کھٹر نے کہا ہریانہ میں کورونا پھیلاؤ کے لئے کسان تحریک ذمہ دار، کرناٹک اور دہلی میں کیا تھی وجہ!

کھٹر نے کہا ہریانہ میں کورونا پھیلاؤ کے لئے کسان تحریک ذمہ دار، کرناٹک اور دہلی میں کیا تھی وجہ!

ہریانہ کے وزیراعلی منوہر لال کھٹر نے کسان مظاہرہ میں بیٹھے کسانوں کے نقل و حرکت کو کورونا کے پھیلاؤ کے لئے ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔
پورے ملک میں کورونا کی دوسری لہر نے قہر ڈھایا ہے اور اس میں کئی ریاستیں تو بری طرح متاثر ہوئی ہیں جن میں مہاراشٹر، کرناٹک، اتر پردیش اور دہلی شامل ہیں اور مغربی اترپردیش کو چھوڑ دیا جائے تو یہاں پرزرعی قوانین کے خلاف کسانوں کے مظاہرہ بھی نہیں ہورہے ہیں۔ دہلی کی سرحدوں پر یہ مظاہرہ جاری ہیں ۔
ہریانہ کےوزیر اعلی منو ہر لال کھٹر نے اتوار کو ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ میں کورونا کے پھیلاؤ کی وجہ کسان تحریک ہے اور کچھ گاؤں میں اموات کی شرح غیر معمولی زیادہ رہی ہے۔کھٹر نے پہلے بھی کورونا وائرس کےحالات کو دیکھتے ہوئے یہ تحریک واپس لینے کی اپیل کی تھی۔
ورچوئل پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ کچھ گاؤں میں اموات کی شرح دس گنا بڑھ گئی ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر کوئی یہ کہتا ہے کہ یہ اموات کووڈ کی وجہ سے نہیں ہوئی ہیں تواس وقت کوئی اور وبا تو ہے نہیں ۔ کھٹر نے کہا وباکے پھیلنے کی ایک بڑی وجہ کسان تحریک ہے۔انہوں نے کہا ’’ہزاروں لوگ ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور وہ کورونا سے متعلق احتیاط بھی نہیں کرتے‘‘۔ انہوں نےکہا کسان تحریک پر بیٹھے یہ لوگ جب گاؤں میں آتے جاتے ہیں تو اس سے کورونا وبا پھیلتی ہے۔
اس موقع پر انہوں نے ہریانہ کے سابق وزیر اعلی بھوپندر سنگھ ہڈا کی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ کل جماعتی میٹنگ کا تو مطالبہ کرتے ہیں لیکن ان کسانوں سے اپنی تحریک واپس لینے کے لئے نہیں کہتے۔ کھٹر نے اس وقت حدکر دی جب انہوں نے کہا کہ وہ ہڈا کے لکھے گئے خط کو جواب دینے لائق ہی نہیں سمجھتا ۔
واضح رہے ہریانہ حکومت شروع سے ہی کسان مظاہروں کے خلاف ہے اور دوسری جانب کورونا وبا کی دوسری لہر کے دوران حکومت کے کام کاج پر سوال کھڑے کئے جا چکے ہیں اس لئے کھٹر کے بیان کو حکومت کی ناکامی سے توجہ ہٹانے کے طور پر دیکھا جا رہاہے۔مبصرین کا کہنا ہے کہ دوسری لہر کے دوران کسانوں کی نقل و حرکت نہ کے برابر رہی کیونکہ وہ ان کی کھیتی کا وقت تھا۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *