے۔گاندھی ،آزاد اور ٹیگور جیسی عظیم المرتبت شخصیات نے اس کو سینچا ہے۔یہاں مارکس اور لینن کے نظریات کوبھی اتنی ہی اہمیت دی گئی ہے جتنی کسی مذہبی رہنما وپیشوا کو۔یہاں تفریق کو نہیں بلکہ اتحاد باہمی کو اہمیت دی گئی ہے۔یہاں انصاف کا بول بالا رہا ہے،یہاں انصاف جہانگیری کی ریت رہی ہے۔آج بھی یہاں کے نظام عدل پر سب کا یقین ہے۔یہاں کے جمہوری نظام حکومت میں ہرفرد کی حصہ داری ہے۔اور ہرایک کو اپنے خیالات ظاہر کرنے کی آزادی ہے۔یہ ہے میرے بھارت کی سرزمین۔
لیکن حالیہ دنوں میں ملک کی ممتاز اور مایہ ناز یونیورسٹی جے این یو میں سرزد ہوئے مبینہ واقعہ کے بعد ملک کی فضا جس قدر مکدر ہوئی ہے اور جوعجیب وغریب صورت حال سامنے آئی ہے اس نے ہرذی شعور افراد کے ساتھ اس شہری کو بھی متحیر اور پریشان کردیا ہے جو آج تک کسی وجہ جے این یو کی تعلیمی حیثیت سے واقف نہیں ہوسکا تھا۔آج صرف جے این یو کے طلباء یونین کے صدر کنہیا کمار کی گرفتاری اور ان پر ملک مخالف نعرہ لگانے کا الزام ہی اہم مدعا نہیں ہے بلکہ اہم سوال تو یہ ہے کہ کیا کنہیا کمار کو آلہ کار بناکر اظہار رائے کی آزادی جو ہر شہری کا حق ہے اسی پر پہرہ بٹھا دیے جانے کی تیاریوں میں آخری کیل ٹھونکنے کاکام تو نہیں کیا جارہا ہے؟آج پورا ہندوستان اس تشویش میں مبتلا ہے کہ کہیں میرے بھارت کی سرزمین کی صدیوں پرانی ریت کو مٹاتو نہیں دیاجائے گا؟کہیں یہ ایک خاص نظریہ کو مسلط کرنے کی تیاری کا حصہ تو نہیں ہے؟ کیا اب مختلف الرائے ہونے کے باوجود ایک ساتھ رہنے کا دستوری اور تہذیبی حق چھین لیا جائے گا؟کیا اب کسی کو ملک کی شناخت گنگاجمنی تہذیب سے ہونے میں عار محسوس ہورہا ہے؟کچھ ایسے ہی سوال ہیں جواخبارات ،ٹی وی چینل اور یونیورسٹیوں کی دردیوار میں ایک گونج بن کر ابھر رہے ہیں۔ سیاست کے گلیاروں میں اس مدعے کی سنجیدگی کو بڑی شدت کے ساتھ محسوس کیا جارہا ہے۔اور مختلف انداز میں اس معاملے کے خلاف رد عمل بھی سامنے آرہے ہیں۔جو ہندوستان کی سرزمین پر ایک بدلاؤ کا اشارہ دے رہے ہیں،ایسا لگ رہا ہے جیسے یہ آر پار کی لڑائی ہے،یا تو ملک کی تہذیبی روایتوں کی فتح ہوگی یا پھر جس انداز میں گزشتہ کچھ مہینوں سے ایک خاص نظریہ کو نافذ کرنے کی کوشش ہورہی ہے جو کبھی کبھی جارحانہ رخ بھی اختیار کرلیتی اس کو کامیابی مل جائے گی۔لیکن میرے بھارت کی سرزمین کے حوالے سے یہ غالب گمان ہے کہ ایسا نہیں ہوگا۔
کنہیا کمار پر پاکستان زندہ باد جیسے ملک مخالف نعرے لگانے کا الزام ہے ،جس کی انہوں نے نفی کی ہے۔دہلی کے پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں ان کے خلاف مقدمہ چل رہا ہے ،جس میں ان کی پیشی بھی ہوچکی ہے۔لیکن حیرت ناک بات ہے کہ جس عدالت میں انصاف کی لڑائی لڑی جاتی ہے ،قانون کے دائرے میں قانون کی حفاظت کی جاتی ہے ،اسی عدالت کے احاطے میں قانون کی پڑھائی پڑھ کر فارغ ہونے والے اور قانون کی لڑائی لڑنے والوں نے قانون پراپنے جذبات کو حاوی کرلیا ،کسی مخصوص نظریہ کے حامی بن کر رہ گئے اور قانون کے دائرے کی پروا بھی نہیں کی۔