معروف عالم دین ڈاکٹر مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کا انتقال ملک بھر کے علمی و ملی حلقوں میں غم کی لہر، جسد خاکی کو جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ لے جایا گیا

29

پٹنہ: (آئی این این) معروف عالم دین ڈاکٹر مفتی محفوظ الرحمن عثمانی بانی و مہتمم جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ ضلع سپول بہار نے آج پٹنہ کے میدازاسپتال میں تقریباً ساڑھے پانچ بجے (شام) آخری سانس لی۔ انا للہ و اناالیہ راجعون۔ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی گزشتہ نصف ماہ سے سخت علیل تھے اور پٹنہ میں زیر اعلاج تھے۔ مگر ان کی طبیعت میں بہتری نہیں آرہی تھی۔ڈاکٹروں نےانہیں مسلسل آئی سی یو میں رکھاتھا۔ تاہم آج شام وہ اپنے مالک حقیقی سے جاملے۔ ان کی عمر ۶۱؍سال تھی۔ جامعۃ القاسم کے سینئر استاد مفتی انصار قاسمی نے غمناک انداز میں یہ اطلاع دی۔ انہوں نے بتایاکہ حضرت مفتی کے جسد خاکی کو جامعۃ القاسم لے جا یا جارہا ہے۔ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی ی شخصیت غیرمعمولی اہمیت کی حامل تھی۔ ان کی سرپرستی میں بہار میں کئی ادارے چل رہے ہیں۔ پسماندگان میں اہلیہ ، دولڑکے اور دولڑکیاں ہیں۔ ان کی ولادت ۱۵؍اگست ۱۹۶۰ء میں گاؤں مدھوبنی ضلع سپول کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی تھی۔اسی ماحول میں ان کے والد مولانا ایوب نے پرورش وپرداخت کی۔ ابتدائی تعلیم کا آغاز گھر سے ہوا، اس کے بعد مدرسہ فیض عام رحمانی چین سنگھ پٹی سپول میں ابتدائی فارسی کی تعلیم حاصل کی،پھر میرٹھ کے مدرسہ نورالاسلام میں تعلیم حاصل کی اس کے بعد دیوبند تشریف لے گئے اور دارالعلوم وقف میں داخلہ لیا۔ یہاں متوسطات تک تعلیم حاصل کرنےکے بعد جامعہ مظاہر علو م سہارنپور تشریف لے گئے سند فضیلت حاصل کی۔آپ کے مشہور اساتذہ میں مولانا محمد سالم قاسمی، مولانامحمد اسلم قاسمی،مولانا اسلام قاسمی، مولانا مفتی مظفر حسین، مولانا محمد عاقل سہارنپوری، مولانا محمد یونس جونپوری، مولاناسلمان مظاہری اور مولانا یعقوب سہارنپوری شامل ہیں۔ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کو دوعظیم علمی شخصیت سے خلافت و اجازت حاصل تھی۔ خطیب الاسلام مولانا محمد سالم قاسمی ؒ مہتمم دارالعلوم وقف دیوبند، اور مولانا قاری محمد طیب مہتمم دارالعلوم دیوبند کے خلیفہ مولا حیکم محمد اسلام انصاری میرٹھ کے علاوہ کویت کی مشہور علمی شخصیت السید یوسف السید ہاشم الرفاعی سے بھی انہیں خلافت و اجازت بیعت حاصل تھی۔
مولانا مفتی عثمانی نے اپنے علاقے خطہ سیمانچل کی تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کے لئے فراغت کے بعد اپنے گاؤں مدھوبنی میں ۱۹۸۹ء میں جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ قائم کیا، اور شب و روز اس کی آبیاری میں لگ گئے ،ان کی جدوجہد آج جامعۃ القاسم ایک تناور درخت بن کر نہ صرف اپنے علاقے بلکہ بہار و اطراف کے نونہالان کی علمی تشنگی بجھانے میں مصروف ہے۔
مفتی صاحب نے زمانے کے چیلنج و قبول کرتے ہوئے جہاں کئی تحریک چلائی وہیں انہوں نے ایک یونیورسٹی کے قیام کا بھی خواب دیکھا تھا۔ جس کا سنگ بنیاد دو سال قبل انہوں نے جامعۃ القاسم کے احاطے میں رکھا تھا۔ اس کے علاوہ شیخ زکریا اسپتال اور انسان کالج بھی ان کے عملی منصوبے میں شامل تھا۔مفتی صاحب کا ایک بڑا کارنام پیام انسانیت کی تحریک اور بہار میں تحریک تحفظ ختم نوبت کی شکل میں ہے۔ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کے سانحۂ ارتحال کی خبر جیسے ہی ملی ملک بھر کے ملی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی۔ مولانا آزاد یونی ورسٹی کے وائس چانسلر پدم شری اختر الواسع نے مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کے سانحہ ارتحال کو اپنا ذاتی نقصان بتاتےہوئے کہاکہ مفتی صاحب انقلابی شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی زندگی جہد مسلسل سے عبارت ہے۔ انہوں نے ان کے صاحبزادہ قاری ظفر اقبال مدنی سے اظہار تعزیت پیش کرتےہوئے کہاکہ بہار میں تعلیمی اور ملی شعبے میں مفتی عثمانی کی خدمات ناقابل فراموش ہیں۔ انہوں نے کہاکہ رد قادینیت کے لئے بھی مفتی صاحب نے بڑاکام کیا۔ اللہ تعالیٰ ان کی حدمات کو قبول فرمائے۔ اظہار تعزیت پیش کرنے والوں شاہی امام مولانا سیداحمد بخاری، مولانا انیس الرحمن قاسمی،مفتی ارشد فاروقی،سراج الدین اجمل۔ حاجی شفیع اللہ عراقی۔ حاجی رضوان۔ قاری محمود حسن اورمفتی احمد نادر قاسمی شامل ہیں۔