روزہ عبادت کے ساتھ بہترین صحت کا بھی ضامن

شمس تبریز قاسمی
دنیا کے ہرمذہب میں عبادت کا تصور پایا جاتاہے دنیاوی کثافتوں سے پاکیزگی حاصل کرنے اور معبود کی رضاو خوشنودی کے لئے تمام مذاہب کے رہنماؤں نے کچھ عبادات تجویز کی ہیں، اسلام نے بھی اپنے پیرو کاروں کے لئے عبادات کا ایک نظام تجویز کیا ہے جس کے ذریعے مسلمان نفس کی آلودگیوں سے نجات حاصل کر کے قرب الٰہی پاسکتے ہیں اور اپنی رب کی رضا وخوشنودی حاصل کرسکتے ہیں۔ اس نظام عبادات میں ایمان کے بعد سب سے اہم نماز زکوۃ روزہ اور حج ہے یہ چاروں ارکان اسلام ہیں جن میں دو بدنی عبادتی کہلاتی ہیں اور اس کسی کو چھٹکارانہیں ہے یہی وجہ ہیکہ نماز کے بعد سب سے زیادہ اہمیت روزہ کو حاصل ہے، قرآن مجید میں روزہ کے لئے صوم اور صیام کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، صوم یا صیام کا لغوی معنی رک جانا ہے۔ شرعی اصطلاح میں مسلمان کا بغرض عبادت صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک قصدا کھانے، پینے اور جنسی عمل سے رک جانا روزہ کہلاتا ہے، اہل اسلام پر رمضان المبارک کا مہینہ روزے کیلئے فرض ہے، ارشاد ربانی ہے۔
اے ایمان والو!تم پر روزہ رکھنا فرض کر دیا گیا ہے، جیسا کہ تم سے پہلی امتوں پر فرض کیا گیا تھا، تا کہ تم پرہیز گار ہو جاؤ۔ اقوام عالم کی تاریخ پر نظر دوڑانے سے معلوم ہوتا ہے کہ قدیم مذاہب میں بھی روزہ کا تصور موجود رہا ہے، توریت ، زبور، انجیل کے علاوہ ہندو مت، بدھ مت، اہل یونان اور پارسیوں کی کتابوں سے بھی روزے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ کتاب مقدس زکریا کے باب 8میں مذکور ہے
رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ چوتھے اور پانچویں اور ساتویں اور دسوں مہینے کا روزہ بنی یہوداہ کے لئے خوشی اور مسرت کا دن اور شادمانی کی عید ہو گا۔ہندو مت میں روزے کی اہمیت اس بات سے معلوم ہوتی ہے کہ ہندوؤں کے جوگی آج بھی پہاڑوں اور جنگلوں میں جا کر فاقہ مستی کرتے ہیں اور اس ذریعے سے اپنے نفس کو الائشوں سے پاک کرتے ہیں۔ بدھ مت کی تاریخ بتاتی ہے کہ جب شہزادہ سدھارتھ گوتم بدھ نے تخت و تاج سے کنارہ کشی اختیار کی تو جنگل میں بیٹھ کر اپنے تپسیا کی بنیاد روزہ ہی کو بنایا، جب وہ پیپل کے درخت کے نیچے گیان میں مصروف ہوئے تو ترکِ دنیا کے ساتھ ساتھ مسلسل فاقہ کشی اختیار کی۔
یونانی علماء میں سے فیثا غورث، سقراط اور افلاطون نے بھی خیر و شر کے تصورات کا تعین کرتے ہوئے عفت و پرہیز گاری پر زور دیا۔یونان میں اہل تصوف کا ایک بڑا گروہ ترک دنیا کو روحانی ارتقاء کا ذریعہ گردانتاہے۔چین میں شنتوازم کے پیروکار بھی مخصوص ایام میں کھانا پینا تر ک کر دیتے اوراپناگھرچھوڑکر عبادت کیلئے جنگلوں پہاڑوں میں نکل جاتے تھے۔
قدیم مذاہب کا کم خوری پر اتنا زور دینا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ روحانیت میں کمال حاصل کرنے کے لئے خوراک کی مقدار کو کم کرنا نہایت ضروری ہے، کم خوری نہ صرف روحانی ضرورت ہے بلکہ طبی نقطہ نظر سے بھی انسانی صحت کے لئے نہایت مفید ہے۔ زیادہ کھانے اور زیادہ سونے سے انسان کا شعور بھی دبا رہتا ہے اور روحانی ترقی کا امکان کم ہو جاتا ہے یہی بات اسلام کے فلسفۂ صیام کی بنیاد ہے۔
