شرما !تم کب سے مسلمان ہوگیے؟

41

ابوفہد

عبدل جب پانچویں بار میرے پاس آیا تو مجھے ذرا ذرا شرمندگی محسوس ہوئی۔ اب میں ہر قیمت پر اس سے جان چھڑانا چاہتا تھا۔اورجان چھڑانے کے آخری حربے کے طور پر میں نے یہ کیا کہ عبدل کو شرما کے لیے ایک رقعہ لکھ دیا ۔اسے رقعہ کہنا بھی شاید بجا نہ ٹہرے کیونکہ رقعےکے نام پرلشتم پشتم کسی طرح بس ایک مختصر سا جملہ گھس مارا تھا ۔میں پہلے ہی  اپنی سی کوشش کرچکاتھا اور اب میں نہیں چاہتا تھا کہ  کسی معمولی کام کے عوض گروی رکھ لیا جاؤں۔

عبدل نے یہ رقعہ شرما کو دیا تو شرما کا چہرا ایک دم سرخ ہوگیا۔یہ حیرت اور شرمساری کے ملے جلے اثرات تھے جو اس کے سفید کتابی چہرے پر گہری سرخی چھوڑ گئے تھے ۔شرماکچھ دیر گومگو کی کیفیت میں عبدل کو ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہا اور پھر یک لخت سوسوکے نوٹو کی دس ہزار کی گڈی اس کی طرف اچھا ل دی۔ چل دفع ہو یہاں سے۔ اگر آئندہ میرے آس پاس بھی پھٹکا نا؛تو مجھ سے برا کوئی نہ ہوگا۔ اس نے  غضبناک لہجے میں کہا اور گلّےکا ڈھکن اتنی زور سے بند کیا کہ اس کے قریب بیٹھی ہوئی ادھیڑ عمر کی ایک عورت اور اس کی جواں سال بیٹی جو ساڑیاں منتخب کرنے میں مگن تھیں ایسے اچھل پڑیں، جیسے   مئی جون  میں تپتی ہوئی سڑک پر کسی سائکل رکشا کاٹائر اچانک پھٹ  جاتا ہے او ر راہ گیراچھل پڑتے ہیں۔

 شرما کے یہ الفاظ عبدل کی بےعزتی کرنے کے لیے نہیں تھے بلکہ اس لیے تھے کہ وہ ان الفاظ کے سہارے اپنی شرمندگی کواور پھر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے بے وقت  اور بلا وجہ کے غصے کو سہارنے کی قوت پیدا کرنا چاہتا تھا۔ ورنہ عبدل سے اسے کوئی شکایت نہیں تھی۔ اس نے  اس کی  ڈیڑھ ماہ کی تنخواہ اسی لئے روکی تھی کہ عبدل نے بنا کسی بڑی وجہ کے اس کے یہاں کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ عبدل ایک محنتی اور ایماندار آدمی ہے، اس کا دیکھا بھالا اور اونچ نیچ میں جانچا پرکھا ہوا ۔ اس لیے وہ نہیں چاہتا تھا کہ عبدل دکان چھوڑ کر جائے۔اور شاید سب سے بڑی بات یہ تھی کہ عبدل کو اس کے والد نے نوکری پر رکھا تھا ۔ اوراب جبکہ اس کے والد اس دنیا میں نہیں تھے تو وہ نہیں چاہتا تھا کہ  وہ ان کے ہاتھ کے رکھے بلکہ پالےپوسے کسی نوکرکو یوں ہی جانے دے۔وہ رشتوں ناتوں اور رسم ورواج میں بہت یقین رکھتا تھا۔

راج کمار شرما اپنے والد کی اکلوتی نرینہ اولاد تھا، لاڑ پیار کا پالا پوسا ہوا۔اوران کے بعد ان کی پوری جائداد کا اکلوتا وارث ۔شرما کو پشتینی جائداد میں ایک حویلی نما گھر کے علاوہ شہر کے سب سے  بڑے چوک پر ایک بڑی سی کپڑے کی دکان اور چار پانچ نوکر چاکر بھی ملے تھے، جن میں سے ایک عبدل بھی تھا۔ عبدل ونود کمار شرما کا چہیتا نوکر تھا ، مگر ان کے انتقال کے بعد وہ ان کے بیٹے کا اعتماد نہ جیت سکا ، وجہ خواہ کچھ بھی  رہی ہو۔وقت دھیرے دھیرے گزرتا گیا اور اسے نہ صرف  یہ کہ کپڑے کی دکان میں گھٹن محسوس ہونے لگی بلکہ وہ نوکری کے لعنت بھرے پیشے سے ہی بیزار ہوگیااوران کے انتقال کے ایک سال بعد ہی نوکری چھوڑ کرانے کی دکانوں پر مال سپلائی کرنے کا کام پکڑ لیا۔

