حدیثِ رمضان المبارک(آٹھواں روزہ )

عبد اللہ سلمان ریاض قاسمی
بعض دیگر احادیث میں پانی سے سحری کرنے اور اس کے بھی کم از کم ایک گھونٹ پینے کا ذکر وارد ہوا ہے چنانچہ تاریخِ دمشق لا بن عسا کر میں حضرت سراقہ سے مروی ہے کہ نبیصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (تَسَحَّرُوْاوَلَوْ بِالْمَاءِ) ’’سحری کھاؤ چاہے وہ صرف پانی پینے سے کیوں نہ ہو۔‘‘
صحیح ابن حبان میں حضرت ابن عمرؓ سے مسند احمد اور المختارہ للضیاء میں حضرت ابو سعید خدرؓ ی سے اور مسند ابو یعلی میں حضرت انسؓ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تَسَحَّرُوْاوَلَوْ بِجُرْعَۃٍ مِّنْ مَاءٍ ’’سحری کھاؤ چاہے وہ صرف ایک گھونٹ پانی کی شکل میں ہی کیوں نہ ہو۔‘‘
سحری میں کوئی بھی حلال چیز کھائی جا سکتی ہے کوئی پابندی نہیں البتہ ابو داؤد میں حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:نِعْمَ سُحُوْرِ الْمُوْمِنِ اَلتَّمْرُ ’’مومن کی بہترین سحری، کھجور ہے۔‘‘
اس حدیث میں سحری کے وقت بھی کھجور کھانے کی ترغیب دلائی گئی ہے۔ لہٰذا اگر محض کھجور کے ساتھ ہی سحری کرنا ممکن نہ ہو تو کم از کم کھانے کے ساتھ چنددانے کھجوریں ضرورکھا لینی چاہئیں تاکہ اس ارشادِ نبویصلی اللہ علیہ وسلم کی تعمیل کا ثواب حاصل ہو۔ البتہ یہ واجب وضروری نہیں ہے۔
جن چیزوں سے روزہ ٹوٹ جاتاہے: اس کو سبھی جانتے ہیں کہ روزے کی حالت میں کھانا پینا اور جماع کاترک کرنا فرض ہے۔ پس جب کوئی فعل اس فرض کے خلاف کیا جائے گا تو روزہ فاسد ہوجائے گا۔
روزہ کو فاسد کرنے والی چیزیں دو قسم کی ہیں۔ایک یہ کہ جن سے صرف قضا واجب ہوتی ہے۔ وہ یہ ہیں : (۱) روزہ دار کے منہ میں زبردستی کوئی چیز ڈال دی گئی اور حلق سے اتر گئی۔(۲) روزہ یاد تھا اور کلی کرتے ہوئے بلا ارادہ حلق سے پانی اتر گیا۔
(۳) خود بخود قے ہوئی اور پھر قصداً حلق میں لوٹالی۔(۴) قصداً منہ بھر کے قے کرنا۔(۵) دانتوں میں رہی ہوئی چیز کو زبان لگاکر نگل جانا جب کہ وہ چیز چنے کے برابر تھی یا اس سے زیادہ اگر چنے سے کم تھی تو روزہ نہیں ٹوٹا لیکن اگر منہ سے باہر نکال کر پھر نگل گیا تو اس سے کم پر بھی روزہ ٹوٹ جائے گا۔(۶) کان میں تیل ڈالنا۔(۷) ناس لینا۔(۸) دانتوں میں سے نکلے ہوئے خون کو نگل لینا جب کہ خون تھوک پر غالب ہو۔(۹) بھول کر کھاپی لینے کے بعد یہ سمجھ کر کہ روزہ ٹوٹ گیا پھر جان بوجھ کر کچھ کھا لینا۔(۱۰) سورج غروب ہوجانے کے گمان سے افطار کرلینا، ان چیزوں سے صرف قضا واجب ہوتی ہے۔ کفارہ نہیں۔
دوسری صورت یہ ہے کہ جن سے قضا اور کفارہ دونوں واجب ہوتے ہیں۔ یہ ہیں : (۱) رمضان کا روزہ رکھ کر ایسی کوئی چیز قصداً کھاپی لی جو غذا یا دوا یا لذت کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ (۲) صحبت کرلی۔(۳) قصداً آنکھ میں دوائی یا سرمہ لگایا پھر یہ سمجھ کر کہ روزہ ٹوٹ گیا جان بوجھ کر کھاپی لیا تو ان صورتوں میں کفارہ بھی واجب ہے۔(ملت ٹائمز)

SHARE