اسلام نے اپنے ماننے والوں کو نہ صرف کم خوری کی تعلیم دی بلکہ روزہ کو ارکان اسلام کا حصہ بنا دیا، احادیث مبارکہ میں انسان کو کھانا کھاتے ہوئے پیٹ کے تین حصے کرنے کا حکم دیا ہے، ایک کھانے کے لئے ایک پانی کے لئے اور ایک ہوا کے لئے مزید فرمایا گیا ہے کہ مومن ایک آنت سے کھاتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں سے (یعنی خوب پیٹ بھر کر)۔(متفق علیہ)خود حضور اکرم نے زندگی بھر کبھی شکم سیر ہو کر کھانا نہیں کھایا، نہ کبھی ایک دن میں دو مرتبہ آپ کے گھر میں چولہا جلنے کی نوبت آئی، اکثر اوقات صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ آپ نے فاقہ کشی کی بدولت اپنے پیٹ پر پتھر باندھا، اصحاب صفہ جو آپ کی خدمت اقدس میں رہ کر علم دین سیکھتے تھے، ہمیشہ کم خوری پر عمل کرتے رہے۔ کہیں سے تھوڑا بہت کھانے کو آ جاتا تو کھا لیتے ورنہ صبر و شکر کا دامن تھامے رہتے۔
بھوک لگنے پر کھانا اور بھوک رکھ کر چھوڑ دینا اسلام کا زریں اصول ہے۔مشہور واقعہ ہے کہ عجم کے ایک بادشاہ نے ایک ماہر طبیب کو حضور اکرم کی خدمت میں بھیجا وہ کئی برس دیارِ عرب میں رہا لیکن کوئی شخص تجربہ کے لئے بھی اس کے پاس نہ آیا، تنگ آ کر وہ حضور اکرم کے پاس آیا اور شکایت کی کہ مجھے بطور خاص آپ کے اصحاب کی خدمت کے لئے بھیجا گیا ہے لیکن اس مدت میں کسی نے بھی میری طرف توجہ نہیں کی چنانچہ مجھے خدمت کا کوئی موقع نہیں مل سکا، حضور اکرم نے ارشاد فرمایا:ان لوگوں کا شیوہ ہے کہ جب تک بھوک مجبور نہیں کرتی، نہیں کھاتے اور ابھی بھوک باقی ہوتی ہے کہ کھانے سے ہاتھ کھینچ لیتے ہیں طبیب بولا کہ تندرستی کا یہی سبب ہے، اس نے قدمبوسی کی اور واپس چلا گیا۔
ارد شیر بابکاں کی سوانح حیات کے حوالے سے شیخ سعدی رحمتہ اللہ علیہ لکھتے ہیں کہ عرب کے ایک حکیم سے لوگوں نے پوچھا کہ دن بھر میں کس قدر کھانا کھانا چاہئے؟ اس نے کہا انتیس تولہ کی مقدار کے برابر کافی ہے ، کسی نے کہا کہ یہ معمولی سی مقدار بھلا کیا قوت دے گی، حکیم نے کہا یہ مقدار تجھے اٹھائے گی اور اس سے زیادہ کو تو اٹھاتا پھرے گا، یعنی یہ مقدار تجھے قائم رکھے گی اور اس سے زیادہ کا بوجھ تیرے پیٹ کو اٹھانا پڑے گا۔(گلستان سعدی)
جدید میڈیکل سائنس کی رو سے تھوڑا کھانا ہضم کرنے کے لئے تھوڑی توانائی کی ضرورت ہے اور زیادہ کھانا ہضم کرنے کے لئے زیادہ۔ کھانا اگر مرغن اور ثقیل ہو تو اور بھی زیادہ توانائی چاہئے یہی وجہ ہے کہ مرغن غذائیں کھانے والے حضرات اکثر بد ہضمی کی شکایت رہتے ہیں۔پیٹ ایک کارخانے کی مانند ہے جو غذا کو لحمیات، نمکیات اور چربی میں تبدیل کر کے جسمانی ضرورت کو پورا کرتا اور فضلات کو خارج کرتا ہے، زیادہ خوراک کھانے سے اس کارخانے کے تمام پرزوں کو زیادہ کام کرنا پڑتا ہے جس کی وجہ سے وہ جلدی خراب ہو جاتے ہیں، ایسی صورت میں غذا غیر ہضم شدہ حالت میں، معدہ میں غلاظت پیدا کرتی ہے ،جو جان لیوا بیماریوں کا باعث بن جاتاہے۔(ملت ٹائمز)

SHARE