تحفظ ناموس رسالت کیلئے مفتی محفو ظ الرحمن عثمانی کی خدمات ناقابلِ فراموش

تحفظ ناموس رسالت کیلئے مفتی محفو ظ الرحمن عثمانی کی خدمات ناقابلِ فراموش

مفتی عثمانی کی شخصیت ہمہ جہت تھی اور زندگی کا ہر ایک پہلو روشن اور تاباں تھیں: بین الاقوامی آن لائن تعزیتی جلسہ میں شرکاء کا اظہارِ خیال

نئی دہلی: (ملت ٹائمز) تحفظ ناموس رسالت اور تعلیم کے فرو غ کےلئے مفتی محفوظ الرحمان عثمانی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے بین الاقوامی آن لائن تعزیتی جلسے کے شرکا نے کہا کہ حضرت مفتی محفوظ الرحمن عثمانی ؒ نے شمالی بہار کے دور افتادہ علاقہ سیمانچل میں قادیانیت کا قلع قمع اور تحفظ ناموس رسالت کےلئے جو کارہائے نمایاں انجام دیا ہے وہ ناقابل فراموش ہے ۔ اس کے علاوہ دینی و عصری تعلیم کے فروغ کےلئے مفتی محفوظ الرحمن عثمانی ؒ کی خدمات ان کی زندگی کا سنہرا باب ہے۔
خیال رہے کہ کورونا وائرس سے شکار ہونے کے بعدمفتی محفوظ الرحمن عثمانی دو ہفتے سے زاید اسپتال میں موت و زندگی سے جدوجہد کرنے کے بعد 23مئی کوشام پانچ بجے اپنے رب حقیقی سے جاملے ۔ 24مئی کو جامعۃ القاسم داراالعلوم الاسلامیہ کے احاطے اور جامع امام قاسم کے پہلو میں انہیں سپرد خاک کردیا۔کورونا پروٹوکو ل کے باوجود ہزاروں افراد ان کے نماز جنازہ میں شریک تھے۔ حضرت مفتی صاحب کے اچانک رحلت کی وجہ سے نہ صرف سیمانچل بلکہ پوری دنیا میں پھیلے حضرت مفتی صاحب کے دوست و احباب، متعلقین و متوسلین غم زدہ ہیں ۔ 30 مئی کو پدم شری پروفیسر اختر الواقع چانسلر جودھپور یونویرسٹی کی صدرات میں بین الاقوامی آن لائن تعزیتی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں برطانیہ، ری یونین، دبئی، سعودی عرب ، جنوبی افریقہ ، ویسٹ انڈیز اور ہندوستان سے بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی ۔اس کے علاوہ تعزیتی نشست کو ملت ٹائمس کے فیس بک اور یوٹیوب پر بھی لوگوں نے دیکھا۔
مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ حضرت مفتی ؒ کا میں رفیق رہا ہوں، ان کے کاموں کو بہت ہی قریب سے دکھا ہے ۔وہ ایک دل درمند، شاہیں کا جگر اور عزم و حوصلہ کے انسان تھے۔ پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ وہ ہمہ وقت مسلمانوں کی تعلیمی ، سماجی اورمعاشی ترقی کےلئے فکر مند رہتے تھے۔ سیمانچل میں جامعۃ الاما القاسم دارالعلوم الاسلامیہ جیسا عظیم ادارہ قائم کرنے کے بعد وہ اسلامک یونیورسٹی قائم کرنے کےلئے کوشاں تھے۔ انہوں نے اس کےلئے نہ صرف خاکہ بنایا تھا بلکہ زمین بھی حاصل کرلی تھی ۔ کورونا بحران کی وجہ سے یہ منصوبہ تاخیر کا شکار ہوگیا، مگر اب حضرت مفتی ؒ ہمارے درمیان سے رخصت ہوگئے۔پروفیسر اختر الواسع نے کہا کہ مجھے امیدہے کہ ان کے وارث قاری ظفر اقبال مدنی اپنے والد کے اس خواب کی تکمیل کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس طرح میں سے حضرت مفتی صاحب کی زندگی میں اس ادارے سے وابستہ تھا، اسی طرح ہمدرد ی میری قائم رہے گی اور میں ہر موڑ پر قاری ظفر اقبال مدنی کے ساتھ تعاون کرتا رہوں گا۔