اب حیرت کی باری عبدل کی تھی۔ اس کی آنکھیں  پھٹی ہوئی اور منہ ہونقوں کی طرح  پھیلا ہوا تھا ، جیسےاسے اپنے آپ پر یقین ہی نہیں آرہا ہو۔  وہ یہ جاننے سے قاصرتھا کہ آخر اس معمولی رقعے میں ایسا کیا لکھا گیا ہے کہ شرما اپنی تمام تر ہٹ دھرمی کو ایک گھونٹ میں پی گیا۔ شرماجوگزشتہ دو سال سے اس کے واجبات اداکرنے میں آنا کانی کرتارہا ، ایک رقعہ پڑھ کر اچانک اس طرح کیسے بدل سکتا ہے۔ اس کی حیرانیاں پل پل بڑھ رہی تھیں۔

’’کیا اس میں کوئی گالی لکھی گئی ہے؟‘‘  جب عبدل کو اسی نوعیت کا ایک دوسرا واقعہ یاد آیا تو اس نے اپنے آپ سے سوال کیا۔ یہ گویا ایک غیر عمومی واقعے کو اپنی طرف سے دلیل دے کر عمومی بنانے جیسا تھا ۔ وہ اکہرے بدن کا مالک مزدور پیشہ آدمی تھا، شرافت اس کے وجود سے اسی طرح رات دن ٹپکتی رہتی تھی جس طرح بارش کے دنوں میں پیڑوں کی ٹہنیاں دیر تک ٹپکتی رہتی ہیں۔ اس کے ڈھائی ہڈی کے اکہرے بدن میں اتنا دم خم نہیں تھا کہ  وہ کسی سے پنگا لے سکے، جائز بات کے لیے بھی نہیں۔ وہ تو اپنا جائز حق بھی زہریلے الفاظ اور اونچی آواز کے ساتھ نہیں مانگ سکتا تھا۔اس لیے اکثر ہوتا تھا کہ آئے دن کوئی نہ کوئی اس کی مزدوری مارہی لیا کرتا تھا۔ شرما کے کیس میں اس کے لیے کچھ بھی عجیب نہیں تھا سوائے اس کے کہ ایک معمولی رقعے نے شرما کے وجود کو شرمادیا تھا۔

ابھی کچھ ہی دن پہلے کی بات ہے کہ اس کے محلے کے شرافت علی خان نے اس کی کچھ رقم دبالی ۔ اول اول اس نے اپنے طور پر رقم حاصل کرنے کی کوشش کی مگر جب اس نے کسی طرح مان کر نہ دیا، بلکہ الٹا اسے ہی ڈرانے دھمکانے لگا  تو وہ ریاست بھائی عرف گلو پہلوان کے پاس جا پہنچا۔ اس سے عبدل کی خاصی پرانی شناسائی تھی، وہ آتے جاتے اس کے اور اس کے گھر کے چھوٹے  موٹے کام کردیا کرتا تھا، جیسے بازار سے سودا سلف لادینا اور بجلی و ٹیلیفون کا بل جمع کرنا وغیرہ۔ اس نے کبھی بھی ان کاموں کی کوئی قیمت نہیں مانگی تھی۔ اورگلو پہلوان  نے بھی کبھی اس طرح نہیں سوچا تھا  کہ ایسے معمولی کاموں کی بھی  کوئی نہ کوئ قیمت ہونی چاہئے۔البتہ اس کی نیک دل بیوی عید و محرم پر عبدل کو اور اس کے بچوں کوچھوٹی موٹی رقم یا کوئی ضرورت کا سامان دے دیا کرتی تھی ۔ جب عبدل نے شرافت علی خاں کے خلاف گلو پہلوان سے شکایت کی تو وہ  ایک دم آپے سے باہر ہوگیا،اسی وقت کرسی سے اٹھ کھڑا ہوااور شرافت علی خان کو اپنے بچپن اور جوانی کے دنوں میں  اپنی یادداشت میں محفوظ کی گئیں  بری بھلی تمام کی تمام گالیاں یک لخت سناڈالیں، بلکہ  اس کے وجود پراُگل ڈالیں ، جس طرح دیرتک چبائی گئیں پان کی گلوریاں اگلی جاتی ہیں۔ اب شرافت علی خان  کے لیے اس کے سوا کچھ چارہ نہ رہا کہ وہ بے چوں چرا عبدل کی رقم واپس کردے۔حالانکہ وہ پنگے لینے کی پوزیشن میں تھا مگر ہر کسی سے نہیں،  گلو پہلوان سے تو بالکل نہیں۔

عبدل دس ہزار کے نوٹوں کی گڈی  اپنے دونوں ہاتھوں میں الٹ پلٹ رہا تھا، جس سے اس کے اندرون میں بھری بے چینیاں صاف ظاہر ہورہی تھیں، اس کی آنکھیں شرما کی  لمحہ بہ لمحہ متغیر ہوتی ہوئی  حالت کا جائز ہ لے رہی تھیں اور اس کے دماغ میں انتہائی حد تک  گنجلک اورتکلیف دہ  خیالات جواں سال آہوانِ دشت کی طرح دھماچوکڑی مچائے پھر رہے تھے۔آخر اس رقعے میں بھائی صاحب نے ایسی کونسی گالی لکھ دی ہے کہ یہ اپنی تاثیر میں گلو پہلوان کی گالیوں سے بھی بازی لے گیا۔اس نے پہلوان کے منہ سے سنی ہوئی تمام چھوٹی بڑی گالیاں ایک ایک کرکے  یاد کرنے کی کوشش کی مگر اس کا خیال کسی ایک بھی گالی پر نہ جم سکا۔ اس نے گالی والے خیال کو یک لخت جھٹک دیا۔آخربھائی صاحب اتنی گندی گالیاں کیسے لکھ سکتے ہیں؟۔ اس نے اپنی پینتیس  اڑتیس سال کی عمر میں آج تک کبھی بھی بھائی صاحب کی زبان پر گالی جیسا کوئی لفظ نہیں سنا تھا اور نہ ہی کسی کو یہ کہتے ہوئے سنا تھا کہ  بھائی صاحب گالیا بھی بکتے ہیں۔ تو بھلا وہ اس رقعے میں اتنی گندی گالی کیسے لکھ سکتے تھے اور وہ بھی شرما کو جو ان کا لنگوٹیا یار تھا۔پھر اچانک اس کا ذہن تعویذ گنڈوں میں استعمال کئے جانے والے کسی تلسماتی کلمے کی طرف گیا، مگر اس طرف سے بھی اسے تشفی نہیں ہوئی۔وہ جانتا تھا کہ بھائی صاحب تعویذ گنڈے نہیں بناتے ۔ اس لیے اسے تلسماتی کلمات کے لکھے جانی والی بات بھی بہت دور کی کوڑی معلوم ہوئی۔تاہم وہ اس خیال کو پوری طرح اپنے دماغ سے نہیں نکال سکا۔ہو نہ ہو اس میں ضرور کوئی نہ کوئی تلسماتی کلمہ  لکھا گیا ہوگا یا پھر ’اس اعظم‘۔ جس کے بارے میں اس نے کئی واعظین سے سنا تھا کہ ’اسم اعظم‘ میں بہت تاثیر ہوتی ہے۔مگر کہاں بھائی صاحب ایک سیدھے سادھے تاجر اور کہاں اسم اعظم؟ ۔اس کادماغ گرم ہانڈی کی طرح کھولنے لگا۔

