آکسیجن کی کمی کے سبب اموات نسل کشی کے مترادف: عدالت

7

بھارت میں عدالتوں نے کورونا وائرس کی وبا سے نمٹنے میں لا پرواہی کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں پر سخت تنقید شروع کر دی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب بھارت میں کورونا وائرس کے شدید بحران کی وجہ سے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کو  ہر جانب سے نکتہ چینی  کا سامنا ہے، عدالتیں بھی حکومتوں کے رویے سے کافی نالاں نظر آ رہی ہیں اور ان کے خلاف سخت بیانات دیئے جا رہے ہیں۔
بھارت میں گزشتہ تقریباً دو ہفتوں سے ملک کے مختلف ہسپتالوں میں  کووڈ 19 سے متاثرہ زیادہ تر مریض آکسیجن کی کمی سے ہلاک ہوتے رہے ہیں اور تمام تر ہنگامہ آرائی کے باوجود اس پر قابو نہیں پا یا جا سکا ہے جس پر کافی تشویش پائی جاتی ہے۔
آکسیجن کی کمی سے اموات پر ایک کیس کی سماعت کے دوران الہ آباد ہائی کورٹ نے لکھنو اور  میرٹھ جیسے بڑے شہروں کے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو حکم دیا کہ وہ تفتیش کے بعد بتائیں کہ اب تک کتنے مریض ہسپتالوں میں آکسیجن کی کمی سے ہلاک ہوئے ہیں۔
عدالت نے یہ حکم دیتے ہوئے کہا کہ طبی اغراض و مقاصد کے لیے جو حکام آکسیجن کی فراہمی کے ذمہ دار ہیں ان کی جانب سے، ’’ہسپتالوں میں محض آکسیجن کی عدم فراہمی سے کووڈ کے مریضوں کی موت نسل کشی کے مترادف اور ایک مجرمانہ فعل ہے۔‘‘
ہائی کورٹ کی بینچ نے کہا کہ ایک ایسے دور میں جب دل کی پیوند کاری اور دماغ کی سرجری ایک حقیقت بن چُکی ہے، ’’ہم لوگوں کو اس طرح مرنے کے لیے کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔‘‘ عدالت نے اس پر  حکام سے آئندہ جمعے تک رپورٹ پیش کرنے کو کہا ہے۔
ہائی کورٹ نے یو پی حکومت کے رویے پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے کہا  کہ سوشل میڈیا پر ہر روز، ’’ لوگوں کو اپنے لواحقین کے لیے آکسیجن مہیا کرنے کی فریاد کرتے اور ان کی زندگی بچانے کے لیے انہیں روتے گڑ گڑاتے  ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘ لیکن ایسے،’’مجبور اور لاچار لوگوں  کی مدد کیبجائے ضلعی انتظامیہ اور پولیس انہیں ہراساں کرتی ہے۔‘‘
اس سے قبل دہلی ہائی کورٹ نے بھی منگل کے روز آکسیجن کی کمی پر ایک سماعت کے دوران مرکزی حکومت کی سخت الفاظ میں سرزنش کی تھی اور  مرکزی حکومت کو عدالت کے احکامات کی توہین کرنے کے لیے ایک شو کاز نوٹس جاری کیا تھا۔
دہلی حکومت کے مطابق موجودہ صورت حال میں شہر کو ہر روز سات سو ٹن آکسیجن کی ضرورت ہے جبکہ مرکز اس کا صرف نصف حصہ ہی مہیا کر  رہا ہے۔ چونکہ دہلی کے مختلف ہسپتالوں میں بھی آکسیجن کی کمی سے ہر روز  درجنوں لوگ ہلاک ہو رہے ہیں اس لیے عدالت نے مرکز سے سات سو ٹن آکسیجن فراہم کرنے کا حکم دیا تھا جس پر ابھی تک عملدرآمد نہیں ہو سکا ہے۔
دہلی ہائی کورٹ کی بینچ نے مرکزی حکومت سے کہا، ” آپ شتر مرغ کی طرح اپنا سر ریت میں چھا سکتے ہیں، ہم ایسا نہیں کریں گے۔ خود سپریم کورٹ نے حکومت سے اس پر تین مئی تک عمل کرنے کو کہا تھا لیکن ابھی تک دہلی کو آکسیجن نہیں مل پائی ہے۔‘‘
مودی کی حکومت نے دہلی ہائی  کورٹ کے اس نوٹس کو اب سپریم کورٹ میں چیلنج کیا ہے۔ اس سے قبل مدراس، کولکتہ اور گجرات کی ہائی کورٹس بھی کووڈ کی صورت حال کے حوالے سے ریاستی اور مرکزی حکومتوں کے سست رویے پر نکتہ چینی کر چکی ہیں۔
حالات بد سے بدتر
ادھر بھارت میں کورونا وائرس سے ہونے والی اموات اور انفیکشن کی شرح میں کوئی خاص کمی نہیں آئی ہے اور بدھ کے روز حکام نے جو اعداد و شمار  جاری کیے ہیں اس کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں میں تین لاکھ بیاسی ہزار مزید متاثرہ افراد کے کیسز سامنے آئے ہیں۔
اسی ایک دن میں کووڈ 19 کی وبا سے مزید تین ہزار 780  ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس وبا کے آغاز سے لے کر اب تک ایک دن  میں اتنی تعداد میں پہلی بار لوگ ہلاک ہو ئے ہیں جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔
ماہرین نے متنبہ کیا ہے کہ رواں ماہ کے وسط تک انفیکشن کی شرح اور اموات میں اس سے کہیں زیادہ اضافے کا امکان ہے۔ بینگالور کے سائنس دانوں اور محقیقین کی ایک ٹیم کا کہنا ہے کہ آئندہ چند ہفتوں میں ہلاکتوں کی تعداد دوگنی ہو سکتی ہے اور اگر یہی رجحان جاری رہا تو گيارہ جون تک چار لاکھ سے بھی زیادہ افراد ہلاک ہو سکتے ہیں۔
بھارت میں اس وقت قریب 35 لاکھ افراد اس وبا سے متاثر ہیں جن کا علاج چل رہا ہے جبکہ متاثرین کی مجموعی تعداد  دو کروڑ چھ لاکھ تک پہنچ گئی ہے۔ اب تک دو لاکھ 26 ہزار افراد اس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک سو چالیس کروڑ کی آبادی والے ملک بھارت میں ابھی تک تقریباً 16 کروڑ  افراد کو  ہی ویکسین لگائی جا سکی ہے۔