وعدے ارادے کا دور شروع،راہل گاندھی نے کہا سابق فوجیوں کو اقتدار میں آئے تودیں گے ‘ون رینک-ون پینشن’

18

سابق فوجی جہاں بدستور یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ ایک رینک ایک پینشن اسکیم نافذ کی جائے وہیں آج کانگریس کے صدر راہل گاندھی نےالزام لگایا کہ نریندر مودی حکومت اس اسکیم کونافذ کرنے کے اپنے وعدے سے پھر گئی ہے۔

یہاں آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے صدر دفتر میں سابق فوجیوں سے ایک ملاقات میں مسٹر گاندھی نے متنازعہ رافیل جنگجوطیاروں کے سودے کا معاملہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت کا فوجی جوانوں کے تعلق سے رویہ قابل اعتراض ہے۔ سابق فوجیوں سے ملاقات کے بعد نامہ نگاروں سےبات کرتے ہوئے مسٹر گاندھی نے کہا کہ جموں کشمیرمیں مودی حکومت کی غیرمصلحت پسندی کی وجہ سے فوجیوں کی زندگی کا زیاں ہوا ہےاورانہوں نےاس رویہ کا تعلق متنازعہ رافیل سودے سے جوڑا۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ حکومت ایک کاروباری کو توبلا کام کاج 30 ہزار کروڑ روپے دے سکتی ہے لیکن ایک رینک ایک پینشن اسکیم نافذ نہیں کرسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اگر انکی پارٹی 2019پارلیمانی انتخابات کے بعد اقتدار میں آتی ہے تو OROP سمیت تمام مطالبات پورے کئیے جائیں گے. سابق وزیر دفاع اے کے انٹونی، کانگریس جنرل سکریٹری اشوک گہلوت اور پارٹی کے ترجمان رندیپ سنگھ سرجے والا کی موجودگی میں مسٹر گاندھی نےایک گھنٹے تک سابق فوجیوں سے بات چیت کی اوران کے مسائل اور پریشانیوں سے آگاہ ہوئے۔ سابق فوجیوں نے مسٹر گاندھی کو دوعرضداشتیں پیش کیں۔ مسٹر سرجےوالا نے بتایا کہ مسٹر گاندھی معاملے کا مفصل جائزہ لیں گے اور کانگریس کی منشور کمیٹی کے سربراہ پی چدمبرم بھی جلد ہی سابق فوجیوں سے ملیں گے۔

SHARE