ہمارے وکلاء ہی حملہ آور بن گئے ،ہاتھا پائی پر اتر آئے،اس درمیان کنہیا کمار کی بھی پٹائی ہوئی،وکیل بحث و مباحثہ چھوڑکر آپس میں ہی گتھم گتھا ہونے لگے اور اس انداز میں اپنے اپنے فیصلے صادر کرنے لگے،اے میرے بھارت کی سرزمین تو ہی بتا کیا یہی ہے تیری مٹی کی خوبی۔اے میرے بھارت کی سرزمین تو بہت قدیم ہے اورآج کا ہر شہری نیا ہے،چاہے وہ عام شہری ہو یا عنان حکومت سنبھالنے والا ذی شعور۔بہت ممکن ہے سب اپنی اپنی سوچ کو ہی بھارت سمجھ رہے ہوں لیکن تو ابتدائی دنوں سے بھارت کی خوبیوں کی گواہ ہے اور اس کی شناخت کا حصہ ہے توہی بتادے کہ کیا یہ سب کچھ جو ہورہا ہے ،مناسب ہے؟تو جانتی ہے کہ ملک کی آزادی کے بعد مختلف سیاسی پارٹیاں وجود میں آئیں اور انہوں اپنے اپنے طور پر جمہوری طریقہ سے عوام کو اپنی جانب راغب کیا،جس کی بات کو عوام نے اہمیت دی انہی کے ہاتھوں میں حکومت کی باگ ڈور سونپی گئی۔
چونکہ تعلیم کی طرح سیاسی شعور کی پرورش وپرداخت بھی تعلیمی اداروں سے ہوتی ہے اور یونیورسٹی کے ذی شعور طلبا اس کے رموز واوقاف کو بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے پیچھے سیاست کے منجھے ہوئے لوگ اپنے نظریات کے ساتھ موجود ہوتے ہیں۔آج کے وقت میں ملک کی تین سیاسی جماعتوں کو اسٹوڈنٹ ونگ یونی ورسٹیوں میں سرگرم ہے،جس میں کانگریس کا این ایس یو آئی ۔بی جے پی کا اے بی وی پی اور کمیونسٹ پارٹی کا اے آئی ایس اے ۔جے این ایو میں اس کے ابتدائی دنوں سے کمیونسٹ ونگ حاوی ہے ۔یہ طے شدہ امر ہے کہ کسی زور زبردستی سے یونیورسٹی کا الیکشن نہیں جیتا جاسکتا ہے ،کیونکہ وہاں سیاست سے زیادہ نظریات کی اہمیت ہے۔کنہیا کمار کمیونسٹ ونگ سے جے این یو طلبا یونین کے صدر ہیں اور انہوں نے افضل گرو کی پھانسی کے موضوع پر ایک پروگرام کا انعقاد کیا تھا اور اے بی وی پی نے اس کی مخالفت کی تھی،اسی کے بعدہی یہ سارا معاملہ سامنے آیا جس سے آج پورا ہندوستان جوجھ رہا ہے۔اہل علم حضرات اس کو بھی تعلیمی اداروں میں ایک مخصوص نظریہ کو حاوی کرنے اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو زیر کرنے یا ان کا خاتمہ کرنے کی ایک مذموم کوشش کے طور پر دیکھ رہے ہیں ،ان کا یہ کہنا بھی اہمیت کا حامل جان پڑتا ہے کہ آج محب وطن اور غداوطن کی تعریف بھی بدل گئی ہے،جو مخصوس نظریہ کا حامی ہوگا اسی کو محب وطن کا سرٹی فیکیٹ دیاجائے گا اور جو ان کی مخالفت کرے گا وہ غدار وطن کہلائے گا۔اے میرے وطن کی سرزمین تو جانتی ہے کہ جو وطن کی تہذیب اور اس کی آن بان اور روایتی شان کے لیے اپنی قربانی دیتا ہے وہی سچا محب وطن کہلاتا ہے۔
(مضمون نگار اینگلو عربک اسکول کے سینئر استاذ اور فری لانسر صحافی ہیں )

SHARE