عبدل کچھ دیر شرما کے سامنے ٹک ٹک بودم دم نہ کشیدم کی صورت بے حس وحرکت بیٹھا رہا اور پھر اسے اس طرح نمستے کہہ کر اٹھ آیا جیسے اب قیامت تک کبھی بھی اس کا منہ نہیں دیکھے گا۔عبدل یہاں سے اٹھ کرپہلے اپنے گھر گیا،دس ہزار کے نوٹوں کی گڈی  کچھ اس طرح بیگم کے حوالے کی جیسے کوئی بے زبان ہو اور اپنی بیگم سے کہنا چاہتا ہو’ لو جاؤ عیش کرو‘۔اس کے بعداس نے غسل کیا، کھانا کھایا اور بیوی بچوں سے باتیں واتیں کیں ، یہ سب کچھ ہوا مگر اس کا ذہن تلسماتی کلمات ہی میں الجھا رہا۔حالانکہ یہ  شروع دسمبر کی لمبی ، کالی اور کسی قدر سردرات تھی ، وہ اپنی بیوی کے پاس تھا  پھر بھی یہ رات اس نے  سخت اضطراب کے عالم میں سوتے جاگتے گزاری ، بنا  کوئی بات کئے اور بنا کوئی انگڑائی لئے ۔ جب رات نے ایک پہر گزار لیا تو نفیسہ بیگم  نے کروٹ بدلی، ایک نگاہ بچوں پر ڈالی ، بچے اس طرح سوئے تھے جیسے نیند کی گولیاں دے کر سلائے گئے ہوں ۔ ادھر سے اطمئنان کے بعد اس نے   اپنے میاں کو کریدنا چاہا اور نوٹوں کی گڈی کے بارے میں معلوم کیا ،کہ اتنی رقم وہ کہاں سے لایا ہے اور اس کا کیا کرنا ہے۔مگر وہ بے حس وحرکت پڑا رہا جیسے باہر آنگن میں برف کی چادر اوڑھے  لکڑی کاکوئی موٹا سا لٹھابے حس وحرکت پڑا ہو۔اور اس سے پہلے کہ سورج کی پہلی کرن اس کے دروازے پر دستک دیتیوہ بے چین روح کے ساتھ اٹھ بیٹھا اور بجلی کی سی تیزی سے گھر سے نکل گیا۔اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ،بیوی بچے سب بے خبر سوئے ہوئے تھے ۔ وہ اس کی بے چینیوں سے بے خبر تھے۔

میں ابھی ابھی مسجد تےسے لوٹا تھا، اپنی عادت کے مطابق ایک کپ چائے بنائی اور اسٹڈی روم میں آبیٹھا۔ پتہ نہیں آج کی صبح واقعی خوشگوار تھی یا مجھے محسوس ہورہی تھی ۔ شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ میرے اپنے زعم میں کم از کم میرے لیے عبدل کی سردردی ختم ہوگئی تھی کیونکہ میں اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوگیا تھا…. مگر یہ کیا؟ میں نے ابھی چائے کے ایک دو گھونٹ ہی لئے ہوں گے کہ عبدل ایک بار پھر میرے سامنے تھا۔ میں عبدل کی کہانی کے اختتام سے بے خبر تھا۔میرا ذہن یکبارگی اِس طرف گیا کہ یہ  آخر ی حربہ بھی آخرکسی کام نہ آیا۔میں نے خود کو ایک معمولی کام کے عوض گروی رکھا ہوا محسوس کیا۔وہ ایک بار پھر میرے سامنے وہی چہرہ لیے بیٹھا تھا بلکہ پہلے سے کچھ زیادہ زرد اور لاچار۔

اب یہ اصرار کرے گا کہ میں خودشرماکے پاس جاؤں۔ میں نے دل میں سوچا۔ایسا نہیں تھا کہ مجھے اس کے کام سے دلچسپی نہیں تھی، پر ایسا ضرور تھا کہ مجھے اس سے بیزاری محسو ہونے لگی تھی ۔اس کا برتاؤ میرے ساتھ بھی ویسا ہی تھا جیسا گلوپہلوان کے ساتھ تھا۔وہ میرے گھر کے کئی سارے کام اسی طرح  کردیا کرتا تھا جس طرح گلو پہلوان کے کیا کرتا تھا۔ ٹیوب لائٹ نہیں جل رہی ہے، نل سے پانی رسنے لگا ہے، گاڑی میں پنچر ہوگیا ہے، دروازے کی چٹخنی سخت ہوگئی ہے۔ وہ یہ سب کام چٹکی بجاتے کردیتا تھا۔اسے ہر کام آتا تھااور یہ اس کا پلس پوانٹ تھا مگر اسے کوئی بھی کام پوری طرح نہیں آتا تھا اور یہ اس کا مائنس پوانٹ تھا۔میں اس سے خوش تھا اور بچے بھی۔اگر یہ بات نہ ہوتی تو میں  اسے  کبھی کاڈانٹ ڈپٹ کر بھگا دیتا۔ میں بلا وجہ کے یارانے نہیں پالتا۔میں نے کنکھیوں سے عبدل کی طرف دیکھا اور قدرے ناگواری کا اظہار کیا۔

معاف کیجئے میں نے آپ  کی تنہائی میں خلل ڈالا۔اور صبح صبح آپ کو پریشان کرنے چلا آیا۔اس نے رسمی علیک سلیک کے بعد اختصار کے ساتھ اپنی کہانی بیان کی ۔تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں۔ کہانی کا یہ اختتام سن کر بے اختیار میرے منہ سے خدا کے لیے تعریفی کلمات نکلے۔اور اب وہی عبدل جو میرے لیے بیزاری کا سبب تھا خوشگواری کا باعث بن گیا تھا۔اورابرآلود خنک صبح اب میرے لیے مزید خوشگوار بن گئی تھی۔تاہم میں یہ محسوس کئے بنا نہ رہ سکا کہ ابھی اس کے دل میں کچھ خلش باقی ہے۔اور کوئی نہ کوئی رازداری والی بات ہے جو وہ یا تو معلوم کرنا چاہتا ہے یا مجھے بتانا چاہتا ہے۔

اکرام بھائی میں بس آپ سے اتنا ہی پوچھنا چاہتا ہوں کہ آخر آپ نے اس پرچی پر ایسا کیا لکھا تھا کہ شرما جی نے خلاف توقع  بنا ایک لفظ کہے اور بنا کسی تاخیر کے میری  ساری رقم ادا کردی اور وہ بھی یک مشت ۔اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا یا اس سے کوئی سوال کرتا وہ خود ہی شروع ہوگیا۔سچ جانیے میں تو کوشش کرکے تھک گیا تھا۔شرماجی کی منت سماجت بھی کی تھی اور ان کے بعض دوستوں سے  جن سے میری شناسائی تھی شفارس  بھی ڈلوائی تھی۔ مگر شرماجی بس ایک ہی بات کہتے تھے کہ میرے یہاں پھر سے کام کرنا شروع کردو ، تمہاراگلا پچھلا سب بے باق کردوں گا۔اور یہ میرے لیے ناممکن تھا کیونکہ اب میں نے اپنا بزنس شروع کردیا ہےاور جب اللہ نے مجھے نوکری جیسے ذلالت آمیز پیشے سے نکال ہی دیا ہے تو میں جانتے بوجھتے دوبارہ اسے کیوں اختیار کروں۔

اس وقت مجھ پر عجیب سی شرشاری کا عالم طاری تھا۔عبدل کی کہانی کا یہ اختتام میرے لیے یقینا کسی نیک شگون سے کم نہ تھا۔ اسی شرشاری کے عالم میں نہ جانے کس وقت اور کس طرح  میز پر رکھے ہوئے نوٹ پیڈ پر میں نے وہی جملہ لکھ دیا جو شرما کے لیے اُس رقعے میں لکھا تھا  اور دم بخود ہاتھوں سے  نوٹ پیڈ  کا وہ صفحہ پھاڑ کراس کی طرف بڑھادیا جسے عبدل نے اٹک اٹک کر اور سخت حیرانیوں کے  عالم میں پڑھا۔

’’شرما … تم ..کب ..سے.. مسلمان.. ہوگئے؟‘‘

عبدل کا وجود مزید سناٹوں اور حیرتوں سے بھرگیا۔میں نے اس پر نظر کی ، وہ مجھے ایسا دکھائی دیا جیسے وہ دنیا کا پہلا انسان ہے جسے عجائب سے بھری ہوئی غیر مانوس دنیا میں اتار دیا گیا ہے، ننگ دھڑنگ اور تن تنہا۔)ملت ٹائمز(