ندوۃ علما لکھنو کے مہتمم مولانا سعید الرحمن اعظمی ندوی خرابی صحت کی وجہ سے گرچہ شریک نہیں ہوسکے مگر انہوں نے اپنے ویڈیو پیغام میں مفتی صاحب کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ وہ بلند عزائم والے انسان تھے اور ہمہ جدوجہد کرنے والی شخصیت تھے۔ ان کے اچانک رحلت سے ملت اسلامیہ ایک عظیم شخصیت سے محروم ہوگئی ہے۔
دارالعلوم فلاح دارین ترکیسر کے رئیس اور ری یونین میں مقیم مولانا خلیل احمد راوت نے مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کی رحلت کو ملت اسلامیہ کےلئے عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ مفتی محفوظ الرحمن عثمانی جیسی شخصیت کی اس ملک کو سخت ضرورت تھی۔ملک جس بحران سے گزر رہا ہے اور ہندوستانی مسلمانوں کوجن مشکلات و مسائل کا سامنا ہے ایسے میں حضرت مفتی محفوظ الرحمن عثمانی جیسی شخصیت کی سخت ضرورت تھی ۔انہوں نے کہا کہ بہارکے مسلمانوں کی تعلیمی ترقی کےلئے وہ فکر مند رہتے تھے۔ ان کے منصوبے و عزائم بلند تھے۔مسقط سے حافظ واصف نے حرم شریف کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مفتی صاحب کو میزاب رحمت کے قریب دعا مانگتے دیکھا کہ ان کی پوری دعا جامعۃ القاسم دار العلوم الاسلامیہ کی ترقی کےلئے ہی دعا مانگتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی سانسوں میں جامعۃ القاسم کی ترقی اور اسلامک یونیورسٹی کے قیام کا خواب بستا تھا۔ وہ اس کےلئے کوشاں تھے اپنی زندگی کی راحت و آرام کو اس کےلئے تج دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ حضرت مفتی صاحب کو بہتر خراج عقیدت یہی ہوگاکہ ان کے عزائم و منصوبے کی تکمیل کی جائے ۔
دارلعلوم دیوبند کے شعبہ تحفظ ختم نبوت کے ناظم اعلیٰ مولانا شاہ عالم گورکھپوری نے تحفظ ناموس رسالت کےلئے حضرت مفتی کی کاوشوں اور جدو جہد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جس وقت سیمانچل میں قادیانیت اپنا پاؤں پھیلانے کی کوشش کررہا تھا اس وقت حضرت مفتی صاحب نے دارالعلوم دیوبند کی سرپرستی میں عظیم الشان تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا اور اس قدر حسن انتظام یہ ان کا ہی حصہ ہوچکا تھا۔انہوں نے اس وقت بہار سیلاب کی زد میں تھا۔ ہرطرف پانی ہی پانی تھا۔ کہیں پہنچنا مشکل تھا مگر مفتی صاحب ہر ناممکن کو ممکن بنایا اور گاؤں پہنچ کر قادیانیت کا قلع قمع کردیا۔ انہوں نے حضرت مفتی صاحب کی مقبولیت و مغفرت کےلئے یہی کافی ہے، مگر اس کے علاوہ انہوں نے مختلف شعبوں میں کام کیا ہے۔ جامعۃ القاسم کی یہ شاندار عمارت اور کیمپس ان کی عظمت وتقدس کی گواہی دے رہا ہے۔
امار ت شرعیہ پھلواری شریف کے سابق ناظم حضرت مولانا انیس الرحمن قاسمی نے حضرت مفتی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ وہ ملت اسلامیہ کے ہر کاز میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف جامعۃ القاسم دارالعلوم الاسلامیہ کےلئے فکر مند نہیں رہتے تھے بلکہ دوسرے اداروں کا بھی تعاون کرنے کےلئے ہمہ وقت تیار رہتے تھے، کیوں کہ پیش نظر اسلام کی حقانیت اور سرخروئی تھی۔انہوں نے اس طرح کے ظرف کے لوگ بہت ہی کم ہوتے ہیں ۔ریڈیو سیرہ برطانیہ کے سربراہ مفتی عبدالرحیم دیوان نے کہا کہ وہ برطانیہ آتے تھے توان کی گفتگو کا مرکز مسلمانوں کی تعلیمی ، سماجی ترقی ہوتی تھے۔ ان کے منصوبے و عزائم بلند تھے اور اس کو وہ جلد سے جلد زمین پر اتارنے کےلئے کوشاں رہتے تھے۔اس موقع پر برطانیہ سے معین کوئلا، چیمسٹ لندن اور اشرف صاحب برطانیہ نے بھی اظہارِ خیال کیا۔
مولانا کلیم اختر قاسمی جامعہ ام القریٰ مکہ مکرمہ نے حضرت مفتی صاحب کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہم ہندوستانی طلبا نے انہیں جامعہ ام القریٰ میں جب دعوت دی تو وہ آئے اور بہار کے مسلمانوں کی تعلیمی ، سماجی مسائل پر روشنی ڈالی ۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم لوگوں نے دارلعلوم دیوبند ، مظاہر علوم سہارن پور اور ندوۃ علما کے طلبا کے سعودی عرب کی یونیورسٹیوں میں داخلے کےلئے کی راہیں آسان کرنے کےلئے کوشش شروع کرنے کی بات کی تو انہوں نے فوری طور پر پیش کش کردی کہ اس معاملے معاملے وہ ہرممکن مدد کرنے کو تیار ہیں ۔انہوں نے کہا کہ حضرت مفتی صاحب ہمیشہ کے ہم طلبا کی خبر گیر کرتے تھے۔ جامعہ ام القریٰ مولانا شمیم نے کہا کہ حضرت مفتی صاحب نیپال میں ایک بڑے تعلیمی ادارے کے قیام کے خواہش مند تھے۔ وہ فرماتے تھے نیپال میں ابھی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب آپ لوگ وہاں جائیں تو کام کریں اور میں آپ لوگوں کے ساتھ تعاون کرنے کو تیار ہوں ۔ مدینہ منورہ میں مقیم مولانا حکیم عثمان مدنی قاسمی نے حضرت مفتی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت مفتی صاحب امام قاسم نانوتویؒ کے روحانی وارث تھے۔ انہیں حضرت امام قاسم نانوتویؒ سے نہ صرف عقیدت تھی بلکہ وہ امام قاسم کے مشن کو تکمیل تک پہنچانے کےلئے سرگرداں رہتے تھے۔
اس موقع پر مفتی محفوظ الرحمن عثمانی کے صاحب زادے قاری ظفر اقبال مدنی نے اپنے والد کے خوابوں کو تعبیر کا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ ان کے اچانک رحلت سے نہ صرف ہم بھائی بہن ییتم ہوگئے ہیں، بلکہ سیکڑوں یتیم بچے اور بیوائیں آج غمزدہ ہیں۔میرے والد کے خواب و منصوبے عظیم تھے ، وہ ملت اسلامیہ کی ترقی کیلئے کوشاں رہتے تھے۔
بین الاقوامی سمینارمیں دبئی سےمولانا مفتی ثمین اشرف قاسمی، قاری اسماعیل بسم اللہ مہتمم جامعہ کفلیتہ گجرات ،مفتی ارشد فاروقی، جے این ایو کے پروفیسر محمد اجمل ، اسلامک فقہ اکیڈمی کے مفتی نادر قاسمی ، مولانا عارف قاسمی شیخ الحدیث جامعہ پاؤنولی گجرات، روزنامہ انقلاب کے نیوز ایڈیٹر شاہ عالم ، مشہور صحافی مولانا رضوان الحق قاسمی، مولانا عبد الواحد قاسمی، مدرسہ تجوید القرآن کے ناظم اعلیٰ مولانا محمود الحسن ، ڈاکٹر شہاب الدین ثاقتب، ملت ٹائمس کے ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی ، شاہ جہاں شاد، مولانا شمشاد قاسمی مسقط، اور دیگر احباب نے اظہارِ خیال کیا۔ اس موقع پر جامعۃ القاسم کے صدر مدر مفتی انصار اور جامعہ کے دیگر اساتذہ موجود تھے۔

Comments: 0

Your email address will not be published. Required fields are